وزارت مذہبی امور کے ایماندار افسر 29 سالہ ملازمت میں صرف 15 چھٹیاں

خدمت ،وفاداری اوراپنے پیشے سے لگن کی اعلی مثال ،ڈی جی وزارت مذہبی امورنورسلم شاہ نے 29سالہ ملازمت میں صرف 15چھٹیاں کیں ،شاندارملازمت کا آج حسیں اختتام کررہے ہیں ۔

عوامی خدمت اوراپنی ملازمت سے وفاداری کی اعلی ترین مثال ،ڈی جی وزارت مذہبی امورنورسلم شاہ نے 29سالہ سرکاری ملازمت میں صرف 15چھٹیاں کیں ،آج جمعرات کووہ اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے پرریٹائرڈہوجائیں گے دوران ملازمت ان کے خلاف ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی ۔

وزارت مذہبی امورآج جمعرات کوایسے قابل ،دیانت داراورفرض شناس ا فسرسے محروم ہوجائے کہ جس نے اپنی سرکاری ملازمت کے 28سال گیارہ ماہ کے دوران صرف پندرہ چھٹیاں کیں اوریہ چھٹیاں انہوں نے اس وقت کیں جب ان کی پانچ سالہ بچی آگ سے جل گئی تھی اورانہیں بچی کے آپریشن اوردیکھ بحال کے لیے پندرہ دن چھٹی لیناپڑیں حالانکہ سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے نورسلم شاہ کویہ حق حاصل تھاکہ وہ سال میں 48چھٹیاں کریں ۔

دھیمے اورٹھنڈے مزاج کے حامل نورسلم شاہ کاٹلنگ مردان سے تعلق رکھتے ہیں اورانہوں نے پشاورسے ایل ایل بھی کی تعلیم حاصل کی اوربعدازاں اسلامی یونیورسٹی سے ایل ایل ایم شریعہ اینڈلاء کیا نورسلم شاہ 29 جنوری 1990 کو ایڈہاک بنیادوں پر وزارت مذہبی امور میں اسسٹنٹ ڈائریکٹراسلامی فقہ (گریڈ17)میں تعینات ہوئے اور30 اپریل 1992تک ایڈہاک بنیاد پرکام کیا بعدازاں انہیں مستقل کردیا گیا ۔

نورسلم شاہ 5 مئی 1992 سے یکم اکتوبر2007 کے طویل ترین عرصہ تک اسسٹنٹ ڈائریکٹرکے عہد ے پرفائزرہے بعدازاں 13فروری 2014 تک ڈپٹی ڈائریکٹرکے عہدے پرفائزرہے اور 14 فروری 2014 کو انہیں گریڈ انیس میں ترقی دی گئی اس دوران ان کے پاس ڈی جی کاایڈیشنل چارج بھی رہا ۔ اور 8 مارچ 2017سے اپنی ریٹائرڈمنٹ تک وہ گریڈ بیس میں ڈی جی(شعبہ تحقیق ومراجع) کے عہدے پر فائز رہے نور سلم شاہ نے ملک میں اسلامائزیشن کے حوالے سے گراں خدمات سرانجام دیں ۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی 1998تک کی سفارشات تمام متعلقہ فورم پرپہنچائیں اپنی ملازمت کے دوران انہوں نے 14 سال (14بار) سعودی عرب میں حج ڈیوٹی دی ۔ علماء ومشائخ کونسل کے قیام ،رویت ہلال بل ،مسلم فیملی لاء میں ترامیم بل اوراحترام رمضان ترمیمی بل ان کے ہاتھوں کے تیارکردہ ہیں ۔ نورسلم شاہ نے اپنی زندگی وزارت مذہبی امورمیں گزاردی مگرکرپشن کاکوئی داغ نہیں لگنے نہیں دیا ۔شاندارسرکاری ملازمت کاحسین اختتام کررہے ہیں اوراس احساس کے ساتھ وہ جارہے ہیں کہ اپنے عہدے سے فرض شناسی اوردیانت داری سب سے بڑاجہادہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *