پاکستانی حکمرانوں میں ذوالفقار علی بھٹو نے محنت کشوں کے ادارے قائم کئے ،

وزیر اعظم پاکستان عمران خان محنت کشوں میں پھیلی ہوئی بے چینی کو ختم کریں ، فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان ، جرنل یحییٰ خان ،جنرل ضیاء الحق،ضیاء کے چیلے نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف نے محنت کشوں کی کھال ادھیڑ کر رکھ دی ،محنت کشوں کو کچلنے والے ڈکٹیٹر ملیامیٹ ہو گئے جبکہ محنت کشوں کے لئے تاریخی کارنامے سر انجام دینے والے شہید ذولفقار علی بھٹو تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے ۔

سوئی سدرن گیس CBA کے سابق چیئر مین اور آل پاکستان لیبر رائٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما ریاض اختر اعوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل ایوب خان نے 1958 سے لے کر 1969 تک محنت کشوں کو کچلا اور انہیں اپنے حقوق سے محروم رکھا۔1969 سے 15دسمبر 1971 تک جنرل یحییٰ خان جنرل ایوب خان کے نقش قدم پر چلتا رہا ۔

20دسمبر 1971تا 5جولائی 1977 تک شہید ذولفقار علی بھٹو نے محنت کشوں کے لئے شاندار اور تاریخی قانون سازی کی اور محنت کشوں کو زبردست فائدے پہنچائے ۔ 5جولائی 1977 تا 17اگست 1988 جنرل ضیاء الحق نے محنت کشوں پر تاریخی ظلم ڈھائے ، جنرل ضیاء الحق نے ٹریڈ یونین پر مکمل پابندی عائد کی اور یونین لیڈران کو کوڑے مارے اور پابند سلاسل رکھا۔

جنرل ضیاء الحق کے منہ بولے بیٹے نواز شریف نے محنت کشوں کو اپنے کارخانوں کی آگ میں زندہ جلا دیا جبکہ پرویز مشر ف نے محنت کشوں کو کچلنے کے لئے ریموول فرام سروسز آرڈیننس 2000 متعارف کرایا اور اس آرڈیننس کے ذریعے محنت کشوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھینا ۔ماضی کے یہ تمام حکمرانوں تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکے ہیں۔

جبکہ مزدوروں کے حقوق کی بحالی کا علمبردار شہید ذولفقار علی بھٹو آج بھی زندہ اور تابندہ ہے اور سورج کی طرح آسمان پر ہر وقت چمک رہا ہے ۔ وزیرا عظم پاکستان عمران خان اگر آپ تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہو ناچا ہتے ہیں تو محنت کشوں کی عزت نفس اور ان کے کھوئے ہوئے تمام حقوق بحال کرائیں ، ٹھیکیداری نظام کو ختم کر کے تمام کچے ملازمین کو ریگولر کرائیں۔

سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کے تحفظ کی بجائے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کریں اور مزدوروں کے حقوق کی بحالی کے لئے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں شاندار اور تاریخی بل پاس کرائیں ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ سابق ڈکٹیٹروں کے نقش قدم پر نہیں چلیں گے بلکہ ملک کے غریب پسماندہ اور کچلے ہوئے مزدور طبقات کو غربت کی دلدل سے نکال باہر کریں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *