دنیا میں 70 لاکھ سے زائد افراد فضائی آلودگی سے قبل ازوقت مرجاتے ہیں

ماحولیاتی الرٹ : پاکستان کی ایک ہزار پچاس کلومیٹر طویل ساحلی پٹی میں ہر سال سمندر لگ بھگ پچاس ہزار ایکڑ زمین نگل رہا ہے ج سے خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے سبب سمندری سطح میں ایک اعشاریہ ایک ملی میٹر سالانہ کا اضافہ ہورہا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان دس ممالک کی فہرست میں شامل ہے جنہیں موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ خطرہ ہے سمندری جنگلات موسمیاتی تبدیلیوں پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں یہ باتیں پاکستان بھر سے ماہرین امراض سینہ نے کراچی کے مضافات میں ٹرٹل بیچ کے قریب ڈبلیو ڈبلیو ایف کی آب گاہ (ویٹ لینڈ) پر شجرکاری کے بعد شرکا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی .

ان ماہرین میں پا کستان چیسٹ سوسائٹی (پی سی ایس) کے صدر اور اوجھا انسٹی ٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیز کے سربراہ ڈاکٹر نثار احمد راؤ ڈاکٹر نوشین سیف جنرل سیکریٹری (پی سی ایس) ڈاکٹر مرزا سیف اللہ بیگ ٹریژر، ڈاکٹر نغمان بشیر اور بریگیڈئر جمال احمد(اسلام ابٓاد) ڈاکٹر عبدالجبار اچکزئی ڈاکٹر مقبول (کوئٹہ بلوچستان) ڈاکٹر ملک حفیظ الرحمان (جہلم) پروفیسر خالد وحید (لاہور) پروفیسر سعدیہ اشرف (پشا ور) پروفیسر علی زبیری (آغاخان یونیورسٹی) ڈاکٹر ندیم احمد ڈاکٹر شاہینہ قیوم ڈاکٹر سید ظفریاب حسین ڈاکٹر شکیل صدیقی اور دیگر بھی شامل تھے۔

ان ماہرین نے کہاکہ شجر کاری کے ذریعے گلوبل وارمنگ کو کم کیاجاسکتاہے پاکستان میں سرکاری سطح پر بھی یہ مہم کلین اینڈ گرین پاکستان کے نام سے چلائی جارہی ہے چند درخت لگا کر یقینا ماحول کی بہتری ممکن نہیں مگر اس طرح کے اقدامات سے لوگوں میں شجرکاری اور ماحول کو بہتر بنانے کا شعور پید ا ہوتا ہے.

ان ماہرین نے کہاکہ دنیا میں سات ملین (یعنی ستر لاکھ)سے زائد افراد فضائی آلودگی کے باعث قبل ازوقت لقمہ اجل بن جاتے ہیں ماحول کو صاف بناکر ہم اس طرح موت کے شکار ہونے والے اکثر افراد کو بچا سکتے ہیں اسی لیے چیسٹ کون2020کا آغاز شجر کاری سے کیا جا رہا ہے تاکہ ماحول کو بہتر بنانے کی اخلاقی اور سماجی ذمیداری کو پورا کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ سینے کے امراض کی بنیادی وجوہات کو کم کرنے کیلیے شہری صنعتی،سمندری اور مجموعی فضائی آلودگی پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہاکہ پاکستان میں صنعتی وٹریفک کی آلودگی کے ساتھ شعور کی کمی کے نتیجے میں بھی آلودگی بڑھ رہی ہر سال اسموگ کے نتیجے میں جانیں خطرے میں پڑجاتی ہیں پروفیسر نثار احمد راؤ نے اس موقع پر بتایا کہ پاکستان چیسٹ سوسائٹی کی ہردوسال کے بعد ایک بین الاقوامی کانفرنس ہوتی ہے جو اس سال چیسٹ کون 2020 کے نام سے مارچ کے آخری ہفتے میں منعقد ہورہی ہے .

اس کانفرنس کا آغاز (سوفٹ لانچنگ)ہم نے صحت مند پھیپھڑے صحت مند زندگی کے نعرے کے ساتھ شجرکاری مہم سے کردیا ہے کانفرنس میں امراض سینہ کے فزیشن اور سرجن شریک ہوں گے جس میں چودہ ورکشاپس اور پندرہ غیرملکی ماہرین اس کانفرنس کیسائنٹفک سیشنز سے خطا ب کریں گے .

انہوں نے بتایاکہ چھبیس مارچ کو ورکشاپس جبکہ ستائیس اٹھائیس انتیس مارچ کو تین روز سائنٹفک سیشنز ہوں گے جس میں پاکستان بھر سے سینے کے امراض کے ڈاکٹرز شریک ہوں گے اور ماہرین کے لیکچرز کے ذریعے پاکستان اور دنیا بھر میں سینے کے امراض کے حوالے سے جدید تحقیق سے استفادہ کرسکیں گے۔قبل ازیں شرکا نے جن میں بچے بھی شامل،علیحدہ علیحدہ مینگرووز کیدرخت لگائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *