جب سے دنیا بنی ہے، ہمارے خطے کو ایک خاص میکنزم سے پانی ملتا ہے:پانی کے امور کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس

پانی کے امور کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس کی تحقیق کے مطابق جب سے دنیا بنی ہے، ہمارے خطے کو ایک خاص میکنزم سے پانی ملتا ہے اور اس پانی کے حصول کے تین ذرائع ہیں۔

جنوب میں بحرہند، آسمان پر سورج اور شمال کی جانب ہمالیہ، کوہ ہندوکش اور قراقرم کے پہاڑی سلسلے ۔۔

جب سورج سمندر پر چمکتا ہے تو بادل بنتے ہیں، یہ بادل شمال کی جانب سفر کرتے ہیں کہ جہاں پہاڑی سلسلے ہیں، ان کے پہاڑوں سے ٹکرانے پر بارش اور برف باری ہوتی ہے، یہ بادل گلیشئیر بننے کی بھی وجہ ہیں اور انہی گلیشئیرز کا پانی دریائے سندھ میں شامل ہوکر پورے ملک تک پہنچتا ہے۔

لاکھوں سال گزرگئے، ہمارے خطے میں فراہمی آب کا یہ نظام چل رہا ہے اور یہ اسی صورت میں ختم ہوسکتا ہے کہ جب سمندر خشک ہوجائے، سورج کی روشنی گل ہوجائے یا پہاڑ اُڑ جائیں۔

یہ قدرت کا اتنا زبردست سسٹم ہے کہ دنیا میں جتنی گلوبل وارمنگ ہوگی، ہمارے خطوں میں اتنی زیادہ بارشیں ہوں گی اور پانی کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے گا، اگر بارشوں کا ڈیٹا دیکھیں تو شمال میں اضافی بارشیں اسی بات کی دلیل بھی ہیں۔

بھارت کو تین دریا دینے کے بعد پاکستان کو سالانہ 145 ملین ایکڑ فیٹ پانی ملتا ہے، جس میں سے 104 ملین ایکڑ فیٹ پانی ہم فصلوں کی اگائی میں استعمال کرتے ہیں، اس وقت پاکستان جتنا پانی کاشت کاری کے لئے استعمال کررہا ہے، اتنا ہی کیلی فورنیا میں استعمال ہوتا ہے مگر وہاں 50 فیصد زیادہ فصلوں کی پیداوار ہے اور اس کی وجہ ہمارا ایری گیشن سسٹم اچھا نہ ہونا ہے۔

اگر پاکستان اپنا ایری گیشن سسٹم بہتر کرلے تو ہم صرف 50 ملین ایکڑ فیٹ پانی سے موجودہ پیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔

عالمی اسٹینڈرڈ کے مطابق ایک گھرانے کو 35 گیلن پانی یومیہ درکار ہوتا ہے، جس میں کھانے، پینے، نہانے اور کپڑے دھونے سمیت دیگر ضروریات پوری کی جاتی ہیں، اگر ہم پاکستان میں رہنے والے ہر فرد تک اس عالمی معیار کے مطابق پانی پہنچائیں تو ہمیں 17 ملین ایکڑ فیٹ پانی درکار ہوگا۔

اس وقت ہماری صنعتیں آٹھ ملین ایکڑفیٹ پانی استعمال کررہی ہیں جبکہ مستقبل میں یہ ضرورت بڑھ کر دس ملین ایکڑفیٹ تک ہوسکتی ہے، گویا ہمارے پاس ہماری ضرورت سے دگنا پانی موجود ہے۔

پاکستان میں پانی کے موجودہ بحران کی وجہ ترسیل کا نظام بہتر نہ ہونا ہے، کاشت کاری میں ضرورت سے تقریبا دگنا پانی ضائع ہورہا ہے۔

پاکستان میں پانی کے بحران کی ایک اور وجہ آلودگی اور کرپشن بھی ہے اور بڑے ڈیم بنانا ان تمام مسئلوں کا حل نہیں ہے۔

بڑے ڈیموں کی تعمیر میں تقریباً ایک دہائی لگتی ہے، ان کی عمر مختصر ہوتی ہے اور مٹی کی سطح بڑھنے پر رفتہ رفتہ یہ ختم ہوجاتے ہیں، اس لئے ماہرین کے مطابق ڈیم پانی کے مسئلے کا حل نہیں ہیں۔

اب عمران خان ڈیم کی آڑ میں آپ کی جیبوں پر ڈاکا مار کر کیا حاصل کرنا چاہتا ہے، یہ قابل غور ہے، اس آدمی کا باپ بھی سکہ بند چور تھا گویا یہ ایک پیشہ ور ہے، زندگی بھر مانگے تانگے پر چلتا رہا ہے اور وزیراعظم بننے کے بعد بھی اس کے پاس مانگے تانگے کے پیسوں سے ملکی معیشت چلانے کے علاوہ کوئی اور حل نہیں۔

200 ارب ڈالر کی ‘لوٹی’ ہوئی دولت لانے کی بات کرکے اس نے اسٹبلشمنٹ کی مدد سے ملک پر قبضہ کیا، ٹیکس نیٹ بڑھانے کا لالچ دیا، لوٹی ہوئی دولت کا پتہ ہے اور نہ ٹیکس نیٹ کا علم ہوسکا کہ کیا کیا گیا، اگر پتہ چلا تو یہ کہ موصوف چندہ مانگ کر قوم کی تذلیل کررہے ہیں اور چندہ بھی ایک ایسے معاملے پر مانگا جارہا ہے، جو محض دھوکا ہے، یہ آدمی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے چار ارب روپے پہلے ہی کھاچکا ہے اور اس کے اپنے لوگوں نے اس پر کیس کیا ہوا ہے، اب یہ ہل من مزید، ہل من مزید کرکے اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے ساتھ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ کرنا چاہتا ہے۔

بغیر چندے کے آصف زرداری نے نیلم جہلم، دڑاوت ڈیم، نئی گج ڈیم، ناؤلونگ ڈیم، ست پارہ ڈیم، گومل زم زم، ڈانڈے ڈیم، درگئی پل ڈیم اور الائی خوار ڈیم کے بڑے ڈیموں پر مشتمل کامیاب منصوبے شروع کئے اور عمران خان آپ سے جھوٹ بول رہا ہے کہ کبھی کوئی ڈیم نہیں بنا۔

ہوشیار رہئے ۔۔ قرض اتارو ملک سنوارو مہم کی طرح یہ ایک اور فراڈ ہے، ڈیم نہیں بلکہ ڈیم فول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تحریر : عثمان غازی

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *