ایم کیو ایم نے خدمت خلق فاونڈیشن کے نام پر حیدرآباد ، میر پور خاص اور ملتان میں زمینیں بنائیں . ایف آئی اے

متحدہ قومی موومنٹ لندن منی لانڈرنگ کیس میں خدمت خلق فاونڈیشن کے نام سے اربوں روپے مالیت کی کراچی ،حیدرآباد ،میرپورخاص اور ملتان میں نئی جائیدادوں کا انکشاف ہوا ہے ،مقدمے میں نامزد ملزمان کے خرید وفروخت کی عدالت میں پیش کی گئی رسیدیں بھی جعلی قرار ،ایف آئی اے کاوئنٹر ٹیرارزم ونگ کوخدمت خلق فاونڈیشن کے مرکزی دفتر پر چھاپے کے دوران اہم دستاویزات اور کمپیوٹر قبضے میں لے لیا گیا .

کے کے ایف میں موجود ملازمین کا تحریری بیان بھی لیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کاوئنٹر ٹیرارزم ونگ نے متحدہ قومی موومنٹ لندن منی لانڈرنگ کیس میں فیڈرل بی ایریا میں قائم خدمت خلق فاونڈیشن کے مرکزی دفتر میں چھاپےکے دوران اہم دستاویزات اور کمپیوٹر قبضے میں لے لیا ۔

ذرائع نے بتایا کہ کمپیوٹر کی فارنسک جانچ کے بعد ریکارڈ حاصل کیا جائے گا جب کہ دستاویزات سے ایف آئی اے کو خدمت خلق فاونڈیشن کے نام سے خریدی گئی زمینوں کے حوالے سے ریکارڈ ملا ہے جس میں کراچی میں 40سے زائد قیمتی اراضی کا معلوم ہوا ہے ان پلاٹس کا رقبہ 500گز سے لے کر5ہزار گز تک ہے جس میں کے ڈی اے اسکیم نمبر ایک ،کلفٹن ،گلستان جوہر ،نارتھ کراچی ،سرجانی ٹاون ،متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو کے اطراف خریدے گئے مکانات سمیت دیگر علاقوں میں رفاعی اور کمرشل پلاٹس شامل ہیں جب کہ حیدرآباد ،میرپورخاص اور ملتان میں بھی خد مت خلق فاونڈیشن کے نام سے جائیداد سامنے آئی ہیں ۔

ذرائع نے بتایا کہ کے کے ایف پر چھاپہ متحدہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات میں مرکزی ملزمان کی حیثیت سے نامزد متحدہ رہنمااور سابق رکن قومی اسمبلی خواجہ سہیل منصور ،سابق سینیٹر احمد علی ،ڈپٹی میئر کراچی ارشد ووہرہ سمیت دیگر شامل ملزمان کے خلاف ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کے تفتیشی افسران نے ان کے بینک اکاؤنٹس سے ہونے والی کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ عدالت میں جمع کروایا تھا جس کے مطابق ان ملزمان کے بینک اکاؤنٹس سے خدمت خلق فاؤنڈیشن اور متحدہ لندن سیکریٹریٹ کے لئے ادائیگیاں ہوتی رہیں .

ان الزامات میں کیس میں نامزد مرکزی ملزمان خواجہ سہیل منصور ،سابق سینیٹراحمد علی کی جانب سے خود پر عائد الزامات کو غلط ثابت کرنے کے لئے کچھ ریکارڈ پیش کیا گیا جس میں ایسی رسیدیں بھی شامل تھیں جو کہ سامان کی خریداری کے حوالے سے تھیں اس ریکارڈ سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ ان بینک اکاؤنٹس سے جو ٹرنزیکشنز ہوئی ہیں وہ اس سامان کی خریداری کی مد میں کی گئیں جن کی رسیدیں بھی ان کے پاس موجود ہیں اور یہ سامان خدمت خلق فاؤنڈیشن کے فلاحی کاموں کے لئے خریداگیا تھا تاہم اس ریکارڈ کی تصدیق کے لئے جب ایف آئی اے کی جانب سے خدمات خلق فاؤنڈیشن میں کارروائی کی گئی تو وہاں پر موجود انتظامیہ میں شامل افراد سے طویل پوچھ گچھ میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ رسیدیں مشکوک ہیں اور ریکارمیں شامل ہیں جس کے بعد تحریری طور پر بھی ایف آئی اے کو جمع کروائے گئے بیان میں اس کو مسترد کیا گیا۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2017میں پاکستانی نژاد برطانوی تاجر سرفراز مرچنٹ کی تفصیلی درخواست پر متحدہ قومی موومنٹ کے بانی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں ڈپٹی ارشدووہرا ،سابق وفاقی وزیر بابر غوری ،سابق وفاقی رکن اسمبلی خواجہ سہیل منصور اور ان کے بھائی خواجہ ریحان کے علاوہ سینٹر احمد علی کو نامز د کیا گیا تھا ان پر الزام تھا کہ خدمت خلق فاؤنڈیشن میں فطرہ ،زکواة ،خیرات اور کھالوں سے جمع ہونے والی رقم ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہونے کے بعد بیرون ملک ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے کاؤنٹس میں منتقل کردی جاتی تھی اور اس مقدمے میں متحدہ لندن کے رہنماؤں طارق میر اور محمد انور کو بھی شامل کیا گیا تھا جس کے بعد اس مقدمے کو اسلام آباد منتقل کردیا گیا جہاں اس مقدمے کی تفتیش میں ایف آئی اے کاوئنٹر ٹیرارازم ونگ میں متحدہ قومی موومنٹ کے کنونیئر وفاقی وزیرٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ،وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم سمیت متعدد رہنماوں نے اپنے بیانات قلمبند کراچکے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *