ملک بھر کے علماء کے دورہ وزیرستان کے بعد علامہ امین شہیدی کی وضاحت

سوشل میڈیا پر اس دورے کے حوالے سے مخالف اور موفق آراء کا اظھار کیا جارھا ھے اور ھمارے کچھ نوجوان جن کی ڈور کہیں اور سے ہلتی ھے اس سلسلے میں منفی پروپیگنڈا جھوٹ تھمت اور کردار کشی پر اتر آئے ھیں
مختصرا چند نکات پیش خدمت ھیں

اولا
میں دھشت گردوں سے کسی نشست و برخواست میں یا کسی خفیہ میٹنگ میں نھیں گیا تھا بلکہ طالبان اور شدت پسندوں کے سابقہ ٹھکانوں پر فتح کے بعد آرمی کی دعوت پر پورے ملک سے دعوت شدہ مختلف مسالک کے علماء کے ایک وفد کے ھمراہ شمالی وزیرستان میران شاہ اور میر علی کے دورے پر گیا تھا جو کہ گذشتہ دس سالوں سے دھشت گردی اور کلعدم جماعتوں کے خلاف میرے موقف کی کامیابی کی دلیل ھے .

ثانیا
وفد میں اگر کلعدم دھشت گردوں کا سرغنہ شامل تھا تو یہ سفر اس کے موقف کی بدترین شکست ذلت اور اس کے ماضی کے مکمل غلط ھونے کی دلیل ھے

ثالثا
دھشتگردی شدت پسندی فرقہ واریت اور تکفیریت کے خلاف جو بھی قدم اٹھے گا اس میں ھمیں مکمل طور پر من حیث شیعہ فرد اپنا کردار ادا کرنا چاھئیے اور دشمن کو خالی جگہ فراھم نھیں کرنی چاھئیے

رابعا
ایسے معاملات میں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا ، ھم سے بھاگنا اور ھمارا سامنا نہ کرنا ان دھشتگرد تکفیریوں کو چاھئیے جو ھمیں کافر اور واجب القتل سمجھتے تھے اور ان کے نکتہ نظر کو شکست فاش ھوچکی ھے

خامسا
ایسے مواقع پر دھشت گرد گروھوں کے طرفداروں کو بھت پریشان مضطرب اور خوف زدہ ھونا چاھئیے کیونکہ پوری قوم اب ایک طرف ھے اور ان شدت پسندوں کی نہ سُنی جارہی ھے اور نہ حمایت ھورھی ھے اور ایسے دورے اُن کی فکر اور سوچ کے لئے انتہائی نقصان دہ ھیں اور ھماری فتح کا اعلان ھے ، جبکہ ھمارے بعض دوست احباب اور جوان فورا پریشان ھوجاتے ھیں اور مخالفین مطمئن نظر آتے ھیں

سادسا
اگر کسی بھی سطح پر مخالفین سے مذاکرات اور گفتگو کی بات ھو تو وھاں پوری قوت دیانتداری اور ایمان کے ساتھ دھشت گردوں اور فرقہ پرستوں کا مقابلہ کرنا اور تمام تر دنیوی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر میدان میں کھڑا ھونا ھمارے ایمان حمیت اور غیرت کا تقاضا ھے
اور یہ فریضہ ھر تنظیم جماعت اور مجھ جیسے فرد کی ذمہ داری بنتی ھے

انشاللہ جب تک جسم میں خون کا آخری قطرہ باقی ھے دین ملک اور اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ جاری رھے گا چاھے اکیلا ھی کیوں نہ رہ جاوں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *