جمعہ, جنوری 16, 2026

غلام نبی میمن جیسے باصلاحیت و ایماندار افسر کی ریٹائرمنٹ

تحریر : نیاز احمد کھوسہ

جناب غلام نبی میمن صاحب آئی جی سندھ 31 دسمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں ۔

ڌڌو ڌرتيءَ تي اڃا به ڪم آهي
سڄڻ ويندو ويو، وساري نه ويندو

اردو ترجمہ:
"ڈھڈو (زمین) پر ابھی کام باقی ہے
یار جا تو گیا، مگر بھلایا نہ جائے گا”

میری اُن سے پہلی مُلاقات 2003 میں ہوئی تھی ۔ میں ایس ایس پی انویسٹیگیشن ایسٹ تھا؟ میرا دفتر تھانہ شاہراہ فیصل کے ساتھ تھا ۔ جہاں آجکل SSP آپریشن بیٹھتے ہیں ۔ جناب غلام نبی میمن اُس وقت ایس ایس پی تھے ۔ اُن کی اور میری VVIP ڈیوٹی ساتھ لگی تھی ۔ شاہ فیصل بیس پر کسی VVIP نے آنا تھا ۔

اُس کے بعد جناب غلام بنی میمن صاحب کے ساتھ کام کرنے کا کافی موقعہ ملا ۔ غلام نبی میمن صاحب پانچ وقت نمازی، سچے، ایک باکردار، ارادے کے پکے اور اللہ پاک پر پختہ یقین رکھنے والے اور اپنی اہلیت کی بنیاد ہے ترقی کرنے والے صاف ستھرے انسان ہیں ۔ جو لوگ پولیس میں نہیں ہیں اُن کی پولیس ڈیپارٹمنٹ اور پولیس میں کام کرنے والے افراد کیلئے رائے مختلف ہوتی ہے ۔ اگر میں نیب/ریلوے یا واپڈا میں کام کرنے والے افراد کیلئے کوئی منفی رائے رکھتا ہوں تو اُس کی اہمیت اسلیئے نہیں ہے کہ مجھے کیا پتہ اُن اداروں میں فرائض انجام دینے والے افسران کی کیا کیا مجبوریاں ہیں اور اُن کو کن چیلینجز کا سامنہ ہے ۔

جناب غلام نبی میمن صاحب کا تعلق ایک درمیانہ درجے کے سفید پوش فیملی سے ہے وہ کسی سرمایہ دار یا جاگیر دار کے بیٹے نہیں ہیں مگر آج وہ جو کچھ بھی ہیں اور جس عہدے سے عزت کے ساتھ ریٹائر ہو رہے ہیں ۔ یہ سب ان کی ذاتی محنت اور دیانداری سے کام کرنے کی وجہ سے ممکن ہوا ہے ۔ اُن کے 36 سالہ کیرئر میں آج تک ایک بھی اسکینڈل یا کپڑوں پر کوئی داغ نہیں ہے ۔ ان کی کامیابی کے رازوں میں ایک راز یہ بھی ہے کہ انہون نے پولیس کے خلاف شکایتوں یا پولیس گردی پر ہمیشہ ان پولیس افسران کو سزائیں دیں اور شکایت کرنے والے سے خود رابطے میں رہتے تھے ۔

پریکٹیکل لائف میں ہوتا یہ ہے کہ “ طاقت “ ایک کے پاس اور “ اختیار” دوسرے کے پاس ہوتا ہے ۔ آسانی سے سمجھ لیں کہ اختیار آئی جی کے پاس ہے اور طاقت حکومت کے پاس ہے ۔ اگر طاقت کے زور پر حکومت کے نمائندے وزیر داخلہ یا وزیر اعلی اپنا حق مثبت انداز میں استعمال کر رہے ہیں تو یہ ہمیں قبول کرنا پڑے گا ۔ آپ یا ہم کسی سے کسی کا حقِ حکومت چھین نہیں سکتے صرف غلط کرنے پر اعتراض کرنے کا حق ضرور رکھتے ہیں ۔ لیکن غلام نبی میمن صاحب نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ قانون کی حکمرانی اور میرٹ کو فوقیت دی جائے۔ حکومتِ سندھ کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے آئی جی سندھ کے عہدے پر میرٹ پر افسران تعینات کیے ۔ پہلے جناب غلام نبی میمن صاحب، پھر جناب رفعت مختار صاحب، اور پھر دوبارہ میمن صاحب کی تعیناتی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔

حکومت سندھ نے ہمیشہ جناب غلام نبی میمن صاحب کی رائے کا احترام کیا اور اُن کے مشورے کو مقدم رکھا اور جب بھی غلام نبی میمن صاحب کسی افسر پر کام میں کوتائی کی وجہ سے ناراض ہوئے تو حکومت سندھ نے کبھی اُس افسر کی پُشت پنائی نہیں کی اور بلآخر اُس افسر کو گھر جانا پڑا ۔

پاکستان میں ” طاقت اور اختیار “ کا فارمولا تو ہر گھر میں بھی چلتا ہے ۔ اختیار شوہر کے پاس ہوتا ہے کیونکہ وہ نوکری یا کاروبار کرتا ہے پیسہ کماتا ہے مگر گھر میں طاقت کا سرچشمہ بیوی ہوتی ہے اور ساری پالیسی بیوی ہی کی چلتی ہے، اگر بیوی شوہر میں ہم آہنگی نہیں یا ایک طرف سے اختیار کو غلط استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے منفی نتائج کو آپ اور ہم سب نے دیکھ لیا کہ عمران خان کی حکومت کا Down Fall کی اصل وجہ یہ تھی کہ اختیار عمران خان کا تھا اور طاقت ور اُن کی بیوی تھی اور بیوی نے اختیارات کا غلط استعمال کر کے اپنی ہی حکومت کو نُقصان پہنچا دیا اور پوری پارٹی کو ایک مصیبت میں ڈال دیا ہے ۔

عمران خان اور فوج کے اختلافات اُس دن شروع ہوئے جس دن جرنل عاصم منیر صاحب نے بُشرا بیبی اور فرح گوگی کی طرف سے وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے اختیارات کے غلط استمال کی بات کی ۔ وہ دن اور آج کا دن آپ خود دیکھ لیں جرنل عاصم منیر کی سچی بات پر غلط ردعمل دینے کا نتیجہ کیا ہوا ؟ ۔ یہ سب کچھ آپ اور ہمارے لیئے ایک سبق اور Learning ہے ۔ کبھی بھی غلط کام کی پشت پنائی نہیں کرنی چاہیئے ۔ بھلے وہ کسی بھی پیارے بیٹے / بھائی / بیوی / یا دوست کی طرف سے ہو ۔ غلط کام کی پشت پنائی سے ہی زوال کا آغاز ہوتا ہے ۔ بھلے اس کا تعلق حکومت سے ہو یا اپنے گھر کا ہو، تباہی کا باعث بنتا ہے ۔

بالکل اسی طرح حکومت سندھ نے آج تک جناب غلام نبی میمن صاحب کی سچی اور کھری بات پر کبھی اختلاف نہیں کیا ۔ جناب غلام نبی میمن صاحب کے آگے حکومت کے کسی بھی چہیتے افسر کی نہیں چلتی تھی ۔ میں ان بہت سے افسران کو جانتا ہوں جو اپنی “Management “پر اکڑتے تھے اور فیلڈ میں کام کرنے سے کتراتے تھے ۔ جب غلام نبی میمن صاحب کی نظر سے گرے یا اُن کے ٹارگٹ پر آئے تو اُن کی سفارش اور Management کچھ کام نہ آئی ۔

میں ایسے بہت سے ایس ایس پیز اور ڈی آئی جیز کو جانتا ہوں جن کی پوسٹنگ کے آگے جناب غلام نبی صاحب ایک دیوار ہیں ۔ اُن کے پاس سیاسی سفارش وغیرہ سب کچھ ہے مگر اُن کی چل نہیں پا رہی اور وہ غلام نبی میمن صاحب کے جانے کا انتظار کر رہے ہیں ۔

جناب غلام نبی میمن صاحب ہمیشہ سے کرپشن اور جرائم کے خلاف رہے ہیں، اُن میں ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کبھی بھی جذباتی نہیں ہوتے اور نہ ہی جذبات یا غصے میں آ کر جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرتے ہیں اور جب بھی بات کرتے ہیں دلیل کے انداز میں بات کرتے ہیں اور سامنے والے کو حقائق پر مبنی اتنے دلائل دیتے ہیں کہ آگلا خاموش ہو جاتا ہے ۔

شکاپور میں پچھلے دنوں ایک خاتون DSP اور اُن کا شوہر ڈی ایس پی کرمنلز کے فائرنگ سے زخمی ہوئے ۔ کرمنلز کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا مگر شکارپور پولیس نے کرمنلز سے کوئی رعایت نہیں کی اور اُن کو ایسا سبق دیا کہ اُن کی سات نسلیں یاد رکھیں گی ۔ یہاں تک علائقے کے MPA امتیاز شیخ اور سندھ حکومت نے بھی ان کرمنلز سے لاتعلقی کا اظہار کیا ۔

گھوٹکی میں بھی یہی ہو رہا ہے ۔ پچھلے دنون اوباوڑو کے قریب بس سے تنویر اندھنر کے گینگ نے کچھ مسافر اغواء کر لیئے ۔ اغواء کے بعد گھوٹکی پولیس نے کچے میں تنویر اندھنڑ گیگ پر ایسی زبردست کارروائی کی کہ تقریباً تنویر انڈھنڑ گینگ کا صفایا ہو گیا ہے اور تنویر اندھنڑ خود زخمی ہے ۔ کرمنل چاہے کسی بھی قوم یا پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں وہ کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ ان دو واقعات اور ایک ماہ پہلے DIG حیدرآباد اور SSP حیدرآباد کا کراچی سے بلیک Rivo چھینتے وقت ایک مگسی بچے کے قتل کی اطلاع پر خود باہر نکل کر کارلفٹروں کو اپنے انجام پر پہچھانے کی وجہ سے عام آدمی کا حکومت اور پولیس پر اعتماد بحال ہوا ہے اور عام آدمی کو یہ محسوس ہونا شروع ہوا ہے کہ سندھ پولیس اور حکومت بدامنی سے نمٹنے میں سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے ۔

سندھ پولیس کیلئے ڈرون خریدنے اور اُن کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کی تربیت کروانے میں بھی جناب غلام نبی میمن صاحب کی ذاتی دلچسپی ہی کا نتیجہ ہے ۔ جناب غلام نبی میمن صاحب LMG Loaded ڈرون خریدنے کی بھی کوشش کر رہے تھے کہ اُن کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آن پہنچا ہے ۔ LMG Loaded ڈرون ملنے سے سندھ پولیس کچے کے ڈاکوؤں کو جڑ سے اکھاڑے کی پوزیشن میں آ جائے گی ۔

سندھ پولیس کو ڈرون ملنے کے بعد کچے اور پکے کے ڈاکوں میں ایک خوف کی فضا چھائی ہوئی نظر آ رہی ہے اور سننے میں آیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کی فیملیز کا ڈاکوؤں پر دباؤ ہے کہ وہ یہ کام چھوڑ کر کچے سے نکل آئیں ۔ پہلے ڈاکو کچے میں خود کو انتہائی محفوظ اور قانون سے بالاتر سمجھتے تھے مگر سندھ پولیس کے اچانک ڈرون حملوں کے بعد صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی ہے اور شکارپور پولیس اور گھوٹکی پولیس کی حالیہ کامیابیوں کی وجہ سے جرائمُ پیشہ ڈاکوؤں کے حوصلے پست ہوئے ہیں ۔

جناب غلام نبی میمن صاحب کی ہی کوششوں سے پولیس ملازمیں کو ہیلتھ کارڈ ملے جس کی وجہ سے کافی حد تک پولیس ملازمیں اور اُن کی فیملی کے صحت کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملی ہے ۔

اگر آئی جی سندھ غلام نبی میمن صاحب اور حکومت سندھ کی SSP شکارپور اور SSP گھوٹکی کو سپورٹ نہ ہوتی تو یہ کچھ بھی نہ ہوتا ۔ کراچی میں سیف سٹی اور S4 پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک غلام بنی میمن صاحب نے پہنچایا ۔ سیف سٹی اور S4 پراجیکٹ کے ثمرات آنے ابھی باقی ہیں ۔ بوریوں میں لاشیں پھیکنے والے اور کراچی آپریشن میں دو سو سے زائد پولیس افسران کو شہید کرنے والے لوگ سیف سٹی کیمروں سے خوف زدہ ہو کر اس پرروجیکٹ کے خلاف منفی پروپیگینڈا کر رہے ہیں اور سندھ پولیس و حکومت سندھ کی اس کوشش کو ختم کروانا چاہتے ہیں ۔

ایک بار جناب غلام نبی میمن صاحب ایک ضلع SSP پر ناراض ہوئے اور اُن کو وہاں سے ہٹاکر CPO رپورٹ کر دیا ۔ اُس ایس ایس پی صاحب کو معلوم تھا کہ غلام نبی میمن صاحب میرا بہت خیال رکھتے ہیں ۔ وہ ایس ایس پی میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ غلام بنی صاحب سے بات کریں ۔ انہوں نے مجھے خوامخواہ ضلع سے ہٹایا ہے ۔ میں نے محترم غلام نبی صاحب کو فون کیا اور بتایا کہ ( فلاں) ایس ایس پی پر آپ ناراض ہیں اور اُن صاحب کا خیال ہے کہ مجھے آناً فاناً ضلع سے ہٹا کر میرے ساتھ زیادتی کی گئی ہے ۔

میری بات سننے کے بعد جناب غلام نبی میمن صاحب نے مجھے اُن صاحب کی دس کے قریب ناراض ہونے کی وجوہات بتائیںں کہ فلاں موقع پر اُس نے یہ کیا اور فلاں موقع پر اس نے یہ یہ کیا اور آخر میں مجھ سے پوچھا کہ نیاز بھائی اگر آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے ؟ اور مزید کہا کہ ان SSP صاحب کا فلاں سیاست دان سفارشی ہے مگر اس کے باوجود میں نے اُن کو ہٹایا ہے اسطرح میں اپنی ٹیم نہیں چلا سکتا  ۔ یہ جناب غلام نبی میمن صاحب کا بڑا پن ہے کہ وہ IG سندھ ہوتے ہوئے بھی مجھ جیسے ایک ریٹائرڈ آدمی سے تعلق نبھاتے آئے اور بات سنتے آئے ۔

دوسری بار ایک کیس میں جانبداری اور کسی وجہ سے ملزمان کا ساتھ دینے پر ہمارے وکلا نے اور کیس کے مدعی نے انسپکٹر سراج لاشاری کا سکھر کی عدالت میں سافٹ ویئر اپڈیٹ کر دیا ۔ اُس کے بعد دو اخباری رپورٹر انسپکٹر سراج لاشاری کو لیکر سندھ اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر چیف منسٹر اور وزیر داخلہ سے ملے اور اُن کو شکایت کی کہ” ایک ایماندار “ انسپکٹر کی بے عزتی ہوئی ہے اس پر کارروائی کے جائے ۔

جناب غلام نبی میمن صاحب کا مجھے فون آیا اور کہا کہ سراج لاشاری کے خلاف اگر کوئی شکایت تھی تو آپ مجھے بتاتے؟ میں انکوائری کرواتا ۔ باقی آپ کے لوگوں کو سراج لاشاری کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا ۔ میں نے جناب غلام نبی صاحب کو کہا کہ سر پہلے نمبرپر تفتیش میں ہر کیس کو جھوٹا یا سچا ثابت کرنے کیلئے ایک “ پیمانہ، شہادت Evidence اور اصول “مقرر ہے اور کسی زخمی بندے کے کیس میں اگر یہ اُبہام پیدا ہوجائے کہ زخمی مدعی کے زخم خود ساختہ ہیں تو اُس کیس میں حقیقت معلوم کرنے کیلئے پولیس زخمی کو دوبارہ میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کرواتی ہیں جہاں سینئر ڈاکٹروں کا بورڈ زخمی کا دوبارہ Examination کرنے کے بعد اپنی حتمی رائے دیتا ہے کہ زخم اصلی ہے یا خود ساختہ ۔ مگر سراج لاشاری نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور ملزمان کی فرمائش پر یک طرفہ تفتیش کر کے کیس کو جھوٹا کر دیا ۔

دوسرا : جھگڑا ایک ہوٹل میں ہوا ہے ۔ وہاں ملزمان نے حملہ کر کے مدعی کو زخمی کیا ۔ جس کی ویڈیو موجود ہے ۔ جس میں ملزمان کو مدعی سے لڑتے اور مدعی کو پسٹل کے بٹ مار کر زخمی ہوتے دیکھا جاسکتا ہے ۔

تیسرا : انسپیکٹر سراج لاشاری ہر بار سکھر سے واپس جاتے ہوئے ببرلو کے تاج پیٹرول پمپ کے پاس اپنی پولیس موبائل روکتا ہے ۔ وہاں ملزمان اُس کی پولیس موبائل میں ڈیزل ڈلواتے ہیں اور ویڈیو میں ڈیزل کے پیسے ادا کرتے دیکھے جا سکتے ہیں اور بعد میں سراج لاشاری کے ساتھ پولیس موبائل میں بیٹھ جاتے ہیں اور خرچہ پانی دینے کے بعد پولیس موبائل سے اُترتے ہیں جس کی متعدد ویڈیوز ہمارے پاس موجود ہیں ۔

میں نے مزید کہا کہ سر : اگر جس افسر پر IG سندھ Trust کرتا ہو اور وہ افسر کیسز کی تفتیش میں اس طرح کی دس نمبریاں کرے گا تو عدالت میں مدعی پارٹی اور وکلا کا ردعمل تو لازمی آئے گا ؟ جناب غلام بنی میمن صاحب نے جواباً کہا میں چیک کرواتا ہوں کہ اگر واقعی سراج لاشاری نے Hurt کیس کو بغیر Medical Board کے جھوٹا قرار دیا ہے تو پھر اُس نے غلط کیا ہے ۔

جناب غُلام نبی میمن صاحب کی ریٹائر منٹ پر صرف اتنا کہوں گا کہ “ ریٹائرمنٹ محض ایک سرکاری عمل ہے، لیکن ایماندارانہ خدمت اور دیانت داری کی داستان ہمیشہ زندہ رہتی ہے” ۔

ڌرتيءَ تي اڃا به ڪم باقي آهي،
سُڄڻ!سندھ تنهنجو نالو وساري نه سڳندي

اردو ترجمہ:
"اِس دھرتی پر ابھی کام باقی ہے،
اے ساتھی! سندھ تیرا نام بھلا نہیں سکتی !!

یہ بات تو یقینی ہے کہ سندھ حکومت نئے IG سندھ کیلئے بھی کسی محنتی، دیانتدار اور اچھی ساکھ رکھنے والے افسر کا ہی انتخاب کرے گی جو غلام نبی میمن صاحب کے مشن کو احسن طریقے سے آگے بڑھا سکے اور Zero Tolerance کی پالیسی پر عمل پیرا رہے ۔

سندھ پولیس نے حالیہ برسوں میں جو مثبت تبدیلیاں دیکھی ہیں، ان کی بنیاد انہی اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ عوام کا اعتماد، جو کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی سب سے بڑی طاقت ہے، اب عوام کا اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس اعتماد کو مزید مستحکم کرنا، ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، اور ہر سطح پر انصاف اور دیانت داری کو یقینی بنانا نئے آنے والے آئی جی سندھ کیلئے سب سے بڑے چیلنجز ہوں گے ۔جناب غلام نبی میمن صاحب نے جو عمدہ مثال قائم کی ہے، اسے آگے بڑھانا ہی دراصل ان کی خدمات کا سب سے بڑا اعتراف ہو گا۔

"جو شخص راہِ حق میں چل دے ایک بار، وہ راستہ روشن کر جاتا ہے
آئیے اس چراغ سے چراغ جلاتے چلیں، یہ سلسلہ جاری رکھتے ہیں”
"یہ شمع جس کو جلانا ہے اسے بجھنے مت دینا
یہ فصل جس کو بونا ہے اسے کٹنے مت دینا”

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسکhttps://alert.com.pk/
Alert News Network Your Voice, Our News "Alert News Network (ANN) is your reliable source for comprehensive coverage of Pakistan's social issues, including education, local governance, and religious affairs. We bring the stories that matter to you the most."
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں