یٹرک بورڈ کے تحت پیر یکم اپریل سے نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات شروع

طلبہ امتحانات کے دوران موبائل فون ہر گز اپنے ہمراہ نہ لائیں خلاف ورزی کی صورت میں موبائل فون ضبط کر لیا جائے گا . ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت سالانہ امتحانات پیر یکم اپریل سے شروع ہو رہے ہیں ۔شیڈول کے مطابق صبح کی شفٹ میں نہم و دہم جماعت حیاتیات (نظری) سائنس گروپ اور دوپہر کی شفٹ میں نہم و دہم جماعت جنرل سائنس کے امتحانات لئے جائیں گے۔

چیئرمین میٹرک بورڈ پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے بتایا کہ رواں سال نویں اور دسویں کلاس کیلئے مجموعی طور پر 3لاکھ 67ہزار606 طلبہ و طالبات سائنس و جنرل گروپ کے امتحانات دیں گے جبکہ اس سال امتحانی مراکز 365 بنائے گئے ہیں جس میں 202 نجی اسکول اور 163 سرکاری اسکول شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امتحانی مراکز کو وسیع اور کشادہ بنانے کے حوالے سے میں نے ناظم امتحانات کو خصوصی ہدایت دی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سال نویں کلاس کے سائنس گروپ کے امتحانات میں ایک لاکھ58ہزار 680 جبکہ دسویں کلاس میں ایک لاکھ 63ہزار 371امیدوار شریک ہو رہے ہیں جس میں لڑکیوں کیلئے 167اور لڑکوں کیلئے198امتحانی مراکز شامل ہیں، اسی طرح جنرل گروپ کے امتحانات میں 45ہزار 555 امیدوار شریک ہوں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے بتایا کہ اس سال بورڈ آفس سے پہلے ہی ایڈمٹ کارڈ جاری کئے جا چکے تھے جبکہ نئے شیڈول کے مطابق طلبہ کو سہولت فراہم کرنے کیلئے ڈیٹ شیٹ بورڈ آفس کی ویب سائٹ پر پر ڈال دی گئی تھی جبکہ پرائیویٹ طلباء کے ایڈمٹ کارڈ ان کے رہائشی پتوں پر بھی ارسال کر دیئے گئے تھے۔ امتحانات کی نگرانی کیلئے بورڈ آفس میں رپورٹنگ سیل کے ساتھ ساتھ خصوصی ویجیلینس ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں جو کہ امتحانی مراکز کا دورہ کر کے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس بورڈ آفس میں جمع کرائیں گی۔

ڈسٹرکٹ کی سطح پر بھی مختلف ٹیمیں امتحانی مراکز کا اچانک معائنہ کریں گی جو نقل کی روک تھام کیلئے بورڈ کی خصوصی ٹیموں کے ساتھ اقدامات کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سینئر اساتذہ پر مشتمل معائنہ ٹیمیں بھی امتحانی مراکز کا دورہ کریں گی۔ چیئرمین بورڈ کی درخواست پر ضلعی انتظامیہ نے تمام امتحانی مراکز پر دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کے تحت ان مراکز پر بیرونی مداخلت پر پابندی ہو گی اور ان کے اطراف میں کام کرنے والی فوٹو اسٹیٹ کی مشینیں دوران امتحان بند رہیں گی۔

امتحانی پرچوں کی ترسیل کے لئے ایک موثر نظام تشکیل دیا گیا ہے اور یہ پرچے بورڈ کے افسران حب سینٹرز پر پہنچائیں گے جہاں سے سینٹر کنٹرول افسران امتحانی پرچے متعلقہ سینٹر پر پہنچائیں گے جبکہ یہ تمام افسران پرچے کے دوران سینٹر ہی میں موجود رہیں گے اور پرچہ ختم ہونے کے بعد اپنی نگرانی میں طلبہ کی جانب سے پُر کئے گئے جوابی پرچے سرمہر کرکے بورڈ آفس میں پہنچائیں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے مزید کہا کہ حکومت ضلعی انتظامیہ اور بورڈ کے ذریعے نقل پر قابو پانے کیلئے اجتماعی کاوش کر رہی ہے، انہوں نے طلبہ کو متنبہ کیا کہ امتحانات کے دوران موبائل فون ہر گز اپنے ہمراہ نہ لائیں خلاف ورزی کی صورت میں موبائل فون ضبط کر لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کی ہدایت پر شفاف امتحانات کے انعقاد کیلئے تمام اداروں سے تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین بورڈ نے بتایا کہ بورڈ نے (کے الیکٹرک) انتظامیہ سے امتحانات کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی تحریری درخواست کی ہے تاکہ بچے اچھے ماحول امتحانات دے سکیں .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *