پاکستان کو FATF کی گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے FIA کی حکمت عملی محدود ہو گئی ۔ رپورٹ

رپورٹ : شہزاد خان

کراچی ، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے ایف آئی اے کی ڈائریکٹر کانفرنس میں حوالہ ہنڈی ، ٹیرر فنانسنگ ، کرنسی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث مافیا کے خلاف حکمت عملی دستاویزات تک محدود ہوگئی ، ڈائریکٹر کانفرنس میں اکنامک کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے تمام صوبوں میں تعینات ڈائریکٹرز کی کارکردگی پرسوالیہ نشان لگا دیا ۔

ڈائریکٹر کانفرنس ختم ہوئے ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود طے شدہ معاملات پر عمل درآمد شروع نہیں ہوسکا، قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر مجیب الرحمن کا کہنا ہے کہ تمام معاملات کو ترجیح بنیاد پر ہیں جو عمل درآمد نہیں کرئے گا وہ زمہ دار ہوگا ۔ ملک میں حوالہ ہنڈی ، ٹیرر فنانسنگ ، منی لانڈرنگ ، کرنسی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے مستقبل کا لائحہ عمل اور گزشتہ کارروائیوں سے متعلق جائزہ لینے اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ہدایت پرعمل درآمد کے لئے ایف آئی اے کے ہیڈ کواٹر اسلام آباد میں گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں ڈائریکٹر کانفرنس کا نعقاد کیا گیا تھا ۔

جس میں ملک بھر کے زونز میں تعینات ڈائریکٹرز اور ہیڈکواٹر میں تعینات ڈائریکٹرز نے شرکت کی تھی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹرز کانفرنس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر اکنامک کرائم ونگ نے تمام زونل افسران کی توجہ 4 اکتوبر2019 کے نوٹس پر مرکوز کرائی جس میں ایف آئی اے اور کاوئنٹر ٹیرارزم ونگ کے تمام ڈائریکٹرز کو سات نکات پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی کہ ایف اے ٹی ایف کی حوالہ ہنڈی ،منی لانڈرنگ ،ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لئے کچھ تجاویز دی گئی تھیں جس پر عمل درآمد کرنا تھا اور اس گھناونے کاروبارکی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھانے ۔

تاہم کسی بھی زون سے نہ ہی ان ہی ہدایات پر عمل درآمد کیا گیا اور نہ ہی کسی زون کی جانب سے رپورٹ جمع کرانے کی زحمت کی گئی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اکنامک کرائم ونگ کی جانب سے دئیے گئے سات نکات کے لئے ایف آئی اے اور کاوئنٹر ٹیرارزم ونگ کے تمام زونل ڈائریکٹرز کو ایک بار پھر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے ۔اکنامک کرائم ونگ کے دئیے گئے نکات کے مطابق2015 سے مختلف حساس اداروں کی جانب سے فراہم کردہ معلوما ت کو فارم کی صورت میں ترتیب دے کر تمام زونل دفاترمیں تقسیم کرانا ہے اور ان معلومات کی روشنی میں زونل افسران اپنے ماتحت افسران کو کارروائیوں کی اجازات دیں گے ۔

دوسرے نکتے کے مطابق ملک بھر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سروے کے مطابق 436مقامات کی نشاندہی کی کی گئی ہے جو اس کاروبار سے منسلک ہیں اور اس سروے رپورٹ کو اکنامک کرائم ونگ کے ذریعے تمام ایف آئی اے کے زونل دفاتر تک منتقل کیا گیا کہ اس سروے لسٹ کے مطابق انکوائری کر کے تصدیق کرائی جائے اور اس نکتے کو ایف اے ٹی ایف میں انتہائی حساس قرار دیا گیا لیکن کسی بھی زونل آفس میں اس سروے لسٹ کو اہمیت نہیں دی گئی اور حتی کہ اس پر رپورٹس بھی تیار نہیں کی گئی۔

تیسرے نکات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ کی378پر مشتمل فہرست کو تمام زونز میں تقسیم کیا گیا تھا تاہم کسی بھی زون کی جانب سے کوئی رپورٹ اس فہرست کے مطابق جمع نہیں کرائی گئی ۔

چوتھے نکات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اکنامک کرائم ونگ کے ذریعے ایسی 36منی ایکسچینج کمپنیوں کی تفصیلات طلب کی تھیں جن کے خلاف ایف آئی اے نے تاحال مقدمات کا نادراج کیا گیا ۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ کمپنیاں تفتیش کے دوران کتنی ملوث ہیں تاکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستا ن ایف آئی اے کی تفتیش کی روشنی میں منی ایکسچینج کمپنیوں کی فہرست پر ازسرنو غور کرئے تاہم تین بار نوٹس کے ذریعے طلب کرنے کے باوجود کسی بھی زون سے درج کئے گئے مقدمات اور ان کی تفتیش کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا ۔

پانچویں نکات کے مطابق تما م زونز اور ہیڈکواٹر میں تعینات ایسے افسران جو ماضی میں حوالہ ہنڈی ،منی لانڈرنگ کے مقدمات کی تفتیش کرچکے ہیں ایسے افسران کی فہرست تشکیل دی جائے اور ان کے لئے مناسب ٹریننگ کا بندوبست بھی کیا جائے ۔چھٹے نکتے کے مطابق حوالہ ہنڈی ، منی لانڈرنگ ، ٹیررفنانسنگ جیسے حساس معاملات کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے اس غیر قانونی کاروبار سے وابستہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مستقل بنیادوں پر کارروائی عمل میں لائی جائے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف کوئی بھی انکوائری یا مقدمے کے اندراج کے بعد اسے طے شدہ مدت میں مکمل نہیں کیا جاتا ۔

اس لئے ضروری ہے کہ اس حساس معاملے کو طے شدہ مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے ۔ساتواں نکات کے مطابق حوالہ ہنڈی ،ٹیررفنانسنگ ،منی لانڈرنگ جیسے معاملات کے عدالتوں میں جاری مقدمات پر پراسیکوشن سے زونل ڈائریکٹرز سطح کے افسران ملاقات کریں اور ان سے درخواست کی جائے کہ اس طرح کے مقدمات پر جلد ازجلد سماعت کر کے فیصلہ کیا جائے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر کانفرنس ختم ہوئے ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود بھی ان فیصلوں پر عمل درآمد شروع نہیں کیا جا سکا جب کہ ایف آئی اے سندھ زون میں صرف اسٹیٹ بینک سرکل کے افسران کو ہی حوالہ ہنڈی کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی جب کہ باقی سرکل کے افسران کو اس کارروائی سے روک دیا گیا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں تمام سرکل سے حوالہ ہنڈی ،منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائی جاتی رہی ہیں لیکن ایف آئی اے میں تعینات اعلیٰ افسران کی مداخلت پر یہ کارروائیاں روک دی جاتی تھیں ۔اس ضمن میں قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر مجیب الرحمن نے رابطہ کرنے پر کہا کہ ڈائریکٹر کانفرنس میں تمام افسران کو ٹاسک دے دیا گیا ہے اور اب جو کام نہیں کرئے گا وہ خود اس کا زمہ دار ہوگا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *