جمعہ, جنوری 16, 2026

قائد جمعیت اور جامعۃ الرشید کے اختلاف کا قضیہ کیا ہے ؟

تحریر : مخلصیار کوئٹہ

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے ۔۔۔۔ کہ ملکی و بین الاقوامی سیاست میں ۔۔۔۔ چند اہم مسائل پر جمعیت علمائے اسلام ۔۔۔۔ اور قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا مؤقف اہمیت کا حامل ہے ۔۔۔۔ حال ہی میں مسئلہ افغانستان ، دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ختم نبوّت کی قانونی حیثیت ۔۔۔ جیسے اہم مسائل پر قائد جمعیت یک تنہاء میدان عمل میں عزم و استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں ۔۔۔ اور غور طلب بات یہ ہے ۔۔۔ کہ ان تینوں مسائل کا آپس میں گہرا سمبندھ ہے ۔۔ اس کی گہرائی کا اندازہ قائد جمعیت کے سخت گیر مؤقف سے لگایا جاسکتا ہے . میرے فیس بک ناقدین میں اکثر سنجیدہ احباب علمائے کرام ہیں ۔۔۔۔ چند ایک نے قائد جمعیت کے حالیہ سیاسی جدوجہد پر خود بھی اپنی آراء کا اظہار کیا ہے ۔۔۔۔ اور مجھ سے بھی بار دیگر کچھ لکھنے کی فرمائش کی ہے ۔۔۔۔ میں ادنیٰ اور کم فہم طالبعلم ہوں ۔

قائد جمعیت سے متعلق میرا لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے ۔۔۔۔ مگر چند ایک حقائق کا تذکرہ اس لیے ضروری ہے ۔۔۔۔ جنہیں دانستہ طور پر متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔۔۔۔ حال ہی جامعۃ الرشید کراچی کے زیر سرپرستی ایک یوٹیوب چینل ٫٫ رفتار ،، نے ۔۔۔۔ جس طرح قائد جمعیت کی سیاسی ماضی کو داغدار کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ جھوٹ اور طبعی نفرت کا ڈاکومنٹری پروپیگنڈہ کیا گیا ۔۔۔۔ وہ خود اپنے دام میں صیاد آنے کا تصویر بن کر بے نقاب ہو گئی ۔

افغان حکومت اور وہاں سے خارجی مزاحمت کاروں کی دخل اندازی سے متعلق ۔۔۔۔ قائد جمعیت کے دورہ کابل اور موجودہ مؤقف کو متضاد رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔۔۔۔ قائد جمعیت نے پاک افغان پڑوسی ممالک کو طرفین کی مشکلات سے نکالنے کیلئے طے شدہ تجاویز پیش کی ۔۔۔۔ اسی عنوان پر اس دورے کی اہمیت کو کم کرنے کیلئے جامعۃ الرشید کو مدمقابل لاکھڑا کیا گیا ۔۔۔۔ جہاں سے چند معروف نامور لکھاری روزانہ کی بنیاد پر ۔۔۔۔ مولانا صاحب کے قول و قول میں تضاد نکالنے پر مامور کیے گئے ہیں ۔

لاہور کے مولوی سفیان صاحب کے بیس تحریروں کا خلاصہ دو جملے میں سمیٹ آتا ہے ۔۔۔۔ کہ مولانا صاحب افغان حکومت کو مزاحمت کاروں کا سرپرست کہہ کر برأت کا اعلان کردیں ۔۔۔۔ مولوی عبد المنعم اور دیگر صاحبان علم بھی اس بات پر زور دیتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔ کہ قائد جمعیت ڈیورنڈ لائن کے اس پار انسانیت کی قتل عام کا فتویٰ صادر فرمائے ۔۔۔۔ تب وہ سیاست کا لاثانی سلطان کہلائے گا ۔۔۔۔ الفاظ کیلئے تکلف بر طرف ۔۔

زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔ 2001 میں افغانستان سے متعلق قائد جمعیت کا مؤقف کسی سے مخفی نہیں ہے ۔۔۔۔ اگر حق نظر تجزیہ کیا جائے ۔۔۔۔ تو آج 25 سال بعد بھی قائد جمعیت کے مؤقف میں کو رتی بھر فرق نہیں آیا ہے ۔۔۔۔ الفاظ کے باہم و مبہم کا فرق ضرور ہوگا ۔۔۔۔ صرف الفاظ کی ابہام پر شور شرابہ کوئی بدنیت انسان کرسکتا ہے ۔۔۔۔ اب اس حوالے سے جامعۃ الرشید کے مؤقف کو بھی جان لیں ۔۔۔۔ کہ 1996 سے 2009 تک حضرت استاذ صاحب مدظلہ کی سرپرستی میں یہی طالبان ملت اسلامیہ کے ہیروز تھے ۔

ضرب مومن نے طالبان کی مزاحمت کے دور کو ۔۔۔۔ غزوات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سرایاتِ صحابہ کرام کا عکاس قرار دیا ۔۔۔۔ ضرب مومن نے طالبان کے فتح کابل کو فتح مکہ سے تشبیہ دیا ۔۔۔۔ ضرب مومن نے مُلا بور جان کی شہادت کو سیدنا اَمیر حمزہ کی شہادت کی طرح درد ناک قرار دیا ۔۔۔۔ ضرب مومن نے اُسامہ بن لادن کو خراسان سے نکلنے والا کالے جھنڈوں کے لشکر کا سپہ سالار تک لکھا ۔۔۔۔ ضرب مومن نے افغان شہداء کے غمزدہ خاندانوں کیلئے ۔۔۔۔ یورپ سمیت ، امت مسلمہ سے لاکھوں ڈالر چندہ جمع کیا ۔۔۔۔ اگر یہ حضرت استاذ صاحب مدظلہ کا علمی مؤقف و تائید تھا ۔۔۔۔ تو آج کے مؤقف کا استدلالِ جواز کیا ہے ۔۔۔۔ ؟ اور اگر یہ بادل ناخواستہ کسی کا فرمودہ خدمت کی گئی تھی ۔۔۔۔ تو پھر حضرت استاذ صاحب مدظلہ کے علمی مقام کا تقاضا یہ ہے ۔۔۔۔ کہ وہ مخدوم مکرم سے جواب طلبی کریں ۔۔۔۔ کہ 2021 اور 2025 کے مختصر درمیانی عرصہ میں بنے بنائے مؤقف میں یہ واضح تضاد کیوں پیدا ہوگئی ۔۔۔۔ ؟

باقی نامناسب القابات ، بیہودہ الزامات اور تضحیک آمیز بیانات ۔۔۔۔ اس سے کسی کا مقام نہیں گھٹتا ہے ۔۔۔۔ افغانستان سے متعلق قائد جمعیت کے تقریباً تیس سالہ مؤقف کو تمھارے ہی ضرب مومن کے کلر صفحات میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔۔۔۔ اگر اس وقت آپ مولانا فضل الرحمٰن کے مؤقف کو جائز اور قابلِ تشہیر سمجھتے تھے ۔۔۔۔ تو پھر قوم کو بتا دیجیئے ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔ قائد جمعیت اور جامعۃ الرشید کے اختلاف کا قضیہ کیا ہے ۔۔۔۔ ؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسکhttps://alert.com.pk/
Alert News Network Your Voice, Our News "Alert News Network (ANN) is your reliable source for comprehensive coverage of Pakistan's social issues, including education, local governance, and religious affairs. We bring the stories that matter to you the most."
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں