کسٹم حکام نے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون گریڈ 20 کے جنرل منیجر کو گرفتارکرلیا .

کسٹم آر اینڈ ڈی ایسٹ نے ایکسپورٹ پروسسنگ زون میں اربوں روپے گھپلوں کی دستاویزات غائب کرنے کے الزام میں گریڈ 20 کے جنرل منیجر کو گرفتار کرلیا ہے ، ای پی زیڈ کے جنرل منیجر کی گرفتاری سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور کسٹم کے اعلیٰ افسران کے خلاف بھی تحقیقات کھلنے کا امکان ہے .

ملزم کے خلاف نیا مقدمہ بھی درج کیاجائے گا ۔ذرائع کے مطابق ماڈل کسٹم کلکٹریٹ اپریزمنٹ ایسٹ کے شعبے آر اینڈ ڈی نے ایکسپورٹ پروسسنگ زون اتھارٹی میں اربوں روپے گھپلوں کی تحقیقات میں گریڈ 20 کے جنرل منیجر مشتاق لغاری کو گرفتار کرلیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ مشتاق لغاری ای پی زیڈ میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہچانے والی مافیا کے اصل سہولت کار رہے ہیں اور ان کے ساتھ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور کسٹم کے اعلیٰ افسران بھی ہیں جو ایکسپورٹ پروسسنگ زون اتھارٹی میں مختلف کمپنیوں کے بے نامی ڈائریکٹرز ہیں اور ہر ماہ باقاعدگی سے منافع حاصل کرتے ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسپورٹ پروسسنگ زون اتھارٹی میں دو ماہ قبل کسٹم آرینڈ ڈی اایسٹ کے اپریزنگ افسر دوست محمد نے تفتیشی افسر ملک ہاشم ،اشفاق الرحمان اور عادل رشید کے ہمراہ کارروائی میں اسکینڈل پر ہاتھ ڈالا تھا جس کے بعد ایف بی آر حکام کے دباو پر کسٹم آر اینڈ ڈی ایسٹ کی ٹیم میں تبدیلی کردی گئی تھی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسپورٹ پروسسنگ زون اتھارٹی کے لئے امریکہ سے سیکنڈ ہینڈ کلاتھ کی ایک کنسائمنٹ ای پی زیڈ میں میسرز ہینڈ انڈسٹریز کے نام سے منگوائی گئی تھی لیکن اسی کنسائمنٹ کی بل آف لینڈ نگ شاہان نامی شخص نے دبئی سے براہ راست محمد عاکف کو اس کے رہائشی پتے پر ارسال کی تھی .

تحقیقات میں معلوم ہوا کہ فہد ملا اور محمد عاکف کاروباری شراکت دار ہیں جبکہ ایک اور شراکت دار حمل بلوچ بھی ہے اور یہ مافیا میسرز پائینئر کے نام سے سامان کو منگواتے ہیں اور پھر اس سامان کو ری ایکسپورٹ کے لئے میسرز جی بی گلوبل کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ مافیا اسی کنٹینر کو ری ایکسپورٹ کرنے کے بجائے غیر معیاری اسکریپ کو ری ایکسپورٹ کردیتے ہیں ور ایکسپورٹ کی گئی کنسائمنٹ کو خلاف قانون ملک میں ہی فروخت کردیتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران جب ای پی زیڈ انتظامیہ سے دستاویزات اور تحریری جواب طلب کیا تو اسکینڈل میں ملوث کمپنیوں کی حمایت میں انتظامیہ آگئی تاہم دستاویزات کو ای پی زیڈ کے ریکارڈ سے غائب کردیا گیا جس کے بعد کسٹم آر ایند ڈی ایسٹ کے تفتیشی افسران نے ای پی زیڈ پر چھاپہ مار کر ریکارڈ روم میں موجود کمپیوٹر کاریکارڈ چیک کیا تو مذکورہ کمپنیوں کے گیٹ پاس کا ریکارڈ مل گیا اس تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ای پی زیڈ کے جنرل منیجر اشفاق لغاری نے اربوں روپے کے گھپلوں میں ملوث کمپنی کے مالکان سے 20لاکھ روپے رشوت کے عیوض تمام دستاویزات کو غائب کیا گیا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کسٹم ایسٹ کے تفتیشی افسران کے پاس کمپیوٹر سے ریکارڈ ملنے پر اشفاق لغاری نے کسٹم کے تفتیشی افسران سے دوبارہ رابطہ کیا اور کہا کہ پہلے دستاویزات نہیں ملی تھیں اصل دستاویزات مل گئی ہیں جو آپ کو فراہم کردی جائیں گی لیکن مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود کسٹم حکام کو دستاویزات فراہم نہیں کیں جب کہ تفتیشی افسران کو مبینہ طور پر معاملات حل کرنے کے لئے مختلف پیش کش کی گئیں جس کے بعد کسٹم حکام نے ای پی زیڈ کے گریڈ 20افسر اشفاق لغاری کو کسٹم ہاوس طلب کیا اور فوری گرفتار کرلیا ۔

ذرائع کے مطابق اشفاق لغاری کو پہلے سے درج مقدمے میں گرفتاری کے بعد نئے مقدمے کااندراج بھی کیا جائے گا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسپورٹ پروسسنگ زون اتھارٹی میں ملوث فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور کسٹم کے اعلیٰ افسران کے خلاف بھی تحقیقات کھلنے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ ای پی زیڈ میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہچانے میں ملوث مافیا کے اہم سرغنہ محمد عاکف کو ملک سے فرار ہوتے ہوئے غیر ملکی ائیر لائن سے گرفتار کیا تھا جب کہ ملزم کی عدالت میں پیشی کے دوران اس کے دوسرے ساتھی حمل بلوچ کو عدالت سے ہی گرفتار کیا تھا جس پر وہاں موجود وکلاءکے ایک گروہ نے تفتیشی افسر ہاشم ملک کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور وکلا ءحمل بلوچ کے پاس موجود موبائل فون اور لیپ ٹاپ لے کر فرار ہوگئے تھے اس واقعہ کی رپورٹ بھی کسٹم کے اعلیٰ افسران نے عدالت میں پیش ہونے سے روک دی تھی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *