سندھ اوروفاق کی محاذ آرائی قانونی جنگ میں بدلنے کا خدشہ

مالی خود مختاری نہ دینے پروفاق اورسندھ حکومت کے مابین ٹھن گئی، بلدیات، ہاؤسنگ، سیاحت، صحت، ترقیاتی امورکے بعد سندھ حکومت نے وفاق کے یکساں نصاب تعلیم پراجیکٹ کا بھی بائیکاٹ کردیا،وفاقی اورسندھ حکومت کے مابین مختلف امور پرجاری محاذ آرائی قانونی جنگ میں بدلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے .

سندھ حکومت نے وفاق کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈزنہ ملنے ،صوبائی حکومت کو مالی خود مختاری نہ دینے ،شیئرمیں کٹوتی اوردیگرامور پر وفاقی حکومت کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی تیاری شروع کردی ہے ۔یہ انکشاف وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی پی پی قیادت کو دی گئی بریفنگ میں سامنے آیا ،جس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے سندھ حکومت کی غیرعلانیہ معاشی ناکہ بندی سے آنے والے دنوں میں سندھ حکومت شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوسکتی ہے ۔

پیپلزپارٹی کے معتمد ترین ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے پارٹی قیادت سے مدد اوروفاقی حکومت کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی اجازت بھی طلب کرلی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف سیکرٹری سندھ کے ذریعے ایک خط وفاقی حکومت کو بھیجا گیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ سندھ حکومت دیگرامورکی طرح یکساں نصاب تعلیم کے معاملے پربھی وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے سے قاصر ہے ۔

پی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کا مقصد وفاقی حکومت کو یہ باورکرانا ہے کہ قومی نصاب کونسل کی تشکیل غیرآئینی ہے کیونکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد سے تعلیم اورنصابی معاملات صوبوں کے دائرہ اختیارمیں آتے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *