سندھ میں میٹرک کی سطح پر کمپیوٹرسائنس میں 2 دہائیوں پرانا نصاب پڑھا جارہاہے .

کراچی: رسمی اورمتروک کمپیوٹرسسٹم پروگرامنگ سے موبائل کمپیوٹنگ میں تبدیل ہونے والی دنیاکے اس دورمیں حکومت سندھ کی جانب سے صوبے میں میٹرک کے طلبہ کودودہائیوں پرانے کمپیوٹرسسٹم کے نصاب کی تعلیم دینے کے دلچسپ اورحیرت انگیزانکشافات سامنے آئے ہیں۔

سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے سندھ میں میٹرک کے طلباءوطالبات کے لیے حالیہ شائع کی گئی ”کمپیوٹرسائنس“کی کتاب میں Windows operating system(ونڈوزآپریٹنگ سسٹم) کے عنوان میں Windows 98, windows NT, Windows 2000, Windows XPکواپ ڈیٹڈیاتازہ ترین اورجدیدترین آپریٹنگ سسٹم کے طورپرپیش کیاگیا ہے جبکہ ان سوفٹ ویئرکوتخلیق کرنے والے ادارہ مائیکروسوفٹ اب ان سوفٹ ویئرپراپناآپریشن اورسپورٹ بندکرکے ان کی جگہ Windows ( 2007،2008،2010اور2012)کی سیریزپیش کرچکاہے.

اسی طرح تاحال DOS کوکمپیوٹرکی تاریخ(History) کے بجائے موجودہ کمپیوٹرسوفٹ ویئراورخال خال استعمال ہونے والی کمپیوٹرلینگویج ”GW Basic“کوجدید کمپیوٹرلینگویج کے طورپرمتعارف کرایاگیاہے جبکہ پورے نصاب میں کہیں بھی حالیہ استعمال ہونے والی لینگویجز ”C“اور”C ++“کے ساتھ ساتھ ”Jawa“کاتذکرہ ہی موجودنہیں ہے کتاب میں اسٹوریج ڈیوائسز میں حالیہ ڈیوائسز کی جگہ فلاپی ڈرائیو اورمیگنیٹیووڈیوائسز(آڈیوکیسٹ)نے لے رکھی ہے اورسلیبس میں یوایس بی پورٹ کاتذکرہ موجودہے اورنہ ہی آن لائن استعمال ہونے والی ”گوگل“ودیگرآن لائن اسٹوریج ڈرائیوونصاب میں شامل ہیں یہ نصاب ایسے دورمیںپڑھایاجارہاہے جب نئے بنائے جانے والے لیپ ٹاپ کمپیوٹرزمیں یوایس بی اسٹوریج ڈرائیووکے سبب سی ڈی ڈرائیووبھی شامل نہیں کی جارہی جبکہ عملی طورپرکمپیوٹرکااستعمال بڑے پیمانے پرموبائل کمپیوٹنگ کے طورپرسامنے آچکاہے .

تاہم پوری کتاب میں موبائل کمپیوٹنگ اورجدیدسوشل میڈیااپلیکشن کاتذکرہ موجودنہیں ہے یہ نکات سندھ ٹیسکٹ بک بورڈ کی جانب سے شائع نویں جماعت کی کمپیوٹرسائنس کی کتاب کے تفصیلی جائزے کے بعد سامنے آئے ہیں.

واضح رہے کہ سندھ کے طلبہ کم از کم دودہائیوں پرانے اس سلیبس کے ساتھ چندروزبعدشروع ہونے والے میٹرک کے سالانہ امتحانات 2019میں شریک ہورہے ہیں جن کی تعداد پورے سندھ سے 7 لاکھ کے قریب ہے جس میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب تعداد صرف کراچی کے طلبہ کی ہوگی جو2019 میں بھی نویں جماعت کمپیوٹرسائنس کے 20 سال پرانے سلیبس سے امتحان دیں گے .

نویں جماعت کمپیوٹرسائنس کے سلیبس کے تفصیلی جائزے میںانکشاف ہواہے کہ اس کتاب کے ”Introduction to windows operating systemکے عنوان سے باب (chapter )نمبر8میںونڈوزکاتعارف جدیدترین ونڈوز کے ایڈیشن کے طورپر”ونڈوزایکس پی، ونڈوز 2000، ونڈوز 98 اورونڈوز NT“ کے طورپردیاگیاہے جبکہ عملی طورپرنویں اوردسویں جماعت کے سندھ کے طلبہ اپنے کمپیوٹریالیپ ٹاپ میں اب یہ آپریٹنگ سسٹم استعمال ہی نہیں کرتے .ونڈوز کے تعارف میں مزید بتایاگیاہے کہ اس آپریٹنگ سسٹم کااول ترین version ونڈوز 95 سن 1995 میں مائیکروسوفٹ کی جانب سے متعارف کرایاگیاتھاجبکہ اب اپ ڈیٹڈاورجدیدترین ونڈوس کے طورپرWindows 98, windows NT, Windows 2000, Windows XPدستیاب ہیں.

قابل ذکرامریہ ہے کہ ونڈوز کے متعلقہ ایڈیشن ناصرف اب استعمال نہیں ہوتے بلکہ مائیکروسوفٹ کی جانب سے ان versionsکی سپورٹ تک بند کردی گئی ہے اورمائیکروسوفٹ کسی error کی صورت میں ان اپلیکشنزپرکام نہیں کرے گا.

واضح رہے کہ طلبہ اپنے پرسنل کمپیوٹرپر ونڈوزکے 2007،2008اور2010کے ایڈیشنزاستعمال کررہے ہیں جبکہ کمپیوٹر ”سرور“ پرونڈوز2012 استعمال ہورہی ہے مزیدبراں اسی سلیبس میں چیپٹر7کمپیوٹرسوفٹ ویئرکے نام سے ہے اس میں معروف سسٹم سوفٹ ویئرکے طورپر ”DOS,Windows,Unix,Linux,Solaris“کا تذکرہ موجودہے اورڈوس کوتفصیلی طورپرپیش کیاگیاہے.

واضح رہے کہ یہ تذکرہ کمپیوٹرہسٹری کے بجائے موجودہ کمپیوٹرسوفٹ ویئرکے طورپرکیاگیاہے جبکہ ڈوس ایک متروک کمپیوٹرسوفٹ ویئریاآپریٹنگ سسٹم ہے جس کاعوام میں استعمال ہی نہیں ہے کتاب میں ڈوس( ڈسک آپریٹنگ سسٹم) کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ آئی بی ایم پرسنل کمپیوٹرکے لیے معروف آپریٹنگ سسٹم ڈوس ہی ہے جوکمپیوٹرکی انٹرنل میموری کوکنٹرول کرتاہے دوسری جانب بعض سوفٹ ویئرماہرین کاکہناہے کہ بعض ادارے یونیکس اورلینکس کواب بھی بڑے اورسیکیورنیٹ ورک میں استعمال کررہے ہیں تاہم کتاب میں

اس کاتذکرہ نام کی حد تک ہے مزید براں اس چیپٹرمیں پروگرامنگ لینگویج میں بیسک لینگویج کے طورپرجی ڈبلیوبیسک کاتذکرہ ہے جبکہ اس کی جگہ ”سی اورسی پلس پلس“ کے علاوہ ”جاوا“لے چکی ہے اوربین الاقوامی سطح پر ”سی لینگویج یاسی پلس پلس اورجاوالینگویج “کااستعمال ہورہاہے دنیابھرمیں ان ہی لینگویجزپرہی کام ہورہاہے جبکہ مزیدایک اہم لینگویج pythonبھی استعمال ہورہی ہے جس کاتذکرہ کتاب میں موجودنہیں.

علاوہ ازیں کتاب کے چیپٹر4اسٹوریج ڈیوائسزمیں سیکنڈری ڈیٹااسٹوریج کے طورپرمیگنیٹک اسٹوریج ڈیوائسزمیں ”فلوپی ڈسک، ہارڈ ڈسک، سی ڈی اورسی ڈی روم،میگنیٹک ٹیپ(کیسٹ) کاتذکرہ کیاگیاہےدلچسپ امریہ ہے کہ فلوپی بازارمیں دستیاب نہیں اورفلوپی ڈرائیوو کمپیوٹر کاحصہ نہیں رہی حد یہ ہے کہ اب نئے لیپ ٹاپمیں سی ڈی ڈرائیووبھی نکال دی گئی ہے اور اس کی جگہ یوایس بی اسٹوریج نے لے لی ہے جبکہ پاسپورٹ ڈرائیووبھی اسٹوریج ڈرائیووکے طورپراستعمال ہورہی ہے تاہم ان دونوں ڈرائیووکاتذکرہ کتاب میں موجودہے اورنہ ہی ڈیٹا اسٹوریج کے طورپرگوگل ڈرائیوویااس جیسی دیگرآن لائن ڈرائیووسلیبس کاحصہ بن سکی ہیں .

قابل ذکرامریہ ہے کہ موبائل کمپیوٹنگ کے اس تیز ترین دورمیں پورے سلیبس میں کہیں بھی موبائل کمپیوٹنگ کاتذکرہ ہی نہیں ہے جبکہ عملی طورپرنویں جماعت کے لاکھوں بچے خود موبائل کمپیوٹنگ سے وابستہ ہیں اوراسی موبائل کمپیوٹنگ کے ذریعے اپنی روزمرہ زندگی میں مختلف اپلیکشنز سے ٹرانسپورٹ ،شاپنگ ودیگرضروریات پوری کررہے ہیں ،تاہم تھیوری میں وہ 20سال پراناسلیبس پڑھنے پر مجبورہیں .

موبائل کمپیوٹنگ کاتذکرہ موجودنہ ہونے کے سبب نویں جماعت کے سرکاری سلیبس میں ان ہی طلبہ کے زیراستعمال فیس بک،ٹوئیٹر،ووٹس ایپ،انسٹاگرام ودیگرسوشل میڈیااپلیکشن بھی کتاب میں موجودنہیں ہیں جبکہ موبائل کمپیوٹنگ کے لیے استعمال ہونے والے آپریٹنگ سسٹم ”android“بھی سلیبس میں شامل نہیں نصاب میں کمپیوٹرسائنس سے مراد ایک 20 سالہ پرانی مشین ہے جومحض سی پی یو اور مانیٹر اورماﺅس کی بنیادپرکام کررہی ہے لیپ ٹاپ، ٹیب اورموبائل کمپیوٹنگ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈکے نصاب میں کمپیوٹرسائنس کاحصہ نہیں بن سکی ہے۔

بیوروآف کریکولم کے ڈائریکٹراصغرمیمن نے بتایا کہ سندھ میں آخری بار کریکولم میں تبدیلی 2002 میں ہوئی تھی پھر 2006 میں نیشنل کریکولم کے نام سے نیانصاب بنااس کااطلاق 2013 سے شروع ہوااب تک پہلی سے آٹھویں تک نصاب تبدیل ہوچکاہے نویں سے بارہویں کی کتابیں نئے کریکولیم پرنہیں آسکی اب اس سال یہ کتابیں نئے نصاب کے ساتھ بنا رہے ہیں مئی جون تک یہ کام ہو پائے گا لیکن پرنٹنگ میں اگلے سال جائے گا اور امید ہے کہ نویں اوردسویں کی نئی کتابیں 2020 میں آسکیں ،

ایک سوال پران کا کہناتھاکہ 2006 میں دیے گئے نیشنل کریکولم پر یہی بحث ہوتی رہی کہ یہ نصاب ڈکٹیٹر کا تیار کیاگیاہے اس کواڈاپ نہیں کریں گے پھر 2010 میں اٹھارویں ترمیم آگئی تھی اورکہاگیاکہ یہ پرووینشل سبجیکٹ ہے آخرمیں 2013 میں یہ بات سمجھ آئی کہ ڈکٹیٹرکابنایاہواکریکولم ہی بہترہے اس کے مطابق ہی نصاب میں تبدیلی کرلی جائے جوتاخیرکی سب سے اہم وجہ ہے

ایجوکیشن ڈپارٹنمنٹ سندھ کی کریکولم ہیڈ ڈاکٹرفوزیہ کاکہناتھاکہ آئندہ برس نویں جماعت کی “اپ ڈیٹڈ”بک آجائے گی تاہم ہم اسے نئی یہ یکسرتبدیل شدہ کتاب نہیں کہ سکتے انھوں نے انکشاف کیاکہ چھٹی جماعت میں پڑھائی جانے والی کمپیوٹرسائنس کی کتاب نویں جماعت کی کمپیوٹرسائنس کی کتاب سے زیادہ ایڈوانس ہے ، نصاب میں تبدیلی میں بہت تاخیر ہوچکی ہے لیکن اب ہم اس معاملے میں سنجیدہ کوشش کررہے ہیں .

چیئرمین میٹرک بورڈ کراچی پروفیسرڈاکٹرسعیدالدین کاکہناتھاکہ نویں جماعت کی کمپیوٹرسائنس کی پڑھائی جانے والی کتاب کانصاب متروک ہوچکاہے ہم ایجوکیشن ڈپارٹنمنٹ کوخط لکھ چکے ہیں ایجوکیشن ڈپارٹنمٹ کوکہاہے کہ ہم اس کامتبادل اوربہترکتاب دے سکتے ہیں تاہم اب تک کوئی اجلاس نہیں ہواجس کے سبب بات آگے نہیں بڑھی تاہم کمپیوٹر سائنس کی کتاب فوری تبدیلی ہونی چاہیے .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *