سندھ میں پرائمری کے 91 فیصد اساتذہ کو ریاضی و سائنس نہیں آتی ، رپورٹ

رپورٹ: اختر شیخ

سندھ میں پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے ڈیڑھ لاکھ اساتذہ میں سے 91 فیصد استاد ریاضی اور سائنس کے مضامین پڑھانے کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں .

سندھ ایجوکیشن لٹریسی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ایک مشاورتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا جس میں وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کے پیش کردہ اعداد و شمار سندھ میں تعلیم کی افسوس ناک صورت پیش کی گئی ہے ۔ صوبے بھر میں 42 ہزار سے زائد اسکول موجود ہیں جن میں 39 ہزار صرف ابتدائی (پرائمری) کے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پرائمری جماعتوں کے مقابلے میں سیکنڈری سطح کے طلبا و طالبات کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ڈیڑھ لاکھ اساتذہ میں سے بمشکل 9 فیصد ہی ریاضی اور سائنس پڑھانے کے قابل ہیں۔

صوبائی وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ کے مطاب سندھ کے بالخصوص دیہی علاقوں میں 10 ہزار اسکول ایک کمرے پر مشتمل ہیں، 17 ہزار 700 اسکولوں میں صرف ایک ہی استاد پڑھانے پر مامور ہے، 5 ہزار اسکولوں میں فرنیچر نہیں اور نہ ہی چھت میسر ہے وہاں جہاں کھلے آسمان تلے زمین پر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔

تعلیم سے وابستہ ایک ورکشاپ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں ہزاروں اسکول صرف ایک کمرے پر مشتمل ہیں (فوٹو: ایکسپریس ٹریبیون)
تعلیم سے وابستہ ایک ورکشاپ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں ہزاروں اسکول صرف ایک کمرے پر مشتمل ہیں (فوٹو: ایکسپریس ٹریبیون)

کراچی: سندھ میں پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے معیار اور تدریس کے متعلق خوف ناک انکشاف ہوا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ اساتذہ میں سے 91 فیصد استاد ریاضی اور سائنس کے مضامین پڑھانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

سندھ ایجوکیشن لٹریسی ڈپارٹمنٹ کے مشاورتی ورکشاپ میں وزیرِ تعلیم سندھ کے پیش کردہ اعداد و شمار سندھ میں تعلیم کی افسوس ناک صورت پیش کرتے ہیں۔ صوبے میں 42 ہزار سے زائد اسکول موجود ہیں جن میں 39 ہزار صرف ابتدائی (پرائمری) درجے کی تعلیم دے رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پرائمری جماعتوں کے مقابلے میں سیکنڈری سطح کے طلبا و طالبات کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ڈیڑھ لاکھ اساتذہ میں سے بمشکل 9 فیصد ہی ریاضی اور سائنس پڑھانے کے قابل ہیں۔

صوبائی وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ نے مزید بتایا کہ سندھ کے بالخصوص دیہی علاقوں میں 10 ہزار اسکول ایک کمرے پر مشتمل ہیں، 17 ہزار 700 اسکولوں میں صرف ایک ہی استاد پڑھانے پر مامور ہے، 5 ہزار اسکولوں میں فرنیچر نہیں اور نہ ہی چھت میسر ہے وہاں جہاں کھلے آسمان تلے زمین پر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔

سید سردار علی شاہ کے مطابق سندھ کے اسکولوں میں تعلیم کی بہتری کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ، حکومت تنہا یہ کام نہیں کرسکتی اور اسی وجہ سے ہم نے حکومتی قانون سازوں، اپوزیشن رہنماؤں، اساتذہ، صحافیوں اور سول سوسائٹی سے مدد کی درخواست کی ہے اس ضمن میں تجاویز کو تعلیمی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا۔ ہم نے اپنی خامیاں چھپائی نہیں ہیں، اس کی بجائے اپنی خامیوں کو تسلیم کیا ہے۔محکمے میں بھرتی ہوئے افسران اور دیگر عملے کا دوبارہ امتحان لیا جائے گا۔

صوبے میں موجود 3,127 اسکول غیر فعال ہیں، اگرچہ ساڑھے 7 لاکھ بچے نرسری کے درجے میں داخل کیے گئے تھے لیکن ان میں سے صرف 4 لاکھ 40 ہزار طلبہ و طالبات ہی انٹرمیڈیٹ تک پہنچ سکے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *