کیا مولانا فضل الرحمن تنہا رہ گئے ؟

تجزیہ : ناصر بیگ چغتائی

کیا مولانا فضل الرحمن تنہا رہ گئے ؟
پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن ، ڈی چوک جانے اور دھرنے سے انکار پر قائم ہیں ، مولانا نے اگر بغاوت کی ہے تو مقدمہ ضرور چلنا چاہیے ۔
بابر اعوان کو تاریخ کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا ۔

کیا فضل الرحمان نے ہجوم دیکھ کر کچھ زیادہ بڑے چیلینج دے دیئے ؟ میرا خیال ہے کہ 50 سے ایک لاکھ کا مجمع دیکھ کر سیاستدان بہک جاتا ہے ، ( قائد اعظم محمد علی جناح ، لیاقت علی خان ، ذوالفقار علی بھٹو اس سے مستثنی ہیں ۔ بی بی شہید بھی جذبات میں آجاتی تھیں )
شائد ایسا ہی کچھ ہوا ہو ۔ مولانا بہترین خطیب کی طرح بھٹکے اور ” غیر متعلقہ علاقے میں بھی داخل ہوگئے یعنی ڈی چوک، وزیر اعظم میں گھس کر استعفے لینا اور لاک ڈاون کے ساتھ شاہ راہیں بند کرنا )

اب پیپلز پارٹی تو شروع میں کہہ چکی تھی کہ وہ کوئی غیر جمہوری قدم کا ساتھ نہیں دے گی ، صرف جلسے میں آئے گی ۔ کل جب بعض غلط خبریں چلیں تو بلاول بھٹو نے آج کہہ دیا کہ ہم صرف مطالبات کی حمایت اور جلسے میں شرکت تک محدود ہیں ۔یعنی
1 ۔ دھرنا نہیں ہوگا ،
2 . ڈی چوک نہیں جائیں گے ،
3۔ وزیر اعظم ہائوس پر دھاوا بولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،
4 ۔ غیر جمہوری قدم کی حمایت نہیں ہو گی ،
تب پھر پیپلز پارٹی کیا کرے گی ؟
استعفے کا مطالبہ کرتی رہے گی ؟
اصلاحات کے بعد نئے انتخابات کا مطالبہ کرتی رہے گی ؟ یا موجودہ صورت حال میں حکومت نہیں ، لینی چاہے گی ؟
مسلم لیگ دو سے تین نقطہ نظر رکھتی ہے .شہباز شریف ایک حد تک مولانا کی حمایت کررہے ہیں لیکن ڈی چوک اور دھرنے کے خلاف ہیں .

دوسری رائے یہ ہے کہ مولانا کے ہر ایڈونچر کا ساتھ دیا جائے ،تیسرا گروپ کوئی احتجاج نہیں کے فارمولے پر عمل کرنا چاہتا ہے
دوسری رائے کے زیادہ تر حامی جیل یا اسپتال میں ہیں ۔
مولانا اس مارچ سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا سکتے تھے ۔ وزیر اعظم کو نامناسب انداز میں گورباچوف کہنے والے خود کو نصر اللہ خان بنا سکتے تھے لیکن غیر ضروری جوش خطابت میں انہوں نے یہ موقع کھو دیا ۔

مولانا اگر پرتشدد انداز میں ڈی چوک گئے تو پھر نتائج کے لئے بھی تیاررہیں ۔ زرداری صاحب کے سابق عاشق ، بے نظیر کے پیرو کار بابراعوان بغاوت کا مقدمہ اس بنیاد پر داخل کریں گے ،مولانا نے منتخب وزیر اعظم سے زبردستی استعفے دینے کی دھمکی دی ہے ۔ اگر ایسا ہے تو یہ مقدمہ واقعی قائم ہونا چاہیئے ۔ وزیر اعظم کو ہٹانے کا واضح راستہ آئین میں ہے ۔
تحریک عدم اعتماد ،وزیر اعظم کا از خود استعفی ،یا وزیر اعظم کی طرف سے پارلیمنٹ کو توڑا جانا ، اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ،
مقدمہ بنائیں اور چلائیں لیکن بابر اعوان کو پھر بنچ کے خطرناک سوالوں کا جواب دینے کی بھی تیاری کرنی ہوگی ،جو تاریخ سے اخذ کیئے جائیں گے ۔ ( عقل مند کے لئے اتنا اشارہ کافی ہے )

معاملات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے حکومت کی ذمہ داری زیادہ ہے ۔ پرویز الہی پرویز خٹک اور دیگر چند لوگ یہ کام کرسکتے ہیں ، 2014 میں عمران خان نے بہت برا کیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ غلط کی تقلید کی جائے ۔ 2014 میں مولانا رکن قومی اسمبلی تھے ،ان کا خطاب میرے فیس بک پر موجود ہے ،جب مولانا نے وزیر داخلہ سے کہا تھا کہ اس دھرنے کو اٹھا کر پھینک دیا جائے ، وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو فعال کریں وہی انہیں بچائے گی .

ایک بار پھر یہ سوال کہ بھٹو ریفرنس کا کیا ہوا ؟

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *