جامعہ بنوری ٹاؤن کیا ہے ؟ عالم اسلام میں اس کی مقبولیت کیوں ہے ؟

برصغیر-پاک وہند و بنگلہ دیش-کے مسلمانوں پر علماءحق کا بہت بڑا احسان ہے، جنہوں نے دینی مدارس اور جامعات قائم کرکے ایک طرف دینی علوم – علوم نبوت – کی ضفاظت کی تو دوسری طرف ایسے علماء حق پیداکئے جنہوں نے اس امت کی دینی، ایمانی اور اخلاقی تربیت فرمائی، اسی کی برکت ہے کہ آج شعائر اسلام زندہ ہیں، معروف اور منکر کا فرق واضح ہے اور دلوں میں ایمان کی حرارت باقی ہے۔

علماء حق کی ان برگزیدہ ہستیوں میں ہمارے شیخ محدث العصر علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ تعالی تھے، جنہیں اکابر امت کا تلمذ اور رفاقت نصیب ہوئی اور اپنی پوری زندگی علوم نبوت کی تعلیم و تدریس میں گزاری- فياله من سعادة – اس طریل تجربہ سے آپ کے دل میں ایک داعیہ پیدا ہوا کہ اگر اللہ تعالی توفیق دے تو ایک ایسا علمی ادارہ قائم کروں جو منفرد خصوصیات کا کا حامل ہو اور جس سے باصلاحیت علماء ربانین پیدا ہوں جو امت کی صحیح راہنمائی کرسکیں، اس داعیہ کو حضرت شیخ رحمہ اللہ تعالی نے اپنے اس مقدمے میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے، جو آپ نے "دليل الجامعة” کیلئے لکھا تھا۔

حضرت شیخ رحمہ اللہ کی محنت کو اللہ تعالی نے قبولیت بخشی اور ان کی زندگی میں اس جامعہ کی حیثیت ایک بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی ہوگئی، جہاں سے پاکستان اور بیرون پاکستان کے ہزاروں تشنگان علم فیض یاب ہوکر اپنے اپنے ملکوں اور علاقوں میں کام کرنے لگے۔حضرت شیخ رحمہ اللہ کی رحلت کے بعد ان کے جانشینوں کے دور میں اللہ تعالی نے جامعہ کو مزید ترقی عطا فرمائی اور اس کی کراچی میں بہت سی شاخیں قائم ہوگئیں، جن میں مرکز سمیت اس وقت بارہ ہزار سے زائد طلبہ اور طالبات علم حاصل کررہے ہیں۔

جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ یوسف بنوری ٹاؤن کراچی کا فضائی منظر

اغراض و مقاصد

جامعہ کا اہم مقصد ایسے علماء وفضلاء اور اسلام کے داعی تیار کرنا ہے جو کمال علم کے ساتھ تقویٰ، للہیت اور اخلاص کے زیور سے آراستہ ہوں، جن کا مقصد ِاساسی دین اسلام کی حفاظت، اس کی نشر واشاعت اور امت مسلمہ کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی ہو۔

دوسری جامعات، مدارس اور علمی اداروں کے ساتھ روابط پیدا کرنا اور علمی، تدریسی اور تجرباتی میدان میں ان سے تعاون کرنا۔
نئی نسل کو مذہب سے قریب کرنا اور دینی اقدار اور اسلامی آداب وثقافت سے روشناس کرانا ۔
مسلمان عوام کی اصلاح وراہنمائی اور انہیں ملحدانہ افکار وباطل نظریات سے بچانے کے لیے علمی وتصنیفی کام کرنا۔
عربی کی اہم اور مفید کتابوں کا اردو اور اسی طرح اردو کی اہم اور مفید کتابوں کا عربی میں ترجمہ کرکے ان کی طباعت کا انتظام کرنا۔

شعبے

ناظرہٴ قرآن کریم
جامعہ کے اس شعبہ میں آنے والے بچوں کو پہلے "قاعدہ” اور پھر ناظرہ ٴقرآن کریم اول تا آخر تجوید اور صحیح قراء ت کے ساتھ پڑھایاجاتاہے ،اس کے ساتھ ساتھ ان بچوں کواساتذئہ کرام اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروری احکام خصوصاً وضو، طہارت اور نماز سے متعلق مسائل سکھاتے ہیں۔ اس شعبہ میں اسکولوں میں پڑھنے والے طلباء کے لیے یہ سہولت بھی موجود ہے کہ ان میں سے صبح اسکول جانے والے دوپہر کو اور دوپہر میں اسکول جانے والے صبح کے اوقات میں پڑھیں۔

تحفیظ قرآن کریم
جامعہ کا ایک اہم شعبہ "تحفیظ القرآن الکریم "ہے جس میں ناظرہ کے بعد بچوں کوقرآن کریم حفظ کرایا جاتاہے ،جامعہ کے قیام کے بعد اب تک جامعہ اور اس کی شاخوں سے ہزاروں کی تعداد میں بچے اور بچیاں قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں اور اس وقت بھی اس شعبہ میں ہزاروں طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں ۔

تجوید
جامعہ میں” فن تجوید "پر بھی پوری توجہ دی جاتی ہے تاکہ ہرطالب علم قرآن کریم کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھ سکے، اس لئے درجات حفظ کے علاوہ "درس نظامی "کے ابتدائی اور ثانوی درجوں میں بھی تجوید لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جاتی ہے جسے فن تجوید کے ماہر اساتذہ پڑھاتے ہیں ۔

متوسطہ
وہ بچے جو اسکو ل کی تعلیم حاصل کیے بغیر پڑھنے کے لیے آتے ہیں یاصرف پرائمری پڑھ کر آتے ہیں ،ان کو اس شعبہ میں ابتدائی عصری تعلیم دی جاتی ہے جس میں "مڈل ” کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اردو نوشت وخواند ،ابتدائی فارسی،تجوید اور بنیادی ضروری دینی تعلیم کا نصاب پڑھا یا جاتا ہے ۔

درس نظامی
یہ برصغیر کے تقریباً تمام دینی مدارس کا کم از کم مڈل یامتوسطہ کے بعد وہ بنیادی مشترکہ ومتفقہ آٹھ سالہ نصاب ہے جس کو "وفاق المدارس العربیہ "کی اصطلاح کے اعتبار سے چار تعلیمی مراحل پرتقسیم کیا گیاہے "عامہ ،خاصہ ،عالیہ اورعالمیہ "جبکہ ہر مرحلہ دو سال پر مشتمل ہے۔

ان مراحل میں جو علوم پڑھائے جاتے ہیں وہ ترجمہ وتفسیر قرآن کریم ، اصول تفسیر، حدیث نبوی، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، علم میراث، علم کلام، سیرت نبوی، تاریخ اسلام اوردیگر علوم عربیہ جیسے صرف، نحو، لغت، بلاغت، ادب، عروض وقوافی، منطق، فلسفہ اورفلکیات وغیرہ پرمشتمل ہیں۔

جامعہ میں وفاق المدارس العربیہ کامجوزہ نصاب پڑھایاجاتاہے ،جامعہ کی مجلس تعلیمی نے بعض درجات میں وفاق کے نصاب کے علاوہ کئی دیگر مفید کتابیں بھی شامل کی ہیں ۔

متوسطہ (مڈل ) اور درس نظامی پڑھنے کے بعد وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے "عالمیہ ” (مساوی ایم اے ) کی سند دی جاتی ہے۔

صفوف عربیہ
جامعہ میں درجہ اولی سے لے کر درجہ رابعہ تک اردو کے علاوہ عربی زبان میں بھی تعلیم دی جاتی ہے ، ان درجات کا اجراء شروع میں اگرچہ غیر ملکی طلبہ کے لیے ہوا تھا تاہم بعد میں عربی زبان سے زیادہ دلچسپی رکھنے والے ملکی طلبہ کو بھی ان کے ذوق اور استعداد کی بنا پر ان درجات میں داخلہ دیا جاتاہے۔

تخصّصات
محدث العصر علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ الله نے مدرسہ کی ابتداء ہی کچھ اس طرح کی کہ دینی مدارس کے فضلاء کے لیے "تکمیل” کا درجہ کھولنے کا اعلان فرمایا، جس میں قرآن و سنت ، فقہ اسلامی اور عربی ادب جیسے علوم کی خصوصی تعلیم دینا مقصود تھا بعد میں ان کی حیات ہی میں یہ درجہ "تخصّص "کے نام سے معروف ہوا ،اس درجہ میں ان مستعد فضلاء کو لیا جاتا ہے جو وفاق المدارس العربیہ کے درجہ عالمیہ (دورئہ حدیث )کے سالانہ امتحان میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوئے ہوں ۔

اس وقت تک جامعہ میں تخصّص فی الفقہ الاسلامی ،تخصّص فی الحدیث اور تخصّص فی الدعوة والارشاد کے شعبوں سے کثیر تعداد میں فضلاء مستفید ہوکر پوری دنیا میں علم دین کی خدمت میں مصروف ہیں ۔

تعلیم بنات
جامعہ میں طلبہ کی طرح طالبات کیلئے بھی ناظرہ ،حفظ قرآن کریم اور منتخب درس نظامی کا اہتمام ہے ،جس میں متوسطہ سے عالمیہ تک تعلیم دی جاتی ہے ،جبکہ عامہ تا عالمیہ کانصاب تعلیم وہی ہے جو وفاق المدارس العربیہ کا مجوزہ ہے،البتہ جامعہ میں پڑھنے والی طالبات کے لیے متوسطہ میں عصری علوم (ریاضی، انگریزی ، معاشرتی علوم ) کے علاوہ تجوید،عربی ،اردو نوشت وخواند اور اسلامی تعلیمات واحکام پر مشتمل کتب بھی شامل نصاب ہیں ۔

جامعہ میں طالبات کے لیے ایک الگ مستقل عمارت قائم ہے جہاں وہ چھ گھنٹے پڑھتی ہیں اور اس کے بعد اپنے اپنے گھروں کو واپس چلی جاتی ہیں ، ان کی آمد ورفت کے لیے جامعہ کی طرف سے ایک مقررہ نظام کے تحت ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی موجود ہے ۔

تعلیم بالغان
جامعہ میں بڑی عمر کے افرادخصوصا قرب وجوارمیں رہنے والوں اور دکانوں میں کام کرنے والوں کے لیے قرآن کریم کو تجوید کے ساتھ پڑھانے اور بنیادی دینی معلومات واحکام سکھانے کا اہتمام ہے ، اس کے لیے ایک نظام ترتیب دیا گیا ہے ، مغرب کے بعد ان کی کلاسیں ہوتی ہیں ۔

یہاں خصوصیت کے ساتھ یہ بھی اہتمام کیا گیا ہے کہ جامعہ کے خدام ، چوکیداراور ڈرائیور وغیرہ اس میں لازمی طور پرشرکت کریں تاکہ وہ دینی ماحول میں رہنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کو تجوید سے پڑھناسیکھیں اور ضروری دینی تعلیم بھی حاصل کرسکیں ،ان کا باقاعدہ امتحان ہوتا ہے اور امتیازی نمبر حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔

تعلیم وتربیت
جامعہ میں اسکول وکالج کے طلباء کے لیے گرمیوں کی چھٹیوں میں چالیس روزہ دینی واخلاقی تربیتی کورس کا اہتمام کیا جاتا ہے ،جامعہ کے اساتذہ کی نگرانی اور راہنمائی میں ان کے لیے مخصوص نصاب مرتب کیا گیا ہے ،جامعہ میں شعبہٴ حفظ کے "کامل الحفظ” طلباء کے لیے اس کورس میں شرکت لازمی ہے ۔

اس کورس کا اہتمام جامعہ کے زیر نگرانی ملک وبیرون ملک متعدد مقامات پر ہر سال کیا جاتا ہے،جس سے عصری تعلیم گاہوں کے ہزاروں طلبہ وطالبات مستفید ہوتے ہیں۔

تمرین خطابت
درس نظامی پڑھنے والے تمام طلباء کے لیے یہ نظم بنایاگیا ہے کہ وہ جمعرات کے دن شام کو غیر درسی اوقات میں اپنی اپنی درس گاہ میں جمع ہو کر فن خطابت کی مشق کریں ، تاکہ آئندہ عملی میدان میں خطاب وبیان کے ذریعے وہ اچھے انداز سے عوام کو دینی تعلیمات سے روشناس کرائیں،اس کے لیے ایک باقاعدہ نظام ہے ، ہر کلاس کے لیے نگران مقرر ہیں ۔

سال کے آخر میں جامعہ وشاخہائے جامعہ میں اپنی اپنی کلاسوں کی سطح پر اساتذہٴ کرام کی نگرانی میں تقریری مقابلہ ہوتا ہے ،پھر ان مقابلوں میں ہر کلاس میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کے درمیان تقریری مقابلہ ہوتا ہے جس میں اول ، دوم ، سوم آنے والے طلباء کو جامعہ کی طرف سے خصوصی انعام دیا جاتا ہے ، جبکہ مقابلہ کے دیگر شرکاء کو بھی حوصلہ افزائی کے لیے انعام دیا جاتا ہے۔

خوشنویسی
غیر درسی اوقات خصوصا عصر تا مغرب جامعہ میں طلباء کے لیے خوشخطی سکھانے کا بھی انتظام ہے ، جس کے لیے باقاعدہ دو خوش نویس استاد مقرر ہیں ۔

دورئہ تدریبیہ
جامعہ میں سالانہ امتحان کے بعد دورئہ حدیث سے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے "دورئہ تدریبیہ ” کا اہتمام کیا جاتا ہے جس کا دورانیہ تقریباً چالیس دن ہوتا ہے ۔

اس "دورہ "کا بنیادی مقصدیہ ہے کہ درس نظامی سے فارغ ہونے والے فضلاء کراماہل سنت والجماعت کے مسلکِ حق کے بارے میں علی وجہ البصیرة مہارت وکمال حاصل کریں اور باطل وملحدانہ نظریات کے بطلان کے لیے مثبت انداز میں علمی استعداد پیدا کریں تاکہ بوقت ضرورت امت کی صحیح راہنمائی کرسکیں ، اس دورہ میں فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کو تدریس و خطابت کا طریقہ اوراس کے اصول بھی سکھائے جاتے ہیں ۔

دارالافتاء
جامعہ کی تاسیس کے بعد محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ الله تدریس کے ساتھ ساتھ خود فتاوی بھی تحریر فرماتے تھے ، بعد میں انہوں نے ۱۳۸۱ھ مطابق ۱۹۶۱ء میں "دارالافتاء ” کا شعبہ مستقل کردیا اور حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ الله (سابق مفتی اعظم پاکستان)کو اس کا رئیس بنایا ۔

یہ جامعہ کا وہ شعبہ ہے جس پر مسلمانوں کو اپنے شرعی مسائل کے حل کے لیے مکمل اطمینان واعتماد ہے ،مفتیان کرام شرعی فتاوی صادر فرماکران کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کاجواب تحریری صورت میں دیتے ہیں ،اسی طرح یومیہ کثیر تعداد میں لوگ خود حاضر ہوکر زبانی مسائل بھی پوچھتے ہیں، اس کے علاوہ ملک وبیرون ملک سے ڈاک کے ذریعہ آنے والے سوالات کے جوابات بھی ارسال کیے جاتے ہیں،نیز مسلمان ذاتی ، خانگی اور اجتماعی معاملات میں بذریعہ فون بھی مسائل دریافت کرتے ہیں ۔

دار الافتاء سے سالانہ ہزاروں فتاویٰ جاری ہوتے ہیں اورجن کا باقاعدہ ریکارڈ رکھاجاتا ہے، اس وقت تک تقریباً تین لاکھ سے زائد فتاویٰ جاری ہوچکے ہیں۔

جو غیرمسلم برضا ورغبت اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں انہیں دار الافتاء میں کلمہ کی تلقین کی جاتی ہے اور”سنداسلام” بھی جاری کی جاتی ہے، اب تک تقریباً ساڑھے چھ ہزار غیر مسلم دار الافتاء آکر اسلام قبول کرچکے ہیں۔

تدوین فتاویٰ
دار الافتاء سے اب تک جو فتاویٰ جاری ہوئے ہیں انہیں دارالافتاء کے ریکارڈ کی مدد سے ترتیب وتدوین کے مراحل سے گذارا جارہاہے، اس شعبہ میں دار الافتاء کے مفتیان کرام کے زیر نگرانی کئی متخصص علماء مصروف کار ہیں ،امید ہے کہ ان شاء اللہ مستقبل قریب میں جامعہ کے فتاویٰ کا مجموعہ منظر عام پر آجائے گا۔

کتب خانہ (لائبریری)
جامعہ کے احاطہ میں ایک عظیم کتب خانہ ہے،جس میں درسی کتابوں کے علاوہ علوم اسلامیہ اور دیگر علوم کی ہزاروں اہم کتابیں موجود ہیں ،یہ کتب خانہ صبح وشام کے تعلیمی اوقات کے علاوہ مغرب تاعشاء بھی کھلا رہتا ہے ، طلبہ اور اساتذہٴ کرام اس سے علمی استفادہ کرتے ہیں۔ دار التصنیف حضرت بنوری رحمہ الله نے جامعہ میں "دار التصنیف "کے نام سے ابتداء ہی میں ایک مستقل شعبہ قائم کردیاتھاجس میں ایسے موضوعات پر کتابیں تصنیف کی جاتی ہیں جن کی اس وقت امت کو ضرورت ہے ،یہ شعبہ تصنیف وتالیف کی ایسی اہم ضرورتوں کو بھی پورا کررہاہے جن کے اہل علم محتاج ہیں، نیز عظیم علمی شخصیات کی تصنیفات کا ترجمہ (اردو سے عربی اور عربی سے اردو )اس شعبہ میں کیا جاتا ہے، اب تک دارالتصنیف سے کئی تالیفات وتراجم شائع ہو چکے ہیں ۔

"دار التصنیف ” کی مطبوعات میں سرفہرست محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ الله کی شاہکار تصنیف جامع الترمذی کی عربی شرح "معارف السنن "ہے جو ان کے علم وفن کی آئینہ دار ہے ۔

اسی طرح حضرت مولانا بنوری قدس اللہ سرہ کے مایہ ناز شاگرد ، سابق رفیق دارالتصنیف اوراستاذ جامعہ مولانا محمد امین صاحب اورکزئی دامت برکاتہم نے حضرت بنوری کے ارشاد وراہنمائی سے "شرح معانی الآثار للإمام الطحاوی "کے ایک معتد بہ حصے پر نہایت تحقیقی کام کیا ، جو تخریج احادیث طحاوی کے ساتھ امام طحاوی کی نظر کے بیان اور مشکلات کے حل سے متعلق ہے ، یہ عظیم کام بھی اسی شعبہ کے تحت شروع ہوا، الحمد للہ اب محترم موٴلف نے اس کو زیور طباعت سے آراستہ کرکے "نثر الأزھار علی شرح معانی الاٰثار” کے نام سے پیش کردیا ہے۔

نظام تعلیم

داخلہ کے سلسلے میں ایک لازمی اصول یہ ہے کہ جامعہ میں ایسے طالب علم داخل ہوں جو دینی مزاج اورمطلوبہ علمی استعداد رکھتے ہوں ،اس لیے داخلہ کے لیے امتحان ِداخلہ لازمی شرط ہے۔

جامعہ کے تعلیمی سال کا آغاز شوال المکرم کے پہلے عشرے میں ہوتاہے ،عموماً چھ یا سات شوال کو نئے داخلوں کی تاریخ، تفصیل اور طریقہٴ کار کا اعلان کیا جاتاہے۔

مجلس دعوت وتحقیق اسلامی

بانی ٴجامعہ حضرت مولانا بنوری رحمہ اللہ نے مختلف موضوعات پر تحقیقی وعلمی کام کے لئے ایک ادارہ "مجلس دعوت وتحقیق اسلامی "کے نام سے قائم کیا تھا،جس میں انہوں نے اپنے بے مثال علمی ذوق کی بناء پرہر قسم کے علوم وفنون سے متعلق قیمتی اور نادر کتب کا ذخیرہ بڑی محنت سے جمع فرمایا ، وسائل کی کمی کے باوجود سعودی عرب ،مصر، شام، ہندوستان اور دیگر کئی عرب وغیر عرب ممالک سے کتابوں کے حصول اور کراچی تک پہنچانے کی تدابیر اختیار فرمائیں ،جہاں کسی نایاب کتاب کے بارے میں معلوم ہوجاتا تو اس وقت تک سکون نہ پاتے جب تک کہ وہ کتاب یا اس کا عکس اپنے ادارہ کے لیے حاصل نہ کرلیتے ، جس کے نتیجے میں جامعہ کے عام کتب خانہ کے علاوہ ایک اورعظیم لائبریری وجود میں آئی ، جس میں ہزاروں مطبوعہ اہم کتابوں کے علاوہ کئی نایاب مخطوطات کا بیش قیمت علمی ذخیرہ بھی محفوظ ہے ،علماء، محققین اور مصنفین اس سے استفادہ کرتے ہیں،یہ لائبریری جامعہ سے ملحق ایک وسیع عمارت کی تین منزلوں میں قائم ہے۔

اس ادارہ سے "کشف النقاب عما یقولہ الترمذی وفی الباب "کے نام سے ایک منفرد اور عظیم کتاب کی پانچ جلدیں چھپ چکی ہیں، ” کشف النقاب "حدیث نبوی کا ایک شاہکار اور علم حدیث کی وہ بے مثال خدمت ہے، جس کی ابتداء محدث العصر حضرت مولانا بنوری رحمہ اللہ نے "لب اللباب فیما یقولہ الترمذی وفی الباب”کے نام سے ۱۹۷۰ء میں کی تھی ،بعد میں انہوں نے یہ عظیم علمی کام مولانا ڈاکٹرمحمد حبیب الله مختارشہید رحمہ الله کی استعدادا وراہلیت کی بناء پر ان کے حوالہ کردیا ۔

یہ کتاب عرب وعجم میں یکساں مقبول ومتداول ہے اور مرجع کا کام دے رہی ہے، حضرت مولانا بنوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے، علم حدیث پر اب تک اتنا بڑا کام نہیں ہوا ہوگا، ان شاء الله اس کتاب کے باقی اجزاء بھی جلد زیور طبع سے آراستہ ہوجائیں گے۔

طباعتی شعبے

جامعہ سے اردو زبان میں "بینات "کے نام سے ایک ماہانہ علمی رسالہ شائع ہوتاہے جس کا پہلاشمارہ ۱۳۸۲ھ مطابق ۱۹۶۲ء میں جاری ہواتھا۔اس رسالہ کے ذریعہ اسلامی ثقافت اور دینی مسائل کی اشاعت ہوتی ہے ،یہ رسالہ ہر فتنہ اور باطل ملحدانہ نظریات کی سرکوبی میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے ۔

بینات کے لیے لکھے گئے بعض اہم تحقیقی مضامین اور اداریے مستقل کتابی شکل میں بھی طبع ہوچکے ہیں،جن میں حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ الله کے "بصائروعبر”، حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی رحمہ الله کی "اسلام میں سنت اور حدیث کا تشریعی مقام "، حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ الله کی "عائلی قوانین” اورحضرت مولانا محمدیوسف لدھیانوی رحمہ الله کی "اختلاف امت اور صراط مستقیم ” سرفہرست ہیں،ان مضامین میں سے اکثر کی طباعت کا اہتمام "شعبہ بینات” ہی نے کیا ہے ۔

بینات میں شائع شدہ اہم فقہی مضامین اور فتاویٰ نئی ترتیب وتخریج کے ساتھ”فتاوی بینات” کے نام سے ۴ جلدوں پر مشتمل کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں ۔

"بینات "کے ساتھ انگریزی زبان میں بھی ایک مختصر پرچہ ضمیمہ کے طور پرہرماہ شائع ہوتا ہے ۔

"البیّنات "کے نام سے ایک سہ ماہی عربی مجلہ بھی شائع ہوتا ہے ،جو مستقل ادارت کے تحت عربی زبان میں عالمی حالات، اسلامی ثقافت اور دینی اقدار کی نشر و اشاعت میں بھر پور کردار ادا کررہاہے۔

ٹرسٹی شعبے

شفاخانہ(ڈسپنسری)
جامعہ کی طرف سے طلبہ ،اساتذہ اور دیگر عملہ کے لیے علاج معالجہ کا معقول انتظام ہے ،جامعہ کے احاطہ میں دو شفاخانے موجود ہیں ،جن میں سے ایک عام کلینک ہے جس میں جنرل فزیشن بیٹھتے ہیں اور دوسرا ڈینٹل کلینک ہے جہاں ڈینٹل سرجن بیٹھتے ہیں، دواؤں کا انتظام جامعہ ہی سے کیا جاتاہے،اس کے علاوہ بوقت ضرورت طلبہ کو جامعہ کی طرف سے مختلف امراض کے ماہر ڈاکٹر اور اطباء کے پاس بھی ہسپتال یا کلینک میں بھیجاجاتاہے جہاں ان کے امراض کی تشخیص ،علاج اور مناسب نگہداشت کا انتظام ہوتا ہے۔

علامہ بنوری ٹرسٹ
جامعہ کی زیر سرپرستی یہ شعبہ کام کررہا ہے جو مساجد ومدارس کے الحاق ورجسٹریشن میں تعاون کرتا ہے ، اس وقت تک کئی ہزار مساجد ومدارس علامہ بنوری ٹرسٹ سے ملحق ہوچکے ہیں ،اس کے علاوہ جامعہ کی وقف پراپرٹی سے متعلق امور کی بجاآوری بھی اس شعبے کی ذمہ داری ہے ،نیز علامہ بنوری ٹرسٹ مساجدومدارس کے انتظامی وانصرامی معاملات میں اہل محلہ اور کمیٹی کے مابین حسب ضرورت مشاورت ، تصفیہ اور تحکیم کی خدمات بھی انجام دیتا ہے، ان تمام امور کی نگرانی جامعہ کے اساتذہٴ حدیث پر مشتمل سہ رکنی کمیٹی کرتی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *