جانوروں کے دشمن کوئی اور نہیں صرف انسان ہیں

جنگلی حیات کو سب سے بڑا خطرہ انسان سے ہے جس نے جانوروں کے بے دریغ قتل کو وطیرہ ہی بنا لیا ہے۔ جانداروں کے قتل جیسے قبیح جرم کے بارے میں آج بھی اس دور کے انسان میں احساسِ ندامت اور سنجیدگی پیدا نہیں ہو رہی۔ جنگلی حیات کو وسیع پیمانے پر شکار کر کے ادویات، خوراک، تعمیراتی مواد، فرنیچر، کاسمیٹکس، لباس اور دیگر اشیاء میں استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نادر و نایاب نسل کے جانوروں کی نسل کشی ہوتی جا رہی ہے۔ مہذب معاشرے ان معدوم ہوتی نسلوں کو بچانے میں مصروف ہیں اور درجنوں نسلوں کو مصنوعی حصار و نگہداشت میں بھی لے لیا گیا ہے تاکہ کرہ ارض پر ان کو مکمل خاتمے سے بچایا جا سکے۔

ہمارے ملک پاکستان میں بھی جنگلی حیات کے خلاف انسانی جرائم میں مسلسل اضافہ ہوچکا ہے۔ اس کے خلاف جنگی بنیادوں پر حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی تاکہ ملکی سطح پر اقتصادی، ماحولیاتی اور سماجی حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔

جنگلی جانوروں کے غیر قانونی شکار کی روک تھام میں بھی پاکستان کے عملی کردار پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ معدوم ہوتے جانوروں اور نادر و نایاب پرندوں کا شکار پاکستان میں تمام تر قانونی و عدالتی پابندیوں کے باوجود سارا سال جاری رہتا ہے۔ گذشتہ برس بلوچستان کے ایران اور افغانستان سے متصل سرحدی ضلع چاغی میں ایک عرب شیخ کے لیے شکار کیمپ قائم کیا گیا تھا۔ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے ایک سینیئر افسر نے چاغی میں سعودی شیخ کے کیمپ کے قیام کی تصدیق بھی کی تھی، جس کی خبر میڈیا میں بھی آئی تھی۔ اس سے قبل بھی چاغی میں عرب شیخ نایاب پرندے تلور کے شکار کے لیے آتے رہے ہیں۔

تلور ایک ہجرت کرنے والا پرندہ ہے جو کہ روس کے علاقے سائیبریا اور گرد و نواح کے علاقوں سے سردیوں میں بلوچستان اور پاکستان کے بعض دیگر گرم علاقوں کا رخ کرتا ہے، اور یہاں آتے ہی مار دیا جاتا ہے۔ تلور، بسٹرڈ نسل کے پرندوں میں سے ہے۔ یہ پرندہ صحرائی علاقوں میں جا کر انڈے دیتا ہے اور اپنے بچوں کی پرورش کرتا ہے اور انہیں دنوں میں اس کا شکار کیا جاتا ہے۔

تلور کے شکار کے لیے وفاقی وزارت خارجہ کی جانب سے جو پرمٹ جاری کیا جاتا ہے، اس کے مطابق کسی بھی علاقے میں عرب شیوخ دس دن کے لیے شکار کرسکتے ہیں۔ ان دس دنوں میں ان کو صرف 100 تلور شکار کرنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن اس حوالے سے کوئی پابندی خاطر میں نہیں لائی جاتی۔ اگر دس تلور شکار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو رپورٹ یہ آتی ہے کہ وہ 200 یا 300 ایک دن میں مارتے ہیں۔ قدرتی ماحول کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی ادارے آئی یو سی این نے اس پرندے کو ان جنگلی حیات کی فہرست میں شامل کیا ہے جن کی نسل کو ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہے جس کے باعث اس پرندے کا شکار ممنوع ہے۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے گذشتہ سال کے آخر میں اپنے ایک فیصلے میں عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود قانون سمیت عدالتی احکامات کی دھجیاں سرعام اڑائی جاتی رہیں، یہاں تک کہ چند ہفتے قبل پرنس آف تبوک فہد بن عبداللہ اسی نادر و نایاب تلور کے شکار کے لیے بلوچستان پہنچ چکے ہیں اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے پرنس آف تبوک کے بلوچستان پہنچنے پر ان کا استقبال بھی کیا ہے۔ اور اسی دوران بلوچستان کے محکمہ جنگلات نے ہائی کورٹ کی جانب سے تلور کے شکار پر پابندی کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج بھی کر دیا ہے تاکہ عرب شیوخ کی شکار مہم میں کوئی رکاوٹ نہ آنے پائے۔

پاکستان میں منیشات اور اسلحے کے علاوہ پرندوں اور جانوروں کی اسمگلنگ بھی کی جاتی ہے لیکن ابھی تک ان کی روک تھام کے لیے حکومتی سطح پر سنجیدہ کوششیں سامنے نہیں آسکی ہیں۔ 2014 میں پاکستان اور چین کی سرحد پر خنجراب کے مقام پر چینی حکام نے پاکستان سے سمگل کیے گئے 210 کچھوے محکمہ جنگلی حیات پاکستان کے حوالے کیے تھے۔ چین کے کسٹم حکام نے اسمگل کیے جانے والے یہ کچھوے تحویل میں لے کر تین پاکستانوں کو بھی گرفتار کیا تھا۔

آئی یو سی این کی معدوم ہونے والی حیات کی ریڈ لسٹ میں شامل یہ کچھوے سکھر سے چلے اور سنگین موسم کا سامنا کرتے ہوئے سنکیانگ تک پہنچے جہاں سے حکام نے انہیں برآمد کر لیا۔ چین کی مہربانی سے یہ کچھوے پاکستان کو واپس مل سکے ورنہ پاکستان کی کسی بھی سرحد پر کسٹم حکام کی چیک پوسٹ تو ہوتی ہے لیکن قیام پاکستان سے لے کر آج تک ان کے ساتھ محکمۂ جنگلی حیات کی پوسٹ قائم نہیں کی جا سکیں تا کہ کلیئرنس کے بعد ہی سامان چھوڑا جائے اور جنگلی حیات کی اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔

محکمہ جنگلی حیات یا کسی غیر سرکاری ادارے کے پاس پاکستان میں میٹھے پانی کے کچھووں کی درست تعداد تو موجود نہیں تاہم انڈس ریور سسٹم میں کسی زمانے میں ان کچھووں کی بہتات ہوتی تھی۔ لیکن اس کے بے دریغ شکار، دریا میں شہروں کے نکاسی آب کے نظام اور کہیں کہیں پانی کی سطح کم ہوجانے کی وجہ سے ان کی تعداد میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ عام طور پر اس کچھوے کا گوشت ہی بیرون ملک اسمگل کیا جاتا ہے، لیکن آگاہی کی مہم کی وجہ سے زندہ کچھوے اسمگل کرنا اب بندرگاہوں اور ایئرپورٹس پر دشوار ہو چکا ہے، اس لیے اب زمینی راستوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

حال ہی میں پاکستان میں جنگلی حیات کے حوالے سے صوبہ سندھ میں ایک غیر معمولی کارکردگی دیکھنے میں آئی ہے جہاں ریچھ کی لڑائی اور اس کے سرکس میں استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بھورے، سیاہ اور ایشیائی نسل کے ریچھ کا شمار ان جانوروں میں کر دیا گیا ہے جن کی بقا خطرے میں ہے جس کے بعد اب ان کا تفریحی اور بھیک مانگنے کے لیے استعمال نہیں ہو سکے گا۔ ریچھ اور کتے کی لڑائی میں ریچھ کو رسی سے باندھ کر اس پر کتے چھوڑے جاتے ہیں۔ یہ کتے ریچھ کی ناک اور منہ پر حملہ کرتے ہیں جس سے وہ شدید زخمی ہو جاتا ہے، کبھی کبھی اس لڑائی میں کتے بھی مارے بھی جاتے ہیں۔

پاکستان میں ریچھ کا شمار ان جانداروں میں ہوتا ہے جن کی نسل کو خطرہ لاحق ہے۔ ریچھ کی لڑائی کے لیے اس کے بچوں کو جنگل سے چرایا جاتا ہے جبکہ اس کی ماں کو گولی مار دی جاتی ہے۔ پاکستان میں جپسی ریچھ جن کو گلیوں میں پھرایا یا لڑایا جاتا ہے، ان کی تعداد 160 کے قریب ہے جبکہ جنگلی ریچھ جن میں کالے ریچھ کی تعداد 700 سے 800 اور بھورے ریچھ کی تعداد 200 کے قریب ہے۔ معدوم ہوتے ریچھ کو بچانے کے لیے پاکستان کے دیگر صوبوں کو بھی قانون سازی کرنی ہوگی اور عوام کو بھی جنگلی حیات سے محبت اور جانوروں سے اچھے سلوک کی تعلیم دینا ہوگی۔

جنگلی حیات ایک فطری قدر ہے جو ماحولیاتی، جینیاتی، سماجی، اقتصادی، سائنسی، تعلیمی، ثقافتی، تفریحی اور جمالیاتی پہلوؤں کے حوالے سے انسانی بہبود اور پائیدار ترقی میں لازمی اضافہ کرتی ہے۔ پاکستان کو اس اعتبار سے جنگلی حیات کے تحفظ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے ممالک، اقوام متحدہ، جنگلی حیات کے بین الاقوامی اداروں، سول سوسائٹی، اور غیر سرکاری اداروں و افراد کے تجربات سے براہ راست فائدہ اٹھانا ہوگا۔ جنگلی حیات کی تجارت کو روکنے اور سدباب کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اسی سلسلے میں مقامی اداروں اور کمیونٹیز کو ہر طرح سے تیار کرنا ہوگا۔

تھر میں سینکڑوں مور مریں یا دریائے سندھ میں نادر و نایاب ڈولفن، ہالیجی جھیل سمیت پاکستان بھر میں کہیں بھی کسی بھی جنگلی حیات کا نقصان ہو، یا بلوچستان میں تلور کا شکار، نقصان پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا نقصان ہے۔ عوام اور حکام کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ جنگلی حیات کا شکار کرنے کے بجائے ان کی حفاظت کریں، ورنہ وہ وقت دور نہیں جب کئی جنگلی حیات ہمیں صرف تصاویر میں ملا کریں گی، یا میوزیم میں۔

وقت ابھی ہمارے ہاتھ میں ہے، لیکن شاید جلد ہی ہاتھ سے نکل جائے گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *