انٹر بورڈ سائنس انجنیئرنگ کے امتحان میں طالبات پوزیشنیں لے اڑیں

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے انٹرمیڈیٹ سائنس پری انجینئرنگ کے سالانہ امتحانات برائے 2019ء میں پوزیشن حاصل کرنیوالے طلبا و طالبات نے تعلیمی نصاب کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے نصاب میں جدید نظریات کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کو نام روشن کریں گے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اور امتحانی نظام اطمینان بخش ہے مگر امتحانی مراکز میں نگرانی کا انتظام موثر نہیں،کالجوں کے اساتذ کی بھی تربیت کی ضرورت ہے۔جمعرات کو گورنمنٹ کالج برائے طلباء ناظم آباد کے قائد اعظم محمد علی جناح آڈیٹوریم میں اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت ہونے والے پری انجینئرنگ سال دوئم کے پوزیشن ہولڈرز کے اعزاز میں تقریب کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی میٹرو پولس انٹر میڈیٹ کالج فار گرلز کی طالبہ علیشبہ کا کہنا تھا کہ میری کامیابی میں میری دادی کی دعاؤں کا بڑا ہاتھ ہے میں کالج باقاعدگی سے جاتی تھی اور روزانہ کی بنیاد پر کلاس لیتی تھی مگر پڑھائی میں مزید بہتری کے لیے کوچنگ سینٹر بھی جایا کرتی تھی۔

 

ایک سوال کے جواب میں علیشبہ کا کہنا تھا کہ دنیا میں بہت جدید چیزیں آگئی ہیں اس لئے نصاب میں بھی جدید تقاضوں کے مطابق تبدیلی آنی چاہیے۔ہمارے اساتذہ کہتے ہیں کہ جو نصاب ہم نے پڑھا وہی تم لوگ بھی پڑھ رہے ہو۔ کیمسٹری کے مضمون میں ہم بہت پرانی چیزیں پڑھ رہے ہیں جدید نظریات شامل ہونے چاہیے۔ آگے چل کرملک کا نام روشن کرنا ہے یہی سوچ آگے بڑھنے کے لیے کافی ہے۔

 

دوسری پوزیشن لینے والے گورنمنٹ نیشنل کالج مارننگ کے طالب علم عنایت علی کا کہنا تھا کہ اپنی پوزیشن سے خوش ہوں۔میرے والد نے میر ی پڑھائی میں بہت مدد کی اُن سے میں نے ٹیوشن لی ہے۔میں میرے والد اور میرے پورے گھر والے ٹوکری بنا کر گذار ہ کرتے ہیں۔ نصاب اچھا ہے مگر کچھ مضامین میں تبدیلی ہونی چاہیے نئی چیزوں سے بھی طلبہ کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔

 

کراچی میں گورننس کا مسئلہ درپیش ہے بہت سے علاقوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے میں جب سے پیدا ہوا ہوں اُس وقت سے ہمارے علاقے میں پانی نہیں آرہا کراچی کے بہت سے علاقوں کو بنیادی سہولیات فراہم دینے میں نظر انداز کیا جارہا ہے۔ تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی بی اے ایم ایم پی ای سی ایچ ایس گورنمنٹ کالج فار ویمن کی طالبہ عائشہ خالد کا کہنا تھا کہ مستقبل میں انجینئرنگ کے شعبہ میں آگے بڑھنا چاہتی ہوں اور اسی شعبہ کو آگے لے کر چلوں گی۔ باقاعدگی سے کالج جایا کرتی تھی اور کالج اساتذہ کی محنت اور والدین کے حوصلے نے مجھے کامیابی کی اس منزل تک پہنچایا ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ نصاب میں تبدیلی ہونی چاہیے اور جدید معلومات کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔کالج کے اساتذ کی بھی تربیت کی ضرورت ہے اور امتحانی مراکز میں نگرانی کا نظام مزید موثر کرنے کی ضرورت ہے۔ تیسری ہی پوزیشن کرنے والے آدم جی گورنمنٹ سائنس کالج کے طالب علم عدنان علی بیگ کا کہنا تھا کہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہمارے نصاب کو بہتر اور جدید ہونا چاہیے۔ کالج کے اساتذہ کی محنت کا ثمر ہے کہ میری پوزیشن آئی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *