بدھ, جنوری 28, 2026

صدر میں قائم 4 اسٹار ہوٹل میں سنگین غفلت کا ارتکاب سامنے آ گیا

کراچی : سانحہ گل پلازہ نے جہاں شہر میں موجود کمرشل عمارتوں کی کمزور اور غیر محفوظ حالت کو بے نقاب کیا ہے، وہیں اب کراچی کے نام نہاد فور اور تھری اسٹار رہائشی ہوٹلوں کی سنگین غفلت و لاپرواہی کو بھی سامنے کر دیا ہے ۔ ابتدائی تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ گل پلازہ کا سانحہ کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل غفلت، انتظامی نااہلی اور فائر سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کا انجام تھا ۔

تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں 90 فیصد سے زائد کمرشل مارکیٹس اور رہائشی عمارتیں اسی خطرناک طرز پر قائم ہیں، جب کہ دوسری جانب خود کو “محفوظ” اور “فور اسٹار” کہلوانے والے رہائشی ہوٹلز بھی انہی جان لیوا خامیوں کے ساتھ چل رہے ہیں ۔

سانحہ گل پلازہ کے بعد تحقیات ڈاٹ کام نے شہر بھر کے رہائشی ہوٹلوں کا زمینی حقائق پر مبنی سروے شروع کر دیا ہے ۔ ماضی میں ہوٹل مہران اور ہوٹل ریجنٹ (جو اب ایس آئی یو ٹی اسپتال میں تبدیل ہو چکا ہے) میں آتشزدگی کے واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ہوٹل انڈسٹری میں فائر سیفٹی محض رسمی کارروائی بن چکی ہے ۔

تحقیقات ڈاٹ کام کے پہلے سروے میں کراچی کے مصروف اور گنجان آباد علاقے صدر، سرور شہید روڈ پر واقع پانچ منزلہ رہائشی ہوٹل EXCELSIOR کا جائزہ لیا گیا ۔ ہوٹل انتظامیہ خود کو فور اسٹار کیٹیگری میں شامل قرار دیتی ہے، جس کے باعث یہاں روزانہ کی بنیاد پر ملکی اور غیر ملکی مہمان قیام کرتے ہیں ۔

سروے کے دوران سامنے آنے والی معلومات انتہائی تشویشناک ہیں ۔ ہوٹل EXCELSIOR میں فائر الارم سسٹم موجود نہیں، آگ بجھانے کے فوری آلات ناکافی یا غیر فعال ہیں ۔ ہنگامی اخراج کے لیے کوئی متبادل راستہ دستیاب نہیں، واحد داخلی راستہ ہی ہنگامی صورت حال میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔

تحقیقات کے مطابق ہوٹل کی پانچویں منزل پر صورت حال مزید سنگین ہے، چار منزلوں تک سیڑھیاں اور لفٹ موجود ہیں۔ پانچویں منزل کے لیے صرف لفٹ کا انحصار ہے، آگ یا دھوئیں کی صورت میں مہمانوں کے لیے فرار کا کوئی محفوظ راستہ نہیں، موجودہ راستہ بھی اسٹور کے سامان سے بند پایا گیا ۔

ہوٹل EXCELSIOR کے جنرل منیجر اطہر بھٹو نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ سیڑھیاں ماربل کی ہیں اور ان پر کارپٹ موجود نہیں ، اس لیئے آگ لگنے کا کوئی امکان نہیں ۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سول ڈیفنس کا ماہانہ سروے ہوتا ہے اور متعلقہ سرٹیفیکیٹس ان کے پاس موجود ہیں ۔

تاہم ماہرین کے مطابق آگ صرف کارپٹ یا لکڑی سے نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ، ایئر کنڈیشننگ، الیکٹرک پینلز اور کچن ایریاز سے بھی بھڑک سکتی ہے، جس کے لیے ہنگامی اخراج کے راستے ناگزیر ہوتے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ نے فور اسٹار دعویٰ کو مشکوک بنا دیا یے ۔

سندھ کلچر اینڈ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق رہائشی ہوٹلز کی کیٹیگری فیلڈ سروے، فائر سیفٹی کلیئرنس، ہنگامی راستوں اور سول ڈیفنس سرٹیفیکیٹس کی بنیاد پر دی جاتی ہے ۔

محکمہ ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کے مطابق ہوٹل EXCELSIOR کے رجسٹرڈ لائسنس کی توسیع اسی بنیاد پر روک دی گئی ہے کہ ہوٹل میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے بنیادی سہولیات موجود نہیں ہے اور اسی بنیاد پر ان کی کٹیگری فور اسٹار سے کم ہونے کا امکان ہے ۔

سوال اب بھی قائم ہے کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد سوال یہ نہیں کہ غفلت ہوئی یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا کراچی کے دیگر فور اسٹار اور تھری اسٹار رہائشی ہوٹلز بھی اسی خطرناک حقیقت کو چھپائے بیٹھے ہیں ؟ ۔ تحقیقات ڈاٹ کام کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://www.azmatnama.com/
عظمت خان ، کراچی بیسڈ صحافی ہیں ، 2 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔ گزشتہ 12 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی رپورٹنگ فیلڈ میں تعلیم و صحت ، لیبر ، انسانی حقوق ، اسلامی جماعتوں سمیت RTI سے معلومات تک رسائی جیسی اہم ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ 10 برس تک روزنامہ امت میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اب ڈیجیٹیل سے جرنلزم کر رہے ہیں
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں