ہوٹل سٹی سٹار ویو کے ڈائننگ ہال میں ناشتہ کرنے کے بعد ہم ڈھاکہ میں قائم پاکستانی ہائی کمیشن کیلئے محمد شیمل کے ساتھ روانہ ہوئے ۔
شیمل کو اردو آتی ہے کیونکہ اردو ڈبنگ کے ترک ڈرامے دیکھ کر اس نے اردو سے شناسائی پائی ہے ۔ ہر طرف جاتے آتے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ الٹی سیدھی انگریزی ‛ اردو اور باڈی لینگویج سے سوالات کا سلسلہ جاری رہے ۔ شمیل سے سوالات ہوتے رہے بلکہ وہ خود بھی ہم سے بات کرنا چاہتا تھا ۔ شمیل نے بتایا اگر باہر کا ووٹ بھی آ گیا اور انجنیئرنگ نہ ہوئی تو جماعت اسلامی کے اتحاد کو ووٹ ملے گا ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ الیکشن میں انجنئرنگ یہاں بھی ہوتی ہے یا خوف ضرور ہے ۔
ہم ہائی کمیشن پہنچے تو پاکستانی سفیر عمران حیدر ‛ ملٹری اتاشی بریگیڈیئر عمران ‛ ‛ ڈپٹی قونصلر واصف اور اطہر صاحب سمیت دیگر سے خوب نشست رہی ۔
معلوم ہوا کہ گئے 17 برس کی جمی برف کو پگلنے میں دیر تو لگے گی ۔ مگر محنت خوب درکار ہے ۔ تاہم جولائی سے اب تک 20 فیصد ٹریڈ بڑھی ہے ‛ آخری 40 روز میں 4 پاکستانی فیشن ڈیزائنر اور 2 ریسٹورنٹ کھل چکے ہیں ۔
پاکستان ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جولائی کے بعد 500 اسکالرشپ دینے کا اعلان کیا ہے جس کا پہلا 40 طلبہ کا بیج ایک ہفتے بعد پاکستان پہنچ جائے گا ۔ اس وقت 145 پاکستانی طلبہ بنگلہ دیش میں زیر تعلیم ہیں ۔ اور مجموعی طور پر 2 ہزار پاکستانی یہاں پر موجود ہیں ۔ تاہم ایجنسیوں کے خوف سے پاکستانی اپنے کمیشن سے رجوع نہیں کرتے تھے جسکی وجہ سے 500 کے لگ بھگ کی رجسٹریشن کمیشن میں موجود ہے ۔
حالیہ تبدیلی ‛ جدوجہد کا یہ تاثر تقریباً تمام پارٹیز میں آ چکا ہے کہ 17 سالہ دورِ حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کو پُرو انڈین ہی نہیں اس کی کالونی بنا دیا تھا ۔ تاہم اب طارق رحمن ہوں یا شفیق الرحمن ‛ این سی پی ہو یا بی این پی سب ہی پڑوسی ممالک سے برابری کی سطح کے تعلقات چاہتے ہیں ۔
اب تک کی زمینی صورتحال یہ ہے کہ اکیلے حکومت بنانا کسی کے بس میں نہیں ہے ۔ تاہم یہ تاثر مضبوط موجود ہے کہ اپوزیشن جو بھی ہو گی وہ انتہائی مضبوط و مربوط ہو گی ۔ جماعت اور اس کے اتحادیوں کے ورکرز کی سطح تک ماننا یہ ہے کہ کرپشن کو روکنا ہے اور کرپشن رکے گی تو بنگلہ دیش آگے بڑھے گا اور عوامی راج آئے گا ۔
پاکستانی سفیر نے مولانا فضل الرحمن کا وہ شاہکار جملہ دہرایا کہ دو بھائی بھی الگ ہو جاتے ہیں مگر ان کی بھائی بندی جاری رہتی ہے ۔ لہذاہ یہ تاثر زور پکڑتا جا رہا ہے اور ہمیں تمام جماعتوں کے ساتھ فی الوقت بیلنس چلنا ہے کیونکہ ہمیں 17 سال کی برف کو پگھلانا ہے ۔
ہائی کمیشن میں ہائی ٹی سے ہماری تواضع کی گئی ۔ اس کے بعد میں اپنے ساتھی اباسین ریڈیو نیٹ ورک کے عابد شاہ کے ہمراہ نماز کیلئے گلشن سوسائٹی مسجد پہنچے تو مغرب کی اذان ہو چکی تھی ۔ مسجد میں داخل ہوئے تو جوتے اتارتے ہی ایک صاحب نے ہمارے جوتے اٹھا لیئے اور وضو کیلئے چپل دے دیئے ۔ وہ چپل پہن کر وضو خانے گیا تو وہاں وضو کے بعد ایک تولیہ دیا گیا تاکہ آپ ہاتھ منہ صاف کر کے مسجد پہنچیں ۔ ہر آنے والے نمازی کو یہی پروٹول دیا جا رہا تھا ۔ مسجد میں امام صاحب کی تلاوت مسحور کن تھی ۔ نماز کے بعد ہم دو ساتھیوں نے الگ سے گاڑی پکڑی اور ہوٹل کیلئے نکلے ۔کیونکہ باقی ساتھیوں کو کمیشن کی گاڑیاں ہوٹل لے گئی تھیں ۔ ہوٹل ایمبیسی سے تقریباً 13 کلو میٹر یعنی 30 سے 40 منٹ دور تھا ۔ جس کیلئے ڈائیور نے ہم سے 800 ٹکا کرایہ چارج کیا ۔ جو مسافت کے اعتبار سے مناسب لگا ۔
ہوٹل پہنچے ۔ رات کے کھانے کیلئے باہر نکلے ۔ کراچی کے ایک دوست سے سر راہ ملاقات ہو گئی ۔ معلوم ہوا بندہ صدر میں میرا پڑوسی ہے ۔ پڑوسی کیساتھ مٹر گشت کی ۔ اور چائے ڈھونڈنے نکل گئے اور آدھی رات کو احساس ہوا کہ وقت کافی بیت چکا ہے ۔ ۔ سونے چلتے ہیں ۔
