پیر, جون 8, 2026

اعوان کالونی معذور و مبحوس خاتون کے حوالے سے دوسری پارٹی کا بھی موقف سامنے آ گیا 

شکیل احمد کا کہنا ہے کہ میری والدہ 25 سے 28 برس کی عمر میں بیوہ ہو گئیں تھیں ، ہم پانچ بہن بھائی ہیں ۔ میں نے بہن بھائیوں کی شادیاں کیں ، بھائی کو بیرون ملک بھیجوایا ، والدہ کا علاج معالجہ کرایا ، وراثت میں سب کو حق دیا گیا ، تاہم والدہ کا ایک گھر تھا جس کو بیچ کر والدہ کی آنتوں کے کینسر کی بیماری پر خرچہ کرنے کے ان کی مرضی سے بیچا گیا ، جس کے بعد جگڑے شروع ہو گئے ۔

والدہ نے اپنی زندگی میں تنگ آ کر ایک عاق نامہ اخبار میں شائع کرایا کہ بیٹے اور دونوں بیٹیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے تاہم ایک بڑی بہن جس کو بچن میں ٹائیفائیڈ ہوا تھا وہ سماعت سے معذور ہو گئی تھی جس کی وجہ سے وہ والدہ کی موجودگی میں میرے ساتھ رہتی تھی ۔

والدہ کی 20 اکتوبر 2025 کو وفات ہوئی ، اس دوران بھی ان بہن بھائیوں نے ہری پور انٹرنیشنل ہسپتال میں آکر مسائل بنائے ۔ جس کا علم ہسپتال انتظامیہ کو ہے اور اس کے بعد تدفین اور تعزیت کے دوران بھی میرے بھائی نے بہت وویلا کیا جس کا علم اہل محلہ کو بھی ہے ۔

جس کے بعد انہوں نے نیا طریقہ یہ نکالا یہ معذور بہن کی ملاقات کے نام پر ایک ادھم مچایا کہ ہم اس سے ملنا چاہتے ہیں تاہم ماضی کے تین تین کورٹ کیسز ، جنازے ، تعزیت اور اس کے بعد حالات کے ڈسے ہوئے ہیں اس لیئے ہم نے کہا کہ بہن سے پوچھتا ہوں وہ کہے گی تو ملاقات کراتے ہیں ۔ جس کے بعد ہم نے محلے کے امام مسجد کو لے جا کر بہن سے پوچھا تو اس نے منع کر دیا جس کی وجہ سے ان سے ملاقات نہیں کرائی گئی ۔

میں نے دونوں بہنوں ، بہنوئی اور چھوڑے بھائی کیخلاف ہتک عزت کا کیس بھی عدالت میں دائر کر رکھا ہے ۔ کیوں کہ یہ اسی طرح میری عزت کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہتے ہیں ۔

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسکhttps://alert.com.pk/
Alert News Network Your Voice, Our News "Alert News Network (ANN) is your reliable source for comprehensive coverage of Pakistan's social issues, including education, local governance, and religious affairs. We bring the stories that matter to you the most."
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں