بدھ, مئی 22, 2024
ہومبلاگایم کیو ایم کی بیمار قیادت

ایم کیو ایم کی بیمار قیادت

تحریر : فارینہ حیدر 

ایم کیو ایم کے ووٹر، سپورٹر ہوں یا ان کے شہداء کے گھرانے، ان کے مسائل حل نہیں ہو رہے ، اس کی وجہ کیا ہے؟
ایم کیو ایم کے ورکر، ووٹر اور سپورٹر سب جگہ سر پھوڑ رہے ہیں کہ ہمارے کام پی پی پی نے روکے ہوئے ہیں ، سندھی ہمارا کام نہیں کر رہے اور ساری سرکاری اور پرائیویٹ نوکریوں کے کام وزیر صحت روکے  بیٹھی ہے چاہے مسئلہ ان کی وزارت کا ہو یا  نہیں ہو. وزیر محترمہ اردو بولنے والوں کے کام روکتی ہےخاص کر ان لوگوں کے جن کے گھروں کے سربراہ کراچی کے خراب حالات کی وجہ سے مارے گئے ہیں، ان گھرانوں کے کام روکنا فرض سمجھتی ہے جب ان پر انگلی اٹھتی ہے تو یہ ایک خاتون ہوتی ہے ان کی عزت ہوتی ہے اس لیے یہ اپنے گھر کے مردوں کو   کھڑا کر دیتی ہے ۔

یہ بات کنونیئر ایم کیو ایم بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں لیکن وہ اس مسئلے کو حل نہیں کر رہے ہیں  جبکہ 2016 سے پارٹی کے کنونیئر ہے وفاقی وزیر بھی ہیں اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ اور عمران خان کے نزدیک انتہائی نفیس شخصیت ہیں بلکہ عمران خان کے نزدیک ایک اور نفیس شخصیت تھے اس وقت کے وزیر قانون ۔ جب سے خالد مقبول صاحب کو کنوینئر شپ ملی ہے کراچی والوں کی نوکریاں چاہے سرکاری ہویا پرائیویٹ بند کردی گئیں ہیں یا تنخواہیں اتنی کم مل رہی ہے کہ دو وقت کی روٹی تک نہیں کما سکتے، ہمارے پڑھے لکھے لڑکے 12، 12 گھنٹے  دفتروں میں کام کر رہے ہیں اور 25 ہزار تنخواہ ان کو مل رہی ہے جب خرچے پورے نہیں ہوتے تو پھر چھوٹے چھوٹے کام ڈھونڈتے پھرتے ہیں جبکہ یہی پنجابی، سندھی سرائیکی جو کراچی میں رہ رہے ہیں ان کے  اتنے برے حالات نہیں ہے کراچی والوں کا پیسہ چاروں طرف سے بند ہے اتنی سخت بندش ہے کہ اگر بنی اسرائیل کی ایسی بندش ہوتی تو وہ تو آسمان سے پتھر برسانے  کی دعا  کرتے ۔

اب آتے ہیں اس کے حل کی طرف اس  مسئلے کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ کنونیر خالد مقبول صدیقی مہاجروں کی قیادت اور ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں تو اس لیے اب انہیں اس منصب سے چلے جانا  چاہیے. اس وقت کنونیر صاحب کے پاس پارٹی کی کنوینئر شپ کے ساتھ دو وفاقی وزارتیں بھی ہیں جبکہ خالد صاحب شدید علیل ہے اور بلڈ کینسر کے عارضے میں مبتلا ہیں. خود سوچے اس عمر میں جب بی پی اور شوگر کے ساتھ کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے تو کنونیر صاحب اتنی سخت بیماری میں پارٹی کی صدارت کے ساتھ دو وفاقی وزارتوں کے کام کیسے کر رہیں ہیں سیدھی سی بات اپنی تنخواہیں چلا رہے ہیں اور ان کے گروپ کے لوگ ان کے نام پر سیاہ سفید کر رہے ہیں ۔

اصل میں ہو یہ رہا ہے کہ جو ان کے گروپ  کے لوگ ہے وہ ٹھیک ٹھاک کما رہے ہیں اور کنوینئر صاحب کی تنخواہ اور مراعات سرکاری سطح پر ان کو مل رہی ہے ۔ میری نوکری کا کیس ہے جس پر یونیورسٹی سے صرف نوٹیفیکیشن نکلنا ہے ۔ 7 سال سے آرڈر آئے ہوئے ہیں وہ پیپلزپارٹی نکلنے نہیں دے رہی کیونکہ انھوں نے جامعہ کراچی کو مکمل طور پر کنٹرول کر لیا ہے.یہ بات کنوینئر کو بہت اچھے طریقے سے معلوم ہے اور انہیں پتہ ہے کہ اگر کراچی یونیورسٹی سمیت دیگر جگہوں پر پیپلز پارٹی کا قبضہ ہٹانا ہے تو سخت اقدامات کرنے ہوں گے پارٹی میں ادھر کی ادھر کرنے والوں کا ہولڈ ختم کرنا پڑے گا ۔ پارٹی کے جن  لوگوں کے خلاف شکایات گئی ہوئی ہے ان لوگوں کی پارٹی رکنیت ختم کرنے سمیت دیگر سخت اقدامات  کرنے ہوگے جو ان سے اپنی طبیعت کی خرابی کے باعث ہو نہیں رہے ۔

ایک سینئر وکیل سے میری نوکریوں اور کاروبار کے حوالے سے بات ہوئی تو کہنے لگے سندھیوں کا اندرون سندھ سے آنا ہجرت کہلاتا ہیں ۔ اندرون سندھ جو لوگ آتے ہیں وہ یہاں کراچی میں مستقل سکونت اختیار نہیں کرتے بلکہ سیاسی اثر و رسوخ پر آتے ہیں انکے گھر بار سب وہی ہوتے ۔ یہ سلسلہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی وزارت عظمیٰ سے شروع ہوا تھا پہلی دفعہ ان کے دور میں ہجرت ہوئی جب محترمہ کی وزارت ختم ہوئی تو یہ سب واپس چلے گئے پھر محترمہ دوسری بار وزیر اعظم بنی تب بھی یہی ہوا اس وقت ان سب نے کراچی سے لیکر اسلام آباد تک ہر جگہ نوکریاں لی اب یہ ان کی تیسری ہجرت ہوئی ہے . یعنی ان کا اس طرح سے کراچی آنا اور ہر ادارے اور محکمے پر اپنا جھنڈا لہرانا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔

اصل مدعا یہ ہے کہ اردو بولنے کو ان حالات میں بھی جینے کی گنجائش ملتی تھی. ان ہی حالات میں انھوں نے اپنے گھر بھی چلائے ، کمایا بھی بچوں کی شادیاں بھی کی لیکن 2016 کے بعد سے اردو بولنے کی گنجائش مکمل ختم کردی گئی ہے ۔ جب تک کنوینئر نہیں بدلے گے ہمارے مسئلہ حل نہیں ہونگے خاص کر ان لوگوں کے مسائل جن کے پیارے کراچی کی بد امنی کا شکار ہوئے ہیں . کنونیئر صاحب وفاقی وزارتیں رکھے یا چھوڑ دیں ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ہم سب کا کام صوبائی ہے ۔

کنوینئر صاحب کو اب ہم سب پر رحم کرنا چاہیے کیونکہ اگر اگر انھوں نے اپنا گھر چلنا ہے تو ہمارے بھی گھر ہے ہمیں بھی اپنا گھر چلانا ہے، صرف ان کی اور ان کے قریبی لوگوں کی زندگیاں نہیں ہے ہماری بھی زندگیاں ہے اور یہ سب ہماری زندگی بھر کی محنت کاغذ کے چند پنوں میں تا حیات قید نہیں کر سکتے. اگر ایسا یہ لوگ مسلسل کر رہے ہیں تو اس کا پھر حساب ہے اگر دنیا میں نہیں ہے تو آخرت میں حساب ہے ۔

ہمارے کاغذ جو کنونیئر صاحب کی وجہ سے روکے ہوئے ہیں وہ اب یہ ہمیں لینے دیں ہمارے کاموں میں رکاوٹ نہ بنیں . کنونیئر صاحب اپنے اور اپنے گروپ کے لوگوں کی خاطر ہمیں مزید تنگ کرنا بند کردیں کیونکہ  لوگ اب پی پی پی کو بھول کر اپنی قیادت کو کوس رہے ہیں. ڈرے بیواؤں اور یتیموں کی بد دعاؤں  سے کیوں کہ پیپلزپارٹی نے تو اب آپ کو ظالم بنا کر پیش کر دیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں