دھوپ میں سایہ ،اندھیرے میں اُجالا بننے والے ’’مَردوں ‘‘کے نام

تحریر : شفق رفیع

کون کہتا ہے مرد کو درد نہیں ہوتا ؟
میں نے اپنی بیماری میں ابّو کو تڑپتے دیکھا ہے ، میری آنکھ کے آنسو ان کی آنکھ سے بہتے دیکھے ہیں .
میں نے گھر چلانے کی خاطر آدمیوں کودفترمیں ذلیل و خوار ہو کہ آنسو بہاتے ، آنسو ’’چھپاتے‘‘دیکھا ہے .
میں نے خود دارآدمی کو بیٹے کی نوکری کے لیے سفارش کرنے کے بعد گم سم ، رنجیدہ ،آب دیدہ ہوتے دیکھا ہے .
میں نے بیوی کی موت پر آدمی کو ٹوٹتے، بکھرتے ہوئے دیکھا ہے .
میں نےچٹان سے زیادہ مضبوط آرمی افسر کی آنکھوں میں ایک سپاہی کی شہادت پر آنسوؤں کا امڈتا طوفان دیکھا ہے .
میں دیارِ غیر میں بیٹھے بیٹے کو باپ کے جنازے میں شرکت نہ کرنے پر بلکتے، ہر پل مرتے بھی دیکھا ہے .

ہر سال 19 نومبر کو دنیا بھر میں مردوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔

نوٹ : ڈیئر’’ آدمی ‘‘ اپنا خیال رکھا کریں ، آپ پیسہ چھاپنے کی مشین نہیں ہیں ، جب دل کرے تب رو لیں ، جب خوش ہوں تو بچوں جیسی حرکتیں کرلیں ، آپ دنیا میں گھر والوں کی ضرروتیں پوری کرنے ہی نہیں آئے ، کچھ وقت اپنے آپ کو بھی دیا کریں .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *