جمعہ, جنوری 16, 2026

پولیس اور کسٹم افسران کے اثاثے آئی ایم ایف کی شرائط کے باوجود خفیہ

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت شہری نے پولیس سروسز گروپ کے چار افسران اور کسٹمز سروسز گروپ کے تین افسران کے اثاثہ جات کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں مگر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ایک ہی جواب میں سب مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسران استثنیٰ یافتہ ہیں۔

اس حوالے سے تحقیقات ڈاٹ کام نے 24 نومبر 2025 کو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط تحریر کیا تھا ۔ جس میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 19A کے مطابق پاکستان کسٹمز سروسز سے منسلک ممبران جن میں ممبر کسٹم پیڈ کوارٹر (ساوتھ زون) یعقوب ماکو ، چیف کلکٹر کسٹمز ساؤتھ اپریزمنٹ واجد علی ، کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ ساؤتھ معین الدین وانی اور پولیس سروسز گروپ سے وابستہ افسران سابق ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی وقار الدین سید ، ڈی آئی جی عاصم قائم خانی ، ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں تعینات عبدالسلام شیخ کے علاوہ موجودہ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی کے علاوہ گیشن ایجنسی کراچی طارق نواز کے اثاثوں کی مکمل تفصیلات، سرکاری تعیناتی کے دوران جمع کرائے جانے والے گوشوارے اور ہر افسر کے مختلف عہدوں پر تقرری کے عرصے کی مکمل معلومات طلب کی گئی تھیں ۔

واضح رہے کہ حال ہی میں نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے افسران کے خلاف کروڑوں روپے رشوت وصولی کے سنگین الزامات پر تفتیش جاری ہے۔ اس کیس میں نامزد افسران اور ان کے سہولت کار سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات پر کارروائی متوقع تھی مگر این سی سی آئی اے کے پہلے ڈائریکٹر جنرل وقار الدین سید کو صرف عہدے سے ہٹانے کی سزا دے کر معاملہ مزید مشکوک بنا دیا گیا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اگر این سی سی آئی اے میں ان کے ماتحت افسران پر کروڑوں روپے کے مبینہ الزامات ہیں تو سربراہ ان الزامات سے کیسے مبرا ہو سکتے ہیں؟ پاکستان کسٹمز سروسز کے افسران کے خلاف ایف آئی اے کراچی کے ایک اہم مقدمے میں کلکٹر سطح کے افسران ثاقف سعید اور عثمان باجوہ سمیت دیگر نامزد تھے اور ان کے اثاثوں کی چھان بین اینٹی منی لانڈرنگ سیل میں اب بھی سرد خانے کی نذر ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دور میں یعقوب ماکو چیف کلکٹر انفورسمنٹ کی حیثیت سے تعینات تھے اور آج ممبر کسٹم پیڈ کوارٹر ہونے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ اب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان کے اثاثوں کی تفصیلات دینے سے بھی انکار کر دیا ہے ۔ یعنی صورتحال وہی من پسند افسران کا الگ قانون، ناپسندیدہ کے لیے الگ ہے ۔

نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی میں حالیہ کارروائی کے بعد نئے تعینات افسران کے اثاثوں کی تفصیلات پہلے ہی منظر عام پر آ جانا چاہیے تھیں مگر گریڈ 18 میں تعینات ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کراچی طارق نواز کے اثاثوں کی تفصیلات کو چھپانا مزید شکوک پیدا کر رہا ہے۔یہی صورت حال کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ معین الدین وانی کی ہے، کیونکہ اس عہدے پر پہلے تعینات افسران ایف آئی اے کی تحقیقات میں شامل رہے اور اس حساس عہدے کے افسران کے اثاثے عوام کے سامنے آنے چاہیے تھے۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://www.azmatnama.com/
عظمت خان ، کراچی بیسڈ صحافی ہیں ، 2 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔ گزشتہ 12 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی رپورٹنگ فیلڈ میں تعلیم و صحت ، لیبر ، انسانی حقوق ، اسلامی جماعتوں سمیت RTI سے معلومات تک رسائی جیسی اہم ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ 10 برس تک روزنامہ امت میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اب ڈیجیٹیل سے جرنلزم کر رہے ہیں
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں