پانی کی قلت ، سیوریج کی بہتات سے تنگ بفرزون کی خواتین ایم ڈی واٹر سے آ ملیں

واٹربورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اسداللہ خان نے کہا ہے کہ شہری فراہمی ونکاسی آب سے متعلق شکایات کے خاتمہ کیلئے واٹربورڈ سے تعاون کریں ، خصوصاً دوسرے شہریوں کا پانی روک کر زیادہ سے زیادہ پانی کے حصول کیلئے فراہمی آب کی لائنوں میں اسٹیل کی پلیٹیں اور ربر کی چپلیں پھسانے والوں ،پانی کے غیر قانونی کنکشن لینے والوں کو کی نشاندہی کی جائے ،ایسے افراد کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ،

واٹربورڈ کے نظام فراہمی ونکاسی آب میں چھیڑچھاڑ کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی ، شہر کے تمام علاقوں میں دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم کے نظام کو ہر صورت برقرار اور رواں رکھا جائے گا،

ان خیالات کا اظہار انہوں نے فراہمی آب کے مسائل کے حل کیلئے آنیوالی بفرزون کی خواتین کے ایک وفدکے ساتھ ملاقات میں کیا ،انہوں نے کہا کہ حب ڈیم خشک ہونے کے باعث کراچی کے ضلع جنوبی اور وسطی میں پانی کی قلت ہے اس کو دور کرنے کیلئے واٹربورڈ نے بہتر حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے ،

حب ڈیم نظام فراہمی آب سے منسلک علاقوں کو کے تھری منصوبہ سے پانی کی فراہمی کی جارہی ہے ،واٹربورڈ دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے اپنے تمام وسائل اور فنی صلاحتیں بروئے کار لارہا ہے،انہوں نے کہا کہ شہر کے بعض علاقوں سے شکایات موصول ہور ہی ہیں کہ چند افراد پانی کی لائنوں میں اسٹیل کی پلیٹیں ،ربر کی چپل اور دیگر اشیاءپھنساکر دیگر علاقہ مکینوں کے حصے کا پانی رک کر وافرمقدار میں پانی لیتے ہیں جس سے متعددعلاقوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم کا عمل بری طرح متاثر ہوتا ہے ،

جبکہ دیگر افراد پانی سے محروم رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ شہر ایسے عناصر کی نشاندہی کریں ان کا نام صیغہ راز رہے گا جبکہ واٹر بورڈ ناجائز طریقہ سے پانی لینے والوں اور پانی کے غیرقانونی کنکشن لینے والوں کیخلاف مقدمات کا انددراج کرائے گا ،

قبل ازیں وفد کی اراکین نے ایم ڈی واٹربورڈ کو بفر زون بلاک 15 بی میں پانی کی قلت سے آگاہ کیا اور ان سے پانی کی فراہمی کا مطالبہ کیا ، ایم ڈی واٹربورڈ نے وفد کی گزارشات سنیں اور ان کے مسائل کے فوری حل کیلئے متعلقہ افسران اور انجینئرز کو موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کیں ،

اس موقع پر دیگر کے علاوہ واٹربورڈ کے چیف انجینئر واٹراینڈ سیوریج غلام قادر عباس، اسسٹنٹ ایگزیکٹیوانجینئر سہیل طیب ،ایم ڈی واٹربورڈ کے اسٹاف آفیسر موہن داس بھی موجود تھے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *