جب لائبریری آف کانگریس سے شعلے بلند ہوئے!

یہ 1800 کی بات ہے جب امریکا میں ایک عظیم کتب خانے اور علمی و تحقیقی مرکز کی بنیاد رکھی گئی تھی ۔

واشنگٹن میں قائم کردہ اس عمارت کو لائبریری آف کانگریس کا نام دے کر قومی اثاثہ قرار دیا گیا تھا ، مگر صرف 14 سال بعد ہی اس عمارت کو آگ لگا دی گئی! یہ کام برطانوی سپاہیوں کا تھا جنھوں واشنگٹن پر حملہ کیا تھا۔

اسے دنیا کا عظیم کتب خانہ اور کانگریس کا تحقیقی مرکز کہا جاتا ہے جہاں اہم اور نایاب کتب کے علاوہ مختلف روایتی اور غیر روایتی علوم پر معلومات کا تحریری اور تصویری ذخیرہ موجود ہے جب کہ فن و ثقافت کے بیش قیمت نمونے اور متعدد تاریخی اشیا بھی رکھی گئی ہیں۔ علم و فنون کے شیدائیوں کو کہا جاتا ہے کہ جب بھی امریکا جانا ہو تو کانگریس کی لائبریری کا دورہ ضرور کریں۔

کتب خانے کے ایک حصّے کو لگائی گئی آگ نے جہاں عمارت کو نقصان پہنچایا وہیں بہت سا ذخیرۂ علم و فن بھی ضایع ہو گیا۔ اس زمانے میں امریکا کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن نے اس عمارت کے لیے ذاتی کوششوں سے سرمایہ جمع کیا اور اسے دوبارہ تعمیر کیا۔ وہ خود بھی مطالعہ کے شوقین اور علم و ادب کے شیدا تھے۔ ان کے نجی کتب خانے میں ہزاروں کتابیں اور نادر و نایاب اشیا موجود تھیں جس میں کچھ فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم عمارت کی تعمیر پر خرچ کی اور بہت سی کتابیں اس لائبریری کو عطیہ کر دیں۔

کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر کے ذخیرۂ کتب میں قرآن مجید کا ایک نسخہ بھی تھا۔ یہ نسخہ انھوں نے 1776 سے چند برس پہلے خریدا تھا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *