کسٹم کے اعلی افسران کے تبادلوں کے بعد کلٹر، ایڈیشنل کلکٹر کے تبادلے وفاقی حکومت نے روک دیئے .

کسٹم میں اعلیٰ افسران کے تبادلوں کے بعد کلکٹر اور ایڈیشنل کلکٹر کے بڑے پیمانے پر تبادلوں کو وفاقی حکومت نے وقتی طور پر روک دیا ،کسٹم اپریزمنٹ ساوتھ میں گزشتہ ایک برس کے دوران اربوں روپے مالیت کی اسکینڈل میں تحقیقات کرنے والے کسٹم افسران کے تبادلے شروع ہونے پرچیف کلکٹر ساوتھ رشید شیخ رخصت پر چلے گئے .

ممبر کسٹم آپریشن کی سفارش پر ایف بی آر نے ان کے تبادلے کا بھی نوٹیفیکشن جاری کردیا ،کسٹم اپریزمنٹ ساوتھ میں جعلی کمپنیوں کے ذریعے حوالہ ہنڈی ،سیلز ٹیکس ،کسٹم ڈیوٹی چوری،انڈرانوئسنگ کرنے میں ملوث مافیا ،ایکسپورٹ پروسسنگ زون اتھارٹی میںاربوں روپے کے فراڈ سمیت دیگر گھپلوں پر تحقیقات سرد خانے کی نذر ہونے کا امکان ہے ۔

ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے گزشتہ ہفتے میں گریڈ 22 اور 21 سمیت دیگر اعلیٰ افسران کے تبادلوں کا نوٹیفیکشن جاری کیا تھا جس میں چیف کلکٹر ساوتھ رشید شیخ کا بھی تبادلے کے احکامات جاری کئے گئے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف کلکٹر ساوتھ رشید شیخ اپنے ماتحت کسٹم کے بعض اہم اپریزر کے تبادلوں پر ناخوش تھے اور انہوں نے ممبر کسٹم آپریشن ڈاکٹر جواد ایس آغا کو بھی خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ کسٹم اپریزمنٹ ساوتھ کی ملکی معیشت میں علیحدہ حیثیت ہے جو ملکی معیشت میں 70 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور گزشتہ برس میں کسٹم اپریزمنٹ ساوتھ نے ملکی خزانے کو نقصان پہچانے والی مافیا پر ضرب لگانا شروع کی ہے اس کے لئے ایک ٹیم ورک کا ہونا ضروری ہے اگر اس دوران میں ٹیم کو تبدیل کیا جاتا ہے تو اربوں روپے قومی خزانے کو نقصان پہچانے والی مافیا پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہوتا جائے گا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس خط کے جواب میں بھی ایسے اپریزنگ افسران کا تبادلہ کردیا گیا جو براہ راست مافیا کے خلاف کارروائیوں میں مصروف تھے جس کے بعد چیف کلکٹر کسٹم ساوتھ رشید شیخ ڈیڑھ ماہ کی رخصت لے کر روانہ ہوگئے ان کی رخصت پر روانگی کے فوری بعد انہیں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کے ساتھ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹرنل آڈٹ کسٹمز اسلام آباد کے عہدوں پر تعیناتی کے احکامات جاری کردئیے اور چیف کلکٹر ساوتھ کا عہدے پر ثریا احمد بٹ کو تعینات کردیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس میں ماڈل کسٹم کلکٹریٹ ویسٹ ،ایسٹ اور پورٹ قاسم پر اپریزنگ افسران نے ایسے اسکینڈلز کو بے نقاب کیا جو مافیا کی صورت میں طویل عرصے سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے تھے اور اس میں ان کے ساتھ کسٹم کے اعلیٰ افسران سمیت دیگر حکام بھی ملوث رہے ہیں ۔

ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ برس میں ایسی جعلی کمپنیوں کا انکشاف ہوا جس کے ذریعے اربوں روپے بیرون ملک منتقل ہوئے اور یہ کمپنیاں کچھ عرصے میں کھلتی اور بند ہوتی رہی ہیں اسی طرح سیلز ٹیکس ، کسٹم ڈیوٹی اور انڈر انوئسنگ میں قومی خزانے کو ماضی میں اربوں روپے کا نقصان پہچانے والی مافیا کو بے نقاب کیا گیا جس کے لئے کسٹم اور ایف بی آر کے اعلیٰ افسران ایک عرصے تک سفارش کرتے رہے ہیں جب کہ چند ماہ قبل ایکسپورٹ پروسسنگ زون اتھارٹی میں بھی ایسی مافیا کو بے نقاب کیا گیا جس نے ابتدائی تحقیقات میںہی قومی خزانے کو 3ارب سے زائد کا نقصان پہنچانے کا اعتراف کیا اور اس فراڈ میں ملوث اہم ملزم کو ملک سے باہر فرار ہونے کی کوشش میں طیارے سے آف لوڈ کر کے گرفتار کیا گیا تھا جب کہ ایسے کسٹم افسران کو بھی بے نقاب کیا گیا جو مختلف قومی خزانے کو فائدہ پہچانے کے بجائے مختلف کمپنیوںکو فائدہ پہنچاتے رہے ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی حکمت عملی میں اور حالیہ ملک بھر میں حوالہ ہنڈی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں اربوں روپے کا زرمبادلہ غیر قانونی طریقے سے 80فیصد درآمد ات کے نام پر جاتاہے جب کہ 20فیصد دیگر ذرائع کے لئے جاتا ہے تاہم کراچی میں سی پورٹس ہونے کی وجہ سے اس طرح کی بڑی کمپنیوں کا ریکارڈ ماڈل کلکٹر یٹ کسٹم ساوتھ میں ہے اس لئے اس کی اہمیت بھی زیادہ ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے اعلیٰ افسران کے تبادلوں کے بعد ملک بھر میں کلکٹر اور ایڈیشنل کلکٹر کی سطح کے افسران کے تبادلوں کی بھی تیاری کرلی گئی تھی تاہم وفاقی حکومت نے کسٹم ڈیوٹی ہدف کے مطابق وصول نہ کرنے پر تمام تبادلوں کو وقتی طور پر روک لیا گیا ہے اور کسٹم حکام کو آگاہ کیا گیا ہے ان تبادلوں کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد ان تبادلوں کا نوٹیفیکشن جاری کیا جائے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *