جمعرات, اپریل 18, 2024
ہوماسلامشہر میں SBCA افسران کی سرپرستی میں غیر قانونی عمارات تعمیر کا...

شہر میں SBCA افسران کی سرپرستی میں غیر قانونی عمارات تعمیر کا سلسلہ جادی

کراچی ( رپورٹ : کامران شیخ ) کراچی کے اولڈ سٹی ایریا رنچھوڑ لائن میں عمارت کو نقصان پہنچنے کے بعد ایس بی سی اے کو ہوش آ گیا ۔

ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے عبدالرشید سولنگی کی دوڑیں لگ گئیں ۔ واضح رہے کہ لیاقت آباد ناظم آباد اور گارڈن سمیت دیگر علاقوں میں بھی متعدد غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی میں ملوث اافسران میں عامر کمال جعفری ‛ شہزاد کھوکھر ‛ علی خان ‛ عمران رضوی اور اسد خان کے خلاف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو متعدد شکایتیں کی جا چکی ہیں ۔

ایس بی سی اے افسران اور بلڈر مافیا کی سرپرستی میں لیاقت آباد کے پلاٹ نمبرز 1/8 Firdous CHS Gulbahar اور  10 shops کے علاوہ  17/20 C Area Liaqtabad سمیت  18/20 C Area Liaqtabad شامل ہیں ۔ جب کہ اس کے علاوہ 40/14 Firdous Gulbahar بھی تجازوات کے زمرے میں آتا ہے ۔ جس میں بغیر نقشے کے غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں جبکہ پلاٹ نمبر 1/8 فردوس گلبہار میں 10 سے زائد غیر قانونی دکانیں بھی تعمیر کی جارہی ہیں ۔

دوسری جانب ناظم آباد کے علاقے میں Block 5A house no 1/27 G+3 اور  Block 5B house no 4/12 3rd Floor سمیت 3H 8/41 ‛ 5C 11/8 ‛ 5C 8/7 اورو 5D 12/9 ‛  3D 11/1‛ 3C 1/14 ‛3C 1/8 zk علارہ  3C 1/4 اور  ST 5 شامال ہیں ۔جن پر بھی پورشن مافیا سرگرم ہے, اور غیر قانونی پورشنز بنانے کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے۔

واضح رہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران بھی بلڈر مافیا کی سرپرستی کررہے ہیں جبکہ ڈائریکٹر جنرل عبدالرشید سولنگی , ڈائریکٹر ویجلینس بینیش شبیر سمیت تمام اعلی حکام نے معاملے پر آنکھیں بند رکھی ہوئی ہیں ۔ مشہر میں کی جانیوالی کثیرالمنزلہ غیر قانونی تعمیرات اور پورشنز کسی بھی ناخوشگوار حادثے کا سبب بن سکتے ہیں ۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://www.azmatnama.com/
عظمت خان ، کراچی بیسڈ صحافی ہیں ، 2 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔ گزشتہ 12 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی رپورٹنگ فیلڈ میں تعلیم و صحت ، لیبر ، انسانی حقوق ، اسلامی جماعتوں سمیت RTI سے معلومات تک رسائی جیسی اہم ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ 10 برس تک روزنامہ امت میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اب ڈیجیٹیل سے جرنلزم کر رہے ہیں
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں