افغانی شہری پاکستانی پولیس میں ایس پی کے عہدے تک پہنچ گیا

رپورٹ: اسرار راجپوت

سندھ پولیس کا سپرنٹینڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اور اسکا سُسرال مبینہ طور پر افغان شہری نکلے جس پر نادرا نے حساس اداروں کی رپورٹس پر ایس پی اور اس کے سسرال کے دوسرے افراد کو غیر ملکی قرار دیتے ہوئے ان کے شناختی کارڈز منسوخ کرنے کی سفارش کی تھی ۔ نادرا کی جانب سے کی گئی اس کاروائی کے بعد ایس پی اور دوسرے افراد کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور بینک اکاؤنٹس بھی بلاک ہو گئے ہیں ۔جس کے بعد اب وزارت داخلہ کی طرف سے مزکورہ افغانیوں کو ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایس پی اور اس کے خاندان کے دوسرے افراد نے مبینہ طور پر نادرا سے جعلی قومی شناختی کارڈز بنوا رکھے تھے جبکہ ایس پی کی ایک سالی کے بیٹے افغانستان میں عرصہ دراز سے قابض غیر ملکی افواج انٹرنیشنل سکیورٹی ایسیسٹینس فورس (کمک ھو ھمکاری) یا (ISAF), نیٹو فورسز (NATO FORCES) اور افغان سی آئی اے (CIA) کے بھی ایجنٹ ہیں اور آج کل وہ بھی قومی شناختی کارڈز کی بنیاد پر وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور نیٹو فورسز اور افغان سی آئی اے کے لیے مبینہ طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

ایس پی پولیس فورس جوائن کرنے سے پہلے پاکستان آرمی میں سپاہی بھی بھرتی ہوا تھا اور ایک جنگ بھی لڑ چکا ہے۔ ایس پی کی سالی کے ایک بیٹے کے پاس پاکستانی میڈیا کا جعلی کارڈ بھی موجود ہے ،جس کا فائدہ اُٹھا کر وہ مبینہ طور پر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث رہتا ہے جبکہ اسی کا ایک اور بھائی اسلام آباد پولیس کے ایک انسپکٹر کا آلہ کار بنا ہوا ہے ، جس نے نہ صرف اسکو سرکاری وردی اور کلاشنکوف دے رکھی ہے بلکہ اس کے زریعے جڑواں شہروں میں قانونی و غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کو حراست میں لے کر خفیہ پرائیوٹ ٹارچر سیلز میں منتقل کر کے ان کو ڈرا دھمکا کر ان سے بھاری رقوم بٹور کر بعد میں ان کو رہا کر دیا جاتا ہے۔

حیران کن طور پر مبینہ افغان شہری ایس پی کے دو بیٹے بھی سندھ پولیس میں ملازمت کر رہے ہیں ،جن میں سے ایک انسداد دہشت گردی فورس میں کمانڈو ہے اور سندھ حکومت کی اعلی شخصیات کی سکیورٹی پر بھی تعینات ہے۔ ایس پی کا بڑا بیٹا ایک بار پولیس کی نوکری چھوڑ کر افغانستان بھی بھاگ گیا تھا اور وہاں مالٹوں کی ریڑھی لگا لی تھی مگر بعد ازاں ایس پی نے اس کو واپس بلوا کر دوبارہ پولیس کی نوکری دلوا دی۔

تمام سرکاری اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والا ایس پی حال ہی میں پولیس فورس سے ریٹائر ہوا ہے۔ زرائع کے مطابق ایس پی نے دوران سروس مبینہ طور پر لاتعداد افغانیوں کو اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے حیدر آباد سے نادرا کے جعلی شناختی کارڈز بنوا کر دیے ہیں۔ زرائع کے مطابق ملک کی ایک اعلی ترین انٹیلیجینس ایجینسی کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں نادرا نے مبینہ افغان شہری ایس پی اور ان کی دوسرے خاندان کے افراد کے قومی شناختی کارڈز منسوخ کر کے ان کے خلاف تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ اس ہولناک انکشاف کے بعد نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلیجینس ایجینسیز میں کھلبلی مچ گئی ہے بلکہ حکومتی ایوانوں کے بھی در و دیوار بھی کانپ اُٹھے ہیں۔

جبکہ دوسری طرف سابقہ ایس پی نے دعوی کیا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں اور انہوں نے اپنے قومی شناختی کارڈ کو بلاک کرنے کے اقدام کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے ،جبکہ سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حکم پر ضلعی سطع پر بنائی جانے والی کمیٹی کے سربراہ ڈی سی حیدر آباد نے بھی ایس پی کو ایک لیٹر جاری کر دیا ہے اور حکم دیا کہ ایس پی اور دوسرے افراد اپنے پاس موجود ریکارڑ، جس سے وہ خود کو پاکستانی شہری ثابت کر سکیں، سمیت کمیٹی سامنے پیش ہوں۔ تاہم حیران کن طور پر ایس پی نے قبول کیا ہے کہ ان کی بیوی، سسر، دو سالیاں، ان کے شوہر اور انکے بیٹے افغان شہری ہیں اور ایک سالی کے بیٹے نیٹو فورسز اور افغان سی آئی اے کے ملازم بھی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس کا حال ہی میں ریٹائر ہونے والا ایس پی سردار خان مینگل ولد امیر جان خان (CNIC#41303-3118058-3) مبینہ طور پر افغان شہری نکلا ،جس پر ایک انٹیلی جینس ایجینسی کی رپورٹ پر نادرا نے اس کا قومی شناختی کارڈ منسوخ کر کے مزید انکوائری شروع کردی ۔ ذرائع کے مطابق ایس پی جو کہ اصل میں جلال آباد افغانستان کا رہائشی ہے نے اپنے جعلی کارڈ پر جائے پیدائش حیدر آباد ظاہر کی ہے اور تاریخ پیدائش 1/1/1953 جبکہ مکمل پتہ ضلع پٹھان کالونی، مکان نمبر 151, گلی نمبر 6, ضلع حیدر آباد، سندھ درج کروایا ہے۔ ایس پی نے ایک اس شناختی کارڈ پر دو موبائل نمبر بھی حاصل کئے جن میں سے ایک 03145662417 ہے جو 27جون 2008کو لیا تھا جبکہ دوسرا نمبر 03313616169 ہے یہ بھی زونگ پر تبدیل کرایا گیا .جبکہ ایس پی کے سُسر نور محمد ولد تاج محمد (CNIC#41302-2777123-3) نے بھی نادرا سے جعلی کارڈ بنوا رکھا ہے اور یہ کارڈ بھی حیدر آباد سے بنا ہے جبکہ نور محمد کا پرانا کارڈ پشاور (CNIC#138-32-052741) سے بنوایا تھا۔ نور خان نے بھی اس جعلی شناختی کارڈ پر ایک ٹیلی نار سے نمبر12جولائی 2015 کو اسلام آباد سے 03455296594 حاصل کیا جس کے لئے ایڈریس گھر نمبر 151،پٹھان کالونی درج کرایا تھا .

حیران کن بات یہ ہے کہ ایک شخص پہلے پشاور اور بعد میں حیدر آباد کیسے پیدا ہو سکتا ہے اور اس انکشاف نے تحقیقاتی اداروں کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق انٹیلی جینس ایجینسی کے نوٹس میں یہ بات بھی آئی کہ ایس پی کی بیوی حکم جان، ساس خوبانہ، سالے ظاہر خان ولد نور محمد، سالی بس بی بی اور اس کے چار بیٹوں زبیع اللہ، اجمل، اکمل اور نجیب اللہ، دوسری سالی ملالہ بی بی، اس کا شوہر رحمت اللہ اوران کے بیٹے اعظم نے بھی نادرا سے جعلی شناختی کارڈز بنوا رکھے ہیں۔ جبکہ ایس پی کے سانڈو اصحاب الدین (جو کہ بس بی بی کا شوہر ہے) کو نادرا شناختی کارڈ بنوانے کی کوششوں پر ملک کی اعلی ترین انٹیلی جینس ایجینسی نے پانی پھیر دیا۔

ذرائع کے مطابق ایس پی نے اپنی ایک بیٹی سالی بس بی بی کے بیٹے زبیع اللہ کے عقد میں دی ہے جو کہ اپنے شوہر کے ساتھ جلال آباد افغانستان میں رہائش پزیر ہے جبکہ اس کے شوہر پاس بھی نادرا شناختی کارڈ ہے۔ زرائع نے مزید انکشاف کیا کہ بس بی بی کا ایک بیٹا اجمل امریکی فورسز اسحاف، نیٹو اور افغان سی آئی اے کا بھی کارندہ ہے جس کا افغان پولیس کارڈ، افغانی پاسپورٹ نمبر391221 -OR جو کہ مورخہ 24اپریل 2008 کو کابل سے جاری ہوا ،وہ بھی اعلی انٹیلی جینس ایجنسی کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ اس سے قبل اجمل نے نادرا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے چند کرپٹ اہلکاروں کی مدد سے 20مارچ 2006 کو نادرا کا قومی شناختی کارڈ بنوایا جو کہ 29فروری 2016 تک کارآمد تھا جس پر اس کی تاریخ پیدائش یکم جنوری1986 درج ہے اور راولپنڈی میں موجود کرایہ کے مکان نمبر 111, گلی نمبر 28, محلہ فوجی کالونی، پیر ودھائی درج ہے۔

ذرائع کے مطابق اجمل افغان سی آئی میں انسپکٹر کے عہدہ پر براجمان ہے اور ایس پی کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور آج کل ترنول میں رہائش پزیر ہے۔ زرائع کے مطابق اجمل اسی افغانی پاسپورٹ پر جرمن آرمی کے ایک جنرل سے ملنے دبئی بھی جا چکا ہے ۔اجمل کے مبینہ طور پر اسلام آباد پولیس کے ایک انسپکٹر اکرم رانجھا سے بھی تعلقات ہیں جب کہ پولیس افسر نے اسے ایک کلاشنکوف اور اوور کوٹ بھی دے رکھا ہے اور اجمل اور انسپکٹر جڑواں شہروں میں رہائش پزیر افغانیوں کر پکڑ کر ان کو پرائیوٹ عقوبت خانوں میں بند کر دیتے ہیں اور بعد ازاں ان سے بھاری رقوم وصول کر کے آزاد کر دیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجمل کو ایس پی سردار خان نے ہی انسپکٹر اکرم رانجھا سے متعارف کروایا تھا۔اجمل مبینہ طور پر آج کل دو ملکوں مابین جاسوسی بھی کر رہا ہے۔ اسی طرح اجمل کے بھائی نجیب سے بھی اسلامک ریپبلک آف افغانستان کا افغانی شناختی کارڈ (جسے افغانی زبان میں افغانی تسکرہ کہتے) بھی برآمد ہوا ہے۔ جبکہ ان کا تیسرا بھائی اکمل بھی نہ صرف نادرا کا جعلی کارڈ بنوا چکا ہے اور ترنول میں بلیئرڈ کلب چلا رہا ہے بلکہ اس کے پاس پاکستانی میڈیا کا پریس کارڈ بھی ہے جسے وہ مبینہ طور پر اپنے مزموم مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ایس پی سردار خان کی دوسری سالی ملالہ بی بی، اس کے شوہر رحمت اللہ اور ان کے بیٹے اعظم خان نے بھی نادرا کے جعلی کارڈز بنوا رکھے ہیں اور زرائع کا کہنا ہے کہ ایس پی حیدر آباد سے مبینہ طور پر تار کول چوری کر کے رحمت اللہ کو بھیجتا ہے جو کہ یہ چوری شدہ تار کول ٹیکسلا میں فروخت کرتا ہے جبکہ اسکا دوسرا ٹھیہ مندرہ جی ٹی روڈ کے قریب ہے۔ زرائع نے یہ بھی دعوی کیا کہ ٹیکسلا اور مندرہ میں راولپنڈی پولیس کی چند کرپٹ اہلکار رحمت اللہ سے منتھلی لے کر رات کو داخل ہونے والے تارکول کے ٹرکوں کو تلاشی لیے بغیر چھوڑ دیتے ہیں۔

واضع رہے کہ رحمت اللہ نے دوسری شادی ایک اور افغان عورت بخت مبینہ سے رچا رکھی ہے۔ رحمت اللہ کا پہلی بیوی سے بیٹا اعظم راولپنڈی کے تھانہ پیر ودھائی میں پولیس کی جعلی وردی پہنے کھڑا تصویر بنواتے اعلی انٹیلی جینس ایجینسی کے اہلکاروں کی نظروں میں آگیا ہے۔ اعظم راولپنڈی پولیس کی کچھ خواتین ملازمین کے ساتھ مبینہ طور پر منشیات کی سمگلنگ میں بھی ملوث ہے اور آج کل حسن ابدال میں مچھلیاں بھی فروخت کرتا ہے جس کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آ نکھوں میں دھول جھونکنے سوا کچھ نہیں ہے۔ دوسری طرف سابقہ ایس پی سردار خان نے اپنے دو بیٹوں کو بھی سندھ پولیس میں بھرتی کروا رکھا ہے جن کی متعدد پاکستانی سیاستدانوں بشمول پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستان آرمی کے اعلی رینک کے افسران کے ساتھ سندھ میں مختلف تقاریب میں بنوائی گئی تصاویر بھی ملکی سکیورٹی کی ذمہ دار ایک ایجینسی نے حاصل کر لیں ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔

واضح رہے کہ ڈی جی ویجیلینس ڈیپارٹمنٹ نادرا ھیڈ کوارٹرز نے ایس پی کے خلاف تفتیش میں اہم کردار ادا کیا جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ سٹیٹ ویوز کے استفسار پر سابقہ ایس پی سردار خان نے بتایا وہ افغانی نہیں بلکہ پاکستانی شہری ہیں جبکہ ان کا سسر، بیوی، سالیاں، سانڈو اور انکی اولادیں افغانی ہیں۔ انھوں نے کہا انٹیلی جینس ایجینسز انکو بلیک میل کر رہی ہیں جبکہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نادرا کے ان اقدام کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جبکہ ڈی سی حیدر آباد نے بھی وزارت داخلہ کے احکامات کی روشنی میں ان کو لیٹر لکھ کر پاکستانی شہری ہونے کے تمام ثبوت مانگ لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایجینسی نے ان کے خلاف یہ بھی رپورٹ بنائی کہ میں ماضی میں دن وقت رکشہ چلاتا تھا اور رات کو ڈکیتیاں کرتا تھا جو کہ سراسر زیادتی اور من گھڑت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے والد 1922 میں افغانستان سے کوئٹہ ریاست قلات آئے اور مزدوری کرنا شروع کر دی۔ 1935 میں کوئٹہ میں زلزلہ آیا اور ان کے والد وہاں سے بمبئی چلے گئے اور بعد ازاں بمبئی سے آگرہ آگئے۔

ایس پی نے بتایا کہ ان کے والد 1942 میں آگرہ سے واپس حیدر آباد (اس وقت انڈیا کا حصہ تھا) آگئے اور یہاں مسافر خانہ لیا۔ اِنھوں نے بتایا کہ ان کے والد نے 1950 میں پٹھان کالونی کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والد نے 1945 میں حیدر آباد سے شادی کی ،1947 میں انکی بڑی بہن پیدا ہوئی اور 1953 میں وہ پیدا ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے 1960 میں اُردو گورنمنٹ پرائمری سکول میں داخلہ لیا اور 1966 میں پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ 1970 میں حیدر آباد سندھ کے مشہور نور محمد ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پاکستان آرمی جوائن کر لی۔

ایس پی نے بتایا کہ بطور سپاہی 1971 کی جنگ بھی لڑی۔ 1972 میں سندھ پولیس فورس بطور سپاہی جوائن کی اور ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے 2013 میں ایس پی کے عہدے پر ترقی پائی اور شکار پور سمیت مختلف شہروں میں تعینات رہا۔ 11 سال تک شداد پور میں لاء انسٹرکٹر کے فرائض بھی سر انجام د دیئے اور پھر 2014 میں پولیس سروس سے ریٹائر ہوئے۔

ایک سوال کے جواب میں سردار خان نے بتایا کہ ان کا سسر نور محمد پاکستانی ہے کیونکہ 1951 میں جو بھی شخص پاکستان آیا وہ قانونی طور پر پاکستانی ہے۔ جب پوچھا گیا کہ آیا کہ نور محمد افغانی ہیں تو ایس پی نے جواب دیا نور محمد پاکستان بننے سے پہلے خیر آباد میں رہائش پذیر تھے۔ انھوں نے کہا کہ 1951 میں حکومت پاکستان نے سٹیزنشپ آف پاکستان آرڈیننس جاری کیا جس میں تین بار تبدیلی ہوئی اور 1974 میں افغان مہاجر پاکستان آئے جنھیں 1978 میں پاکستانی شہریت دے دی گئی اور انھوں نے شناختی کارڈز اور پاسپورٹ بنوائے۔ ایس پی نے اپنے سانڈو اصحاب الدین کے بارے میں بتایا کہ وہ 1975 میں حیدر آباد میں مزدوری کرتا تھا اور پھر اس کی شادی ان کی سالی بس بی بی سے ہوئی جس میں سے چار بیٹے پیدا ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ اصحاب کے پاس افغان مہاجر کارڈ تک نہ تھا تو پھر اس کے بیٹوں کے اور بیوی پاس نادرا کے کارڈز کیسے آگئے؟ انھوں نے بتایا کہ اصحاب الدین کا ایک بیٹا زبیع اللہ خان انکا داماد ہے جبکہ دوسرا بیٹا اجمل افغانستان میں مجاہدین سے برسر پیکار نیٹو فورسز اور افغان خفیہ ایجینسی کا اہلکار ہے۔ سابقہ ایس پی سردار خان مینگل کا کہنا تھا کہ وہ انٹیلیجینس ایجنسی کے انکوائری افسر کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے اور اسے عدالتی کٹہرے میں لائیں گے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ ایک سوال کے جواب میں ایس پی نے کہا کہ انھوں نے افغانیوں کو حیدر آباد سے جعلی نادرا شناختی کارڈز نہ بنوا کر دیے ہیں اور اگر کوئی ایجینسی ان کے ملوث ہونے کا ثبوت دے دے تو وہ ہر سزا بھگتنے کو تیار ہیں۔ تاہم ایس پی نے باوجود اصرار کے نہ بتایا کہ آرمی میں ان کی یُونٹ کونسی تھی۔

اس ضمن میں جب نادرا ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کے ایک اعلی افسر سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ نادرا نے ایس پی سردار خان اور اس کے سسرالیوں کے شناختی کارڈز ایک انٹیلی جینس ایجینسی کی رپورٹ پر کہ یہ سب غیر ملکی ہیں منسوخ کر دیے ہیں۔

دوسری طرف آئی ایس پی آر (ISPR) کے ایک اعلی افسر نے سٹیٹ ویوز کے رابطہ کرنے اور اس سوال،کہ آیا سردار خان کبھی پاکستان آرمی میں سپاہی رہا ہے یا اس نے 1971 کی جنگ لڑی، کے جواب میں کہا کہ انھیں ایسی انفارمیشن میڈیا کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو ایس پی کی متعلقہ یونٹ ہی بہتر طور پر بتا سکتی کہ اس نے کون سی جنگ لڑی یا پھر متعلقہ سیکٹر جہاں اس نے آرمی جوائن کرنے کے بعد ٹریننگ کی تھی۔ اس افسر نے سٹیٹ ویوز کو مشورہ دیا کہ بہتر ہوگا کہ ایس پی سے متعلق معلومات پولیس، آئی بی یا ایف آئی اے سے لیں کیونکہ یہی ایجینسیاں آپ کو وہ تمام تفصیلات مہیا کر سکتی ہیں جو آپ آئی ایس پی آر سے لینا چاہ رہے ہیں اور ان ایجینسیز کی فراہم کردہ معلومات عدالتوں میں بھی قابل قبول ہوں گی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حال ہی میں کرپشن الزامات پر ملک کی اعلی عدالت سے نا اہل ہونے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بعد تحلیل ہونے والی وفاقی کابینہ کے سابق دبنگ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، جن کے سر غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں سمیت دوسرے غیر ملکیوں کے شناختی کارڈز کی دوبارہ تصدیق کرانے کا سہرا جاتا ہے، کے بعد نیا آنے والا وزیر داخلہ اسی رفتار سے ان افغانیوں کے خلاف کاروائی جاری رکھے گا؟ کیونکہ یہ چیز دیکھنے میں آئی ہے کہ نادرا کے چند کرپٹ افسران، لیگل برانچ اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے نمائندے (جو کہ متعلقہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کے زیر اثر ہیں) جعلی شناختی کارڈز کے حامل افغانیوں اور دوسرے جرائم پیشہ افراد سے لاکھوں روپے رشوت لے کر ان کو کلین چٹ دے رہے ہیں جس سے نہ صرف ملکی سکیورٹی خطرے میں پڑ گئی ہے بلکہ ملک کے اندر جرائم میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

جن علاقوں میں نادرا کے کرپٹ افسران رشوت لے کر جعلی شناختی کارڈز رکھنے والے افغانیوں کو کلین چٹ دے رہے ان میں راولپنڈی، روات، بلوچستان میں کوئٹہ کے متعدد علاقے اور کے پی کے شامل ہے۔ دوسری طرف جب ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر سے متعدد بار یہ جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا کہ آیا سردارخان کبھی پاکستان آرمی کا حصہ رہا مگر انھوں نے کوئی جواب نہ دیا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *