پاک پتن میں حضرت بابا فرید شکر گنج کا 776واں عرس جاری، بہشتی دروازہ کھول دیا گیا

پاک پتن کا سالانہ 15روزہ عرس 10محرم الحرام کو اختتام پذیر ہوگا، 776واں عرس 5روز قبل شروع ہوا تھا، جس میں محتاط اندازے کے مطابق 5 سے 7 لاکھ زائرین شریک ہوتے ہیں.

عرس کے دوران سال میں ایک بار 5 سے 10 محرم الحرام تک 5 راتوں کے لیے بہشتی دروازے کو کھولا جاتا ہے۔

اس درگاہ کے سجادہ نشین اس وقت دیوان احمد مودود مسعود چشتی ہیں جبکہ ان کے بیٹے دیوان احمد مسعود چشتی بھی اس درگاہ کے انتظامات کو دیکھتے ہیں۔

پاک پتن کو مشہور صوفی بزرگ بابا فرید ؒ کا شہر کہاجا تا ہے۔ پاک پتن دو لفظوں ’’پاک ‘‘اور ’’ پتن ‘‘ کا مجموعہ ہے، جس کے معنی پاک جگہ کے ہیں۔

علاقائی اور تاریخی روایات کے مطابق پاک پتن کو یہ نام بابا فرید گنج شکر ؒ نے دیا تھا ۔

روایت کے مطابق ایک دن بابا فرید دریائے ستلج کے کنارے تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی نے آکر کہا ’’ جہاں آپ بیٹھے ہیں وہ گندی جگہ ہے ‘‘ بابا فرید ؒ نے فرمایا ’’ نہیں ! یہ تو پاک جگہ ہے ‘‘، یوں یہ علاقہ ’’ پاک پتن ‘‘ کہلایا جس کے معنی پاک جگہ ہیں۔

پاک پتن پاکستان کے صوبہ پنجاب کا مشہور ضلع ہے، اس کو پیران عظام اور اولیا کرام کا شہر بھی کہا جاتا ہے ۔ بڑی تعداد میں صوفیا کرام نے یہاں اسلام کی تعلیمات پھیلانے کیلئے کوششیں کی ہیں۔

پاک پتن کا پرانا نام اجودھن تھا، سکھوں کے مذہبی پیشوا اور بانی بابا گورو نانک صاحب نے بھی پاک پتن کا دورہ کیا تھا۔ بابا فرید الدین قطب بھی اسلام کی اشاعت کیلئے یہاں تشریف لائے جن کی کوششوں سے بڑی تعداد میں سکھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔

محرم الحرام میں بابا فرید گنج شکر ؒ کے عرس کے موقع پر باب بہشت کھولا جاتا ہے اور اس موقع پر پورے بر صغیر سے آپ کے مریدین اور متقدین یہاں آتے ہیں۔

اس شہر کو تاریخی طو ر پر بابا فرید گنج شکر کی وجہ سے عزت و احترام سے یاد رکھا جاتا ہے، اس کا پرانا نام اجودھن تھا، انگریز سامراج کے دور میں یہ تحصیل اور ضلعی صدر مقام تھا۔

یہاں سے 29 میل دور منٹگمری اسٹیشن واقع ہے ، یہاں میونسپلٹی نظام 1867 میں قائم کیا گیا ۔ 1901 میں پاک پتن کی آبادی 6192 افراد پر مشتمل تھی ۔ 997 عیسوی میں سلطان محمود غزنوی نے اپنے والد سلطان سبگتگین کی طرف سے قائم کردہ غزنوی سلطنت پر قبضہ کرلیا ۔ انہوں نے 1005 عیسوی میں کابل کے شاہی خاندان کو شکست دی ۔ اس کے بعد وہ پنجاب پر حملہ آور ہوئے اور شمالی پنجاب کے علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا، بعد ازاں سلاطین دہلی اور مغلوں نے بھی جہلم اور آس پاس کے علاقوں پر حکومت کی۔

پنجاب کا علاقہ بنیادی طور پر مسلم صوفی بزرگوں کی تعلیمات کی وجہ سے جانا جاتا ہے جن کی درگاہوں اور مزارات نے صدیوں سے خلق خدا کو ہدایت کی روشنی بخشی ہے۔

پاک پتن بھی ان علاقوں میں شامل ہے جو نہ صرف اسلام کی تعلیمات سے اولین دور میں روشناس ہوئے بلکہ عسکری لحاظ سے اس کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔

پاک پتن معاشی طور پر اہمیت حامل ہے خصوصاً گندم اورکپاس وغیرہ کی درآمدات کےحوالے سے بھی مشہور ہے، یہاں ایک مڈل سکول اور ڈسپنری بھی موجود ہے جو 1849 سے 1852 کے درمیان قائم کی گئی تھیں.

ماضی میں یہاں سے اطراف کے گائوں کو امرتسر ‘ جالندھر سے گنے ‘ چینی اور گڑ وغیرہ کی ترسیل جبکہ امرتسر ‘ دہلی ‘ کراچی تک سامان تجارت کی ترسیل و آمدورفت اور افغانستان سے آنے والے پھلوں کی تجارت کیلئے بھی یہ علاقہ مشہور رہا ہے۔

عرس 10محرم الحرام کو اختتام پذیر ہو جائے گا جس کے بعد درگاہ کو باقاعدہ غسل دیا جائے گا اور اس کے بعد بہشتی دروازے کو ایک سال کے لئے بند کردیا جائے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *