جمعہ, فروری 13, 2026

متروکہ وقف املاک بورڈ کی ریکارڈ خفیہ رکھنے کی ناکام کوشش

کراچی : متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے اپنے ریکارڈ کو خفیہ رکھنے اور شفافیت اور احتساب کے عمل کو روکنے کی ناکام کوشش سامنے آ گئی ہے ۔ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت پوچھی گئی معلومات کا جواب دینے کے بجائے اچانک چیئرمین بورڈ کے اختیارات کے تحت ریکارڈ کو چھپانے کیلئے 31 دسمبر 2025 کو گزٹ نوٹیفکیشن نکال دیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت ایکٹویٹس عظمت خان نے تین مختلف درخواستوں کے تحت متروکہ وقف املاک بورڈ سے معلومات اور دستاویزات مانگی تھیں جن کے جوابات نہیں دیئے گئے جس کے بعد درخواست گزار نے پاکستان انفارمیشن کمیشن سے رجوع کر لیا تھا ۔

پاکستان انفارمیشن کمیشن نے مذکورہ درخواستوں پر 29 اکتوبر 2025 کو اپیل نمبر 5043-10/25 اور 5034-10 کے علاوہ 5044-10 کے تحت بورڈ کو نوٹسز جاری کر دیئے تھے ۔ جس کے بعد متروکہ وقف املاک بورڈ نے شفافیت اور احتساب کے عمل کیلئے مذکورہ ایکٹ اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 19اے پر عمل درآمد کے بجائے اچانک ایک گزٹ نوٹی فائی کر کے معلومات دینے سے خود کو مستثی قرار دے دیا ہے ۔

بعد ازاں درخواست گزار نے اس پر سپریم کورٹ ، ہائی کورٹس کے متعدد حوالہ جات دیکر ری جوائنڈر جمع کرایا ہے کہ مذکورہ وقف املاک بورڈ کا ریکارڈ ویب سائٹ پر پبلک ہونا چاہیئے ہے ۔ کیوں کہ یہ ان لوگوں کی زمینیں ہیں جو ملک چھوڑ گئے تھے اور یہ اب سرکاری زمینیں ہیں ۔ جن کا ریکارڈ پبلک ہونا چایئے ہے ۔ مذکورہ ریکارڈ کو مخفی رکھ کر شفافیت اور احتساب کے عمل میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے ۔

واضح رہے کہ درخواست گزار کی جانب سے مذکورہ تینوں درخواستوں میں گزشتہ 5 برسوں میں 18B ، 18C اور کلاس 7 کے تحت دی گئی زمینوں اور 30 سالہ لیز پر دی گئی زمینوں کا ریکارڈ مانگا تھا ۔ دوسری درخواست میں پنجاب میں بورڈ املاک کی مکمل لسٹ ، پلاٹ نمبر ، زمین کی نوعیت اور اس کا تازہ ترین اسٹیٹس مانگا تھا ۔ جب کہ تیسری درخواست میں کراچی کے اندر بورڈ کی تمام زمینوں کا ریکارڈ اور اس کی تفصیلات اور تازہ ترین اسٹیٹس مانگا گیا تھا ۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://www.azmatnama.com/
عظمت خان ، کراچی بیسڈ صحافی ہیں ، 2 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔ گزشتہ 12 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی رپورٹنگ فیلڈ میں تعلیم و صحت ، لیبر ، انسانی حقوق ، اسلامی جماعتوں سمیت RTI سے معلومات تک رسائی جیسی اہم ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ 10 برس تک روزنامہ امت میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اب ڈیجیٹیل سے جرنلزم کر رہے ہیں
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں