واٹر بورڈ کے ایم ڈی نے کمانے والے افسران کو 2 دو عہدوں سے نوازدیا،جونیئر بھی 2 سے 3 عہدوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔

رپورٹ۔اختر شیخ

واٹر بورڈ کے ایم ڈی نے کمانے والے افسران کو 2دو عہدوں سے نوازدیا ،جونیئر بھی دو سے 3عہدوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔

الرٹ نیوز کی جانب سے واٹر بورڈ کے ایسے افسران کی لسٹ تیار کی گئی ہے جس میں انہوں نے آمدن سے زائد اثاثے بنا رکھے ہیں جب کے متعدد کے پاس متعلقہ تعلیمی دستاویزات ہی نہیں ہیں اور بعض افسران دہری شہریت بھی رکھتے ہیں جبکہ ایم ڈی کے علم میں ہونے کے بعد بعض افسران کو مسلسل نوازہ جارہا ہے ۔

الرٹ نیوز کو حاصل ہونے والی دستاویزی ثبوتوں کے مطابق ادارہ فراہمی و نعکاسی آب کے منیجنگ ڈائریکٹر اسداللہ خان خود بھی خلاف ضابطہ طور پر ایم ڈی کے عہدے پر براجمان ہیں ،اسداللہ خان مکینیکل انجنیئر ہیں جبکہ واٹر بورڈانجنیئرنگ ادارہ ہونے کے ناطے اس اعلی عہدے پر گریڈ20کے الیکٹریکل انجنیئر کو منیجنگ ڈائریکٹر بنایا جانا چاہئے ہے ۔

منیجنگ ڈائریکٹر اسداللہ خان نے اپنی تعیناتی کے بعد اپنے من پسند افسران کو دو اور 3عہدوں پر بیک وقت تعینات کررکھا ہے جس  سے ایک جانب ادارے میں ایمانداو اہل افسران کی حق تلفی ہورہی ہے تو دوسری جانب ادارے میں شدید مالی کرپشن بھی پروان چڑھ رہی ہے ۔ایم ڈی نے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجنیئر کو ایکسین کا چارج دے رکھا ہے جبکہ ایکسین کو چیف سیکورٹی آفیسر بنا کر شہر میں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔

واٹر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اسداللہ خان کے حکم پر ہیومین ریسورس ڈیپارٹمنٹ میں تعینات ڈائریکٹر پرسنل  حشمت اللہ صدیقی نے  17 ستمبر کو  ایک لیٹرنمبر  kwsb/HRD&A/D.P/2603 جاری کیا ،جس میں انہوں نے ماہانہ کورنگی میں کروڑوں روپے اوپر کی آمدنی کمانے والا سپرٹینڈنٹ انجنیئر سعید احمد شیخ  کو مزید نوازتے ہوئے  ڈپٹی  چیف انجنیئر تعینات کردیا ہے ۔جس کے بعد سول انجنیئر روشن دین میمن کو دوسرا عہدہ دیتے ہوئے ضلع کورنگی کا سپرٹینڈنٹ انجنیئر تعینات کردیا ہے ۔روشن دین شیخ کے پاس پہلے سے سپرٹینڈنٹ انجنیئر جمشید ٹاؤن  تعینات ہیں ۔

سعید شیخ کو ڈپٹی چیف انجنیئر بنانے کا حکم نامہ

 

اسداللہ خان کی ٹیم کا انتہائی بااعتماد افسرمحمد  ثاقب ہے ،الرٹ نیوز موصول ہونے والی فائل کے مطابق  محمد ثاقت نے غیر قانونی طور پر اپنی پروموشن کرائی ہے ،ثاقب اس وقت منیجنگ ڈائریکٹر اسداللہ خان کو ماہانہ دو کروڑ روپے کما کر دے رہا ہے جس کی وجہ سے اسےدو اعلی عہدوں پر تعیناتی کرائی گئی ہے جس میں ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر فنانس،ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر  ریونیو ،ریسورس اینڈ جنریشن (آر آر جی )شامل ہیں ۔محمد ثاقب اپنے پرانے دوست سید عمران زیدی  سے مل کر ماہانہ تین کروڑ روپے صرف 33فیصد کمیشن کی مد میں کما رہا ہے ۔

ایم ڈی اسداللہ خان نے 28اگست 2019کو حکم جاری کہ ان کے چہیتے جونیئر افسر دلاور جعفری کا ایکسین تعینات کیا جائے جس کے بعدڈائریکٹر پرسنل نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے لیٹر نمبر KWSB/HRD&A/D.P/2466 جاری کیا جس میں  گریڈ 17کے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجنیئر (اے ای ای )سید دلاور جعفری کا ایگزیکٹیو انجنیئر (ای ای )ضلع کورنگی کے ماڈل زون میں تعینات کردیا  جبکہ اس عہدے پر موجود گریڈ 18 کے افسر زاہد احمد کو ہٹا کر سپرٹینڈنٹ انجنیئر ضلع کورنگی کے پاس تاحکم ثانی رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

 

جونیئر افسر دلاور جعفری کو نوازنے کا لیٹر

 

دلاور جعفری کے بارے میں بتایاجاتا ہے کہ اعلی افسران کی مہربانیوں کی وجہ سے انہیں بیرون ملک ٹریننگ پر بھیجا گیا تھا جب کہ دلاور جعفری ٹریننگ سے واپسی پر خلاف ضابطہ کام کرنے میں مصروف ہیں ۔اس وقت ادارے میں گریڈ 17 کے 6 سینئر افسران اور گریڈ 18 کے 4 افسران پوسٹنگ کے منتظر ہیں جن کو تعینات کرکے ادارے کی بدانتظامی کو ختم کرنے کے بجائے جونیئرز کو دو دو عہدے دیئے جارہے ہیں ۔ اس سے قبل دلاور جعفری کو سابق ایم ڈی نے شکیل قریشی کے دور میں ہائیڈرنٹ انچارج کے عہدے سے کرپشن شکایات پر برطرف کیا تھا جو اعلی سیاسی و سماجی شخصیات کی سفارش پر دوبارہ تعینات ہو گیا ہے ۔

اس کے علاوہ شعیب تغلق جوخود کو ادارے کا ایماندار ترین افسرکہلاتے ہیں ان کے پاس بھی دو دو عہدے ہیں ،شعیب تغلق ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ہیومن ریسورس کے علاوہ ڈائریکٹر لینڈ بھی تعینات ہیں۔شعیب تغلق جب سے ڈائریکٹر لینڈ تعینات ہوئے  ہیں تب سے انہوں نے ادارے کی ایک انچ زمین بھی کسی سے واگزار نہیں کرائی ہے نہ ہی زمینوں کو سروے کیا ہے ۔

منیجنگ ڈائریکٹر اسداللہ خان کا ایک اور چہیتا افسر تابش رضا حسنین ہے ،تابش رضا حسنین کے پاس بھی اس وقت 3عہدے ہیں ،وہ اسکیم 36کے ایکسین  ہیں ،گلستان جوہر کے بھی ایکسین ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ واٹر بورڈ میں چیف سیکورٹی افسر کے عہدے پر بھی تعینات ہیں ۔تابش رضا حسنین  نے کلفٹن میں تعیناتی کے دوران  بے تہاشا کنکشن دیئے جس سے انہوں نے کروڑوں روپے کمائے ہیں اس وقت بھی وہ واٹر بورڈ کے چند گنے چنے امیرترین افسران میں شمار ہوتے ہیں ۔

مظہر حسین بھی ایم ڈی اسداللہ خان کی گڈ بک میں چل رہے ہیں ،مظہر حسین  دیگردہرے چارج رکھنے والوں کی طرح کمانے والی جگہ تعینات ہیں ۔مظہر حسین ای اینڈ ایم پمپنگ کے انچارج بھی ہیں جن کے ماتحت شہر کے 150سے زائد پمپنگ اسٹیشن آتے ہیں جبکہ سیور کلینگ مشینوں کے بھی انچارج ہیں  جو خود ایک انتہائی محنت طلب کام ہے ۔

اس کے علاوہ اسلام زئی کے پاس بھی دو چارج ہیں جن میں اسے کورنگی کا ایکسین بھی بنایا گیا ہے اور ساتھ ہی اسے لانڈھی کے ایکسین کا چارج بھی دے دیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ سید اعجاز حسین شاہ جس کی اپنی نجی کمپنی بھی ہے ،اس کے پاس بھی جمشید ٹاؤن کے ایکسین سیوریج اور پانی دونوں کا چارج ہے ۔اعجاز شاہ کی ٹیموں نے جمشید ٹاؤن میں ہونے والی تعمیراتی کمپنیوں سے براہ راست بلنگ کرانے کا  ٹھیکے پکڑ رکھے ہیں جبکہ پہرہ 58کے تحت ماہانہ لاکھوں روپے فائلیں نمٹائی جارہی ہیں ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close