ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہید سندھ کی سیاست کی توانا آواز تھے ،

تحریر: رشید احمد خاکسار

روئے زمین پر بعض ایسی ہستیاں نمودار ہوتی ہیں جو تادیر اپنے نقوش چھوڑ جاتی ہیں اور ایک دنیا ان ذوات قدسیہ کی تعلیمات اور افکار سیاست سے مستفید ہوتی رہتی ہے ۔ پاکستان کی انہی شخصیت ساز ہستیوں میں ایک گرانقدر ہستی شہید اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو رحمۃ اللہ علیہ کی ہے ۔ ایک طرف جن کے فیض صحبت سے ہزارہا چراغ علم روشن ہوئے اور ایک جہاں کو روشن و منور کررہے ہیں تو دوسری طرف ملکی سیاست میں انکے چرچے اب تک جاری ہے ۔ شہید اسلام نے سینکڑوں پتھروں کو حسن سلیقہ سے تراش کر ہیرا بنایا ہے۔

تعلیم و تربیت اور تدریس و تزکیہ و سیاست پیغمبرانہ فرائض اور نبوت کی وراثت ہے ۔ بہت سے افراد سیاست کے شعبے سے وابستہ ہوتے ہیں لیکن معدودے چند ہی فکرسازی اور شخصیت سازی کا ہنر جانتے ہیں، دوسروں کیلئے اخلاق و کردار کے قابل تقلید نمونہ بنانا بلاشبہ پیغمبرانہ وراثت کا جزہے جو ہر کسی کا حصہ نہیں ۔

مذید پڑھیں : طلبہ و والدین کیلئے خوشخبری ، سکول مالکان کیلئے اہم ہدایات جاری

شہید اسلام علامہ ڈاکٹرخالدمحمود سومرو رحمۃ اللہ علیہ نے اولیاء کرام کی دھرتی سندھ میں ایک مذہبی گھرانے میں ایسے وقت آنکھ کھولی جب سندھ پر وڈیرانہ سلطنت کی گرفت مضبوط تھی ، حضرت ممدوح نے اس سندھ کی دھرتی سے اپنی علمی و سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور یہ کہنا بجا ہوگا کہ انہوں جمعیت کے آغوش میں ہی اپنی زندگی کی ابتداء کی. ان کی ملی و قومی جدوجہد کسی سے مخفی نہیں ۔

شہید اسلام نے ہمیشہ مظلومیت کے لیے صدا بلند کی اور بلاتفریق ملک کے تمام صوبوں کے حقوق کے لئے اور انکی بقاء کیلئے جدوجہد کرتے نظر آئیں. انکی جنگ پرامن اور شاہی وڈیروں کے خلاف تھی .

انہوں نے سلطنتوں اور حکومتوں کے عروج وزوال کو دیکھا ، تخت و تاج کی شان و شوکت اور بے وقعتی و بے وقاری کو دیکھا ، قوم و ملت کے لٹنے اور اُجڑنے کے بعد قوم و ملت کے باہمت و فکرمند افراد کو بازیابی کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا ۔ علمی اداروں میں علمی ، فکری اور معاشی بحرانوں کا مشاہدہ کیا، خود اپنی ذاتی زندگی میں کئی نشیب و فراز سے گزرے بالآخر 29 نومبر 2018 کو صبح فجر کی نماز میں سجدے کی حالت میں حق الیقین اور عین الیقین کی منزل پر پہنچے اور ہم خوشہ نشینوں اور نعلین برداروں کو اپنی بیش بہا زندگی کے انمول تجربات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے بارہا قوم و ملت کی تقدیر کے بارے میں فرماتے ؎

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے
شمشیر و سناں اول ، طاؤس و رباب آخر

غیرقوم کی اسلام کے خلاف منصوبہ بند سازشوں اور مذہبی رہنماؤں کی ناعاقبت اندیشی اور باہمی ریشہ دوانیوں کے بارے میں فرماتے ؎

دین کافر ، فکر و تدبیر جہاد
دینِ ملا فی سبیل اللہ فساد

اتحادملت پر کافی زور دیتے اور فرماتے کہ آج کے دور میں اُمت اسلامیہ کو ایمان مجمل اور ایمان مفصل کی بنیاد پر جمع ہونے کی ضرورت ہے ۔ جس کاعقیدہ ایمان مفصل میں بیان کردہ عقائد پر قائم ہو ، اس سے تناؤ اور برسرپیکار ہونے کے بجائے اُمت اسلامیہ کے عمومی کاز اور دشمنان دین کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے اور قوم و ملت کی ارتقاء کے لئے متحدہ جد و جہد کو ناگزیر قرار دیتے۔

مڈید پڑھیں : گستاخانہ مواد کیس میں FIA افسران کیلئے جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے تاریخ ساز ریمارکس

تقریباً اپنی پوری زندگی جمعیت علماء اسلام کے لئے وقف کرچکے تھے. انہوں نے سیاست کے ساتھ ساتھ درس تدریس میں اعلیٰ مقام حاصل کیا ، حضرت قبلہ علیہ الرحمۃ کو قرآن مجید سے حد درجہ لگاؤ تھا اور جب بھی قرآن مجید کی تلاوت فرماتے رقت طاری ہو جاتی اور آنسو رواں دواں ہو جاتے اور متعدد افراد کی فکرسازی کی اور ان کو سیدھے راستے پر قائم فرمایا ۔ آپ کا مطالعہ حد درجہ وسیع تھا ، جن کا مطالعہ وسیع ہوتا ہے ان کے نظریات و افکار میں بھی وسعت و آفاقیت ہوتی ہے وہ دین میں شدت پسندی کے حد درجہ خلاف تھے ۔ بہت ہی کم ایسے افراد روئے زمین پر رونما ہوتے ہیں جن کے نقوش سے کئی نسلیں مستفید ہوتی ہیں ؎

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *