ترکی میں 13ہزار مدارس میں 40ہزار سے زائد اساتذہ قرآن کریم کی تعلیم دے رہے ہیں ۔

پاکستان کے بعد اب ترکی کی جانب سے بھی تیزی سے قرآن کریم کی تعلیم کو عام کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیاہے ، ترکی میں 2011ء میں حفظِ قرآن سے پابندی اٹھا ئی گئی تھی ، جس کے بعد حکومتی نگرانی میں13ہزار سے زائد اسلامی مراکز قائم کیے گئے، جہاں پر حفظِ قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ان 13ہزار مراکز دینیہ میں 40 ہزار اساتذہ مقرر کیے گئے ہیں ، جنہیں خصوصی مراعات اور بہترین وظائف سے نوازا جاتا ہے ۔

عالمی سطح پر حفظِ قرآن کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں ۔ حتی کہ 2015ء تک پورے ترکی میں حفاظ کی تعداد ایک لاکھ اسی ہزار تک جا پہنچی ہے ۔ تعطیلات گرما میں اسکول کے طلبہ کو حفظِ قرآن کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ والدین کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو گرمیوں کی چھٹیوں میں حفظ کروائیں ، پھر اس حفظ کو اگلے سال کی چھٹیوں تک محفوظ رکھنے میں ان کے معاون بنیں۔ اس کا نتیجہ بہت مثبت نکل رہا ہے ،یعنی 2016ء میں یہ تعداد گیارہ لاکھ 50ہزار کو پہنچ گئی ہے ۔ اب ہر سال محض گرمیوں کی چھٹیوں میں 60ہزارنئے طلبہ حفظ کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

یقین نہیں آتایہ اسی ترکی کے حفاظ ہیں جہاں 2000ء تک اسلام کا نام لینا جرم تھا۔ جہاں ایک باحجاب پارلیمنٹیرین اپنے پردے کی وجہ سے پارلیمنٹ سے نکال دی گئی۔حفظ قرآن پر پابندی لگا دی گئی۔عربی رسم الخط تک ممنوع قرار دے دیا گیا۔ جہاں کا ایک وزیر اعظم اس جرم میں پھانسی چڑھا دیا گیا کہ وہ اسلام کا نام لیوا تھا۔ دنیا بدلی، حالات نے پلٹا کھایا اور آج وہی ترکی اپنے حفاظ قرآن کو عمرے پر بھیج رہا ہے۔ یہ تبدیلی کیسے آئی؟ ہمارے لیے اس میں کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔ مکمل جائزہ کی بجائے چند ایک اشارے کافی ہیں۔

ہماری حکومت کو چاہیے کہ تعلیم قرآن عام کرے۔مشاہد ہ گوا ہے کہ حفاظ بچے ہر میدان میں آگے ہوتے ہیں۔ ان کی ذہنی صلاحیت عام طلبہ سے زیادہ ہوتی ہے۔ لہذا حفظ قرآن کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی سطح پر حفظ قرآن کے مقابلے منعقد کیے جائیں۔ اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کو حفظ قرآن کی جانب راغب کیا جائے۔ امتحانات میں حفاظ کو خصوصی نمبر دیے جائیں۔ ان کے لیے مراعات اور وظائف کا اعلان کیا جائے۔ پختہ حفاظ کو حج و عمرہ کروایا جائے۔ نہ صرف طلبہ بل کہ سرکاری ملازمین کو بھی حفظ کی جانب راغب کیا جائے۔ ان کے سکیل اور گریڈ بڑھانے کے لیے حفظ کو بھی معیار بنایا جائے۔ حافظ ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات بڑھائی جائیں۔ ممبران اسمبلی خود بھی حفظ کریں اور اپنے علاقے میں اسے عام کریں۔

اس طرح ملک سے لوٹ کھسوٹ ، بد دیانتی ، کرپشن، حرام خوری، تفرقہ بازی اور دیگر جرائم پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر ترک اس طرح کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ اگر وہ اٹھارہ سال میں اپنے وطن کو ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں لا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *