پیر, فروری 19, 2024
ہومبلاگاین جی اوز کے مکروہ دھندے

این جی اوز کے مکروہ دھندے

تحریر : فارینہ حیدر

پچھلے چند سالوں سے ہماری قوم کو فلاحی کام کرنے کا خبط سوار ہو گیا ہے. کھانا کھلانے کے بعد جو دوسرا بڑا شغل ہے وہ تعلیم ہے. اس لیے اب اداکار، گلوکار نان بائی سب اپنی اپنی این جی اوز کھول کر بیٹھ گئے ہیں. جو کھانا کھلانے کے فن سے آشنا نہیں ہے انھوں نے این جی اوز کی مدد سے بچوں کو تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے ۔ لیکن یہ این جی اوز بغیر کسی انفراسٹرکچر کے کام کر رہی ہے یہ مسئلہ انتہائی سنگین ہے ۔

ہم کئی دہائیوں سے کراچی میں ایدھی صاحب کی این جی او دیکھ رہے ہیں ۔ اسی طرح میمن کمیونٹی کے تحت چلنے والے کئی اسکولز، کالجز ہسپتال دیکھ رہے ہیں جو عوام کو ریلیف دینے کی سعی کر رہے ہیں ۔ ان ک خوبی یہ ہے کہ میمن کمیونٹی کے تحت چلنے والے شعبوں میں ہر رنگ و نسل کی مدد کی جا رہی ہے ۔ انھوں نے کسی خاص کمیونٹی کے لیے اپنے کمیونٹی سینٹرز مختص نہیں کیے۔
ان کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اپنے ادارے خود بناتے ہیں یعنی زمین سے لے کر انفراسٹرکچر تک سب ان کے اپنے پیسوں سے ہوتا ہے، کسی دوسرے کے اداروں پر قبضہ نہیں کرتے ۔ اس لیے آپ دیکھتے ہو گے کہ پچاس پچاس سال سے یہ ادارےفعال ہے اور خوبصورتی سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ اب ان کے پاس وسائل ہی صرف کراچی تک کے ہیں ۔ اس لیے یہ لوگ اپنے کام کو محدود رکھتے ہیں۔
اب جو این جی اوز تعلیم اور دیگر شعبوں میں جام کر رہی ہیں ۔ حیرت انگیز طور پر نہ ان کی اپنی زمین ہے نہ چھت لیکن بچوں کو پڑھا رہے ہیں ۔ صحت جیسے شعبے میں بھی کام کر رہے ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ یہ کام کیسے کر رہے ہیں۔ تو جواب ہے بڑی تعداد صرف کاغذوں کی حدتک کام کر رہی ہیں ۔ باقی سرکاری اسکولوں کالجوں اور ہسپتالوں پر قبضہ کر کے بیٹھ رہی ہے ۔ تعلیمی شعبے میں ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں کو نااہل ڈکلیئر کرا کر کہ یہ ادارہ سرکاری ملازمین سے نہیں چل سکتا تو اسے ہماری این جی او کو گود دے دیں ۔

نگراں وزیر اعلیٰ کے ساتھ جے ڈی سی، شہزاد رائے کی این جی او اور دیگر این جی اوز کے لوگ سرکاری اداروں پر جو چھاپے مارتے پھر رہے ہیں ۔ وہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ نگراں وزیر اعلیٰ کے ساتھ یہ این جی اوز کے پنچھی جو اڑتے اڑتے پھر رہے ہیں، دراصل اس کے پیچھے مقصد ہی یہی ہے کہ اچھی لوکیشن اور مہنگی زمین پر جو سرکاری بلڈنگز پبلک کے کروڑوں روپے سے بنی ہیں ۔ انہیں ایک سرکاری کاغذ کی مدد سے ہڑپ کر لیاجائے ۔

ان اداروں میں سرکاری ملازمین کام کر رہے ہیں یعنی وہ ادراے بند نہیں ہیں بلکہ فعال ہیں ۔ اس کے باوجود پرائیویٹ این جی اوز کو ادارے سونپے جا رہے ہیں ۔اگر سرکاری ملازمین یا پبلک ان این جی اوز کو سرکاری ادارے دینے کی مخالفت کر رہے ہیں تو انہیں ان این جی اوز کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہ لوگ اپنے مقصد کے لیے صرف سرکاری وسائل استعمال نہیں کر رہے بلکہ سرکاری بلڈنگز کھانے کے لیے عدالتوں تک میں جا رہے ہیں ۔ یعنی پبلک پراپرٹی کھانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائی ہوئی ہے ۔

سرکاری ملازمین اور پبلک یہ بھی کہہ رہی ہے کہ اگر ان جی اوز نے اپنے ادارے چلانے ہیں تو یہ خود سرکاری زمین لے کر اپنی بلڈنگز کیوں نہیں بنا رہے ۔ اپنے ادارے بنائے اور کام کریں ۔ جیسے الخدمت ٹرسٹ اور ایس ائی یو ٹی کام کر رہے ہیں ۔ یہ بنے بنائے انفراسٹرکچر پر قبضہ مافیا کی طرح قبضہ کرنے کا نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔  جو این جی اوز اس وقت سندھ حکومت کے ساتھ کام کر رہی ہے انکے پاس نہ وسائل کی کمی ہے نہ پیسے کی کیوں کہ ان کو فنڈنگ ورلڈ بینک اور دوسرے بڑے مالیاتی اداروں سے ہوتی ہے ان کو مالیاتی ادارے جو فنڈ دیں رہے ہیں وہ دیہی علاقوں کے لیے دے رہیں کیونکہ سندھ کے دیہی علاقوں میں انفراسٹرکچر ہی ناپید ہے جو تھوڑا بہت انفراسٹرکچر بنا ہوا بھی ہے تو وہاں یا تو بھینسوں کے باڑے ہیں یا وڈیروں کی اوطاقیں ہیں ۔

اب پیسہ توان این جی اوز اور سندھ حکومت کو ان دیہی علاقوں کے لیے دیا جارہا ہے لیکن سندھ حکومت تو صرف کراچی فتح کرنے نکلی رہتی ہے ۔ اس لیے کراچی کے سرکاری ملازمین اور ان کے اداروں کو سازش کے تحت پرائیویٹ این جی اوز کو بیچا جارہا ہے ۔ ہم سب جو ایڈمنسٹریٹو بحران دیکھ رہے ہیں ۔ مالیاتی بحران دیکھ رہے ہیں یہ سب مصنوعی طریقے سے پیدا کیا جا رہا ہیں ۔

پہلے ایڈمنسٹریشن جھگڑا پیدا کر رہی ہیں ۔ پھر اس جھگڑے کو نمٹا نہیں رہی بلکہ اسی جھگڑے پر رکھ کر کھا رہی ہیں ۔ اسے گاؤں دیہاتوں میں کہتے ہیں جھگڑے پر کھانا ۔ ہماری حکومت میں چونکہ ایک بڑی تعداد دیہاتوں سے تعلق رکھتی اس لیے جو ان کا کلچر ہے وہ سرکاری سطح پر بھی انھوں نے لاگو کر دیا ہے اس لیے آپ دیکھتے ہوں گے کہ چھوٹا مسئلہ ہو یا بڑا وہ کبھی حل ہی نہیں ہوتا۔

ان این جی اوز کا دوسرا سنگین مسئلہ ان کے پاس کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں ہیں اس وقت سرکار نے جو بنیادی تنخواہ مقرر کی ہے وہ 35,000 ہزار روپے ہیں لیکن ان این جی اوز کے ملازمین شکوہ کر رہے ہیں کہ ہمیں 10000 روپے بمشکل دیے جا رہے ہیں ۔ سب سے زیادہ شکایت ان اساتذہ کی آرہی جو ان ایج اوز میں پڑھا رہیں ہیں کہ ہم سے گدھوں کی طرح کام لیا جاتا ہے لیکن تنخواہ نہیں دی جارہی یہ ایج جی اوز انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔

ان این جی اوز سے پوچھا جائے کہ جب آپ کے پاس تنخواہ دینے کی پیسے نہیں ہے تو آپ کیوں ادارے لے کر بیٹھ گئے ہیں ۔ آپ no profit no loss پر کام کرنے آئے ہیں لیکن جو اپنے گھر سے کام کرنے نکلا ہے وہ تو اپنے گھر کا خرچہ نکالنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ وہ خیرات پر کام کرنے نہیں آیا آپ سے کام نہیں ہو رہا بند کریں اور جائے ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ پبلک پراپرٹی اور پبلک کی محنت غریب لوگوں کے نام استعمال کریں ۔

ان کو پاکستانی بچوں اور عوام کے لیے کام کرنا ہے تو اپنے رسورسز استعمال کریں ہمارا سر اور ہماری ہی جوتی کا فلسفہ استعمال نہ کریں تو اچھا ہو گا ۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں