ہل پارک کی مسجد راہ نما کو شہید کرنا ظلم ہے ،وسیم اختر سپریم کورٹ کے حکم کو غلط استعمال کررہے ہیں ،

جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کے رئیس قاری محمد عثمان نے کہا کہ ہل پارک کی راہ نما مسجد کو شہید کرکے مئیر کراچی دین دشمنی پر اتر آئے ہیں۔مساجد کو تجاوزات کا نام دیکر ڈھانا شعائر اسلام کی توہین ہے۔ہل پارک کی راہ نما مسجد کو شہید کرکے کھلے عام فحاشی کا اڈہ قائم کیا جارہاہے ۔مئیر کراچی تجاوزات کے خاتمے کے عدالتی حکم سے تجاوز کررہے ہیں۔وہ ہل پارک کی شہید کی جانے والی راہ نما مسجد کے دورے کے دوران نمازیوں سے گفتگو کررہے تھے۔

شہید ہونے والی مسجد راہ نما میں قاری عثمان نماز ادا کررہے ہیں

اس موقع پر مولانا انور شاہ، امام راہ نما مسجد مولانا عبداللہ ،جمال خان کا کڑ ،قاری زین العابدین اور دیگر رہنما موجود تھے۔قاری محمد عثمان نے کہا کہ تجاوزات کے نام پر عدالتی حکم سے تجاوز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہل پارک میں 40 سال سے قائم جامع مسجد راہ نما کو تجاوزات قرار دیکر شہید کئے جانا اسلام دشمنی کی بدترین مثال ہے۔قاری محمد عثمان نے کہا کہ منبر و محراب کی حرمت پامال نہیں کرنے دیں گے۔مئیر کراچی اور سندھ حکومت دین دشمنی سے باز رہے۔انہوں نے کہا کہ دینی مدارس و مساجد امن و سلامتی کے مراکز ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا عدالت نے مساجد مسمار کرنے کے احکامات صادر کئے تھے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر راہ نما مسجد ہل پارک کو کیوں شہید کیا گیا ہے ؟۔

شہید ہونے والی مسجد راہ نما کے ملبے کو دیکھا جاسکتا ہے

انہوں نے کہا کہ کراچی میں تجاوزات کے نام پر آپریشن میں اب تک درجنوں مساجد کے شہید کئے جانے کے خلاف علماء کرام کو آواز بلند کرنی ہوگی ورنہ جو کھیل میئر کراچی کے ذریعہ شروع کرایا گیا ہے اگر اسے روکنے کی کوشش نہ کی گئی تو کراچی کی سینکڑوں مساجد کو شہید اور مدارس مسمار کردیا جائیگا۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ ہل پارک کی مسجد کونسے ناجائز تجاوزات کے زمرے میں آتی تھی جسے شہید کردیا ہے ۔انہوں نے نئے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں تجاوزات کے نام پرجاری آپریشن سے روشنیوں کے شہر کی ہونے والی تباہی اور مساجد کے شہید کئے جانے والے مظالم کو روکنے کے احکامات صادر فرماکر انصاف کا بول بالا کریں۔

قاری محمد عثمان شہید ہونے والی مسجد کے ملبے کے پاس کھڑے ہیں

انہوں نے کہا کہ تاریخ اور ریکارڈ سے ثابت ہے ،ہمیشہ دیکھا گیا ہے جہاں آبادی گرائی گئی ہے ،جسکو گرانا ناگزیر بھی رہا ہے تب بھی مساجد کو نہیں چھیڑا جاتا۔ ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ ہل پارک میں تجاوزات کے نام پر صرف جامع مسجد راہ نما ہی کو شہید کیا گیا ہے جو بہرحال مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے اور شعائر اسلام پر براہ راست حملہ ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میئر کراچی سے اتنے ہی مخلص ہیں تو پھر شہر کے شراب خانوں اور پوش علاقوں میں واقع فحاشی کے اڈوں کو گراکر شہر کو اخلاقی گندگی سے نجات دلائیں۔مدارس و مساجد تو شہر کی زینت ہیں۔ہل پارک کی مسجد کوئی قبضہ مافیا کا گڑھ نہیں تھا بلکہ ہل پارک سیر وتفریح کیلئے آنے والے مسلمانوں کی نماز کیلئے مسجد بنائی گئی تھی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر راہ نما مسجد سمیت شہید کی جانیوالی تمام مساجد کو ازسرِنو تعمیر کیا جائے۔بصورت دیگر خدا کے غضب کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *