کراچی : وکلاء برادری نے رجب بٹ کے وکیل کی جانب سے وکلاء کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کیخلاف ایم اے جناح روڈ بند رکھا ، منگل کی شام کو ایم اے جناح روڈ سے دھرنا ختم کیا گیا جس کے بعد بدھ کو سندھ بار کونسل کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔
تاہم بدھ کو کراچی بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کے بعد دوبارہ احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے ۔ پولیس کی انٹری بدھ سے سٹی کورٹ میں بند رکھی جائے گی ۔
ریاض سولنگی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ احتجاج ملتوی کیا جا رہا ہے تاہم ہم احتجاج جاری رکھیں گے ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم نے 29 دسمبر کو ساڑھے 11 بجے درخواست جمع کرائی مگر ہماری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی اور ہمارے خلاف وزیر داخلہ نے مقدمہ درج کرایا ہے ۔

اختیار علی چنہ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کراچی بار کونسل کا اجلاس ہو گا اور اس میں مذید فیصلہ کیا جائے گا اور میری کراچی بار کونسل سے درخواست ہے کہ قیدیوں کی گاڑیوں کی بھی انٹری بند کی جائے ۔
ان کا مذید کہنا تھا کہ لاہور کے وکیل کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور کراچی کے وکیل کی درخواست پر کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ہے اور کراچی کا وکیل پولیس کے ساتھ ہمیشہ کھڑا ہوتا ہے ۔ ہمیشہ کراچی بار کے وکلا نے جمہوری عمل میں ساتھ دیا ہے ۔
اختیار علی چنہ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ہم صحافیوں کو کمزور کرنے کی ہر سازش کا راستہ روکیں گے اور کسی بھی صورت ایسی کسی بھی سوچ کو پروان نہیں چڑھنے دینگے ۔ لاہور ہائی کورٹ بار ہمارا ساتھ دیں اور لاہور کے وکلا ہمارا ساتھ دیں ۔
جنوری 2024 میں کراچی پولیس کے ساتھ کراچی بار کونسل کے ساتھ میٹنگ ہوئی تھی کہ کراچی بار کونسل کی جانب سے این او سی ملے گی تب ہی پولیس ایف آئی آر درج کرے گی ۔ بغیر این او سی کے وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیوں کیا گیا ہے ۔
