Home اسٹوریز RTI پولیس اور کسٹم افسران کے اثاثے آئی ایم ایف کی شرائط کے...

پولیس اور کسٹم افسران کے اثاثے آئی ایم ایف کی شرائط کے باوجود خفیہ

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت شہری نے پولیس سروسز گروپ کے چار افسران اور کسٹمز سروسز گروپ کے تین افسران کے اثاثہ جات کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں مگر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ایک ہی جواب میں سب مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسران استثنیٰ یافتہ ہیں۔

اس حوالے سے تحقیقات ڈاٹ کام نے 24 نومبر 2025 کو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط تحریر کیا تھا ۔ جس میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 19A کے مطابق پاکستان کسٹمز سروسز سے منسلک ممبران جن میں ممبر کسٹم پیڈ کوارٹر (ساوتھ زون) یعقوب ماکو ، چیف کلکٹر کسٹمز ساؤتھ اپریزمنٹ واجد علی ، کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ ساؤتھ معین الدین وانی اور پولیس سروسز گروپ سے وابستہ افسران سابق ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی وقار الدین سید ، ڈی آئی جی عاصم قائم خانی ، ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں تعینات عبدالسلام شیخ کے علاوہ موجودہ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی کے علاوہ گیشن ایجنسی کراچی طارق نواز کے اثاثوں کی مکمل تفصیلات، سرکاری تعیناتی کے دوران جمع کرائے جانے والے گوشوارے اور ہر افسر کے مختلف عہدوں پر تقرری کے عرصے کی مکمل معلومات طلب کی گئی تھیں ۔

واضح رہے کہ حال ہی میں نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے افسران کے خلاف کروڑوں روپے رشوت وصولی کے سنگین الزامات پر تفتیش جاری ہے۔ اس کیس میں نامزد افسران اور ان کے سہولت کار سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات پر کارروائی متوقع تھی مگر این سی سی آئی اے کے پہلے ڈائریکٹر جنرل وقار الدین سید کو صرف عہدے سے ہٹانے کی سزا دے کر معاملہ مزید مشکوک بنا دیا گیا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اگر این سی سی آئی اے میں ان کے ماتحت افسران پر کروڑوں روپے کے مبینہ الزامات ہیں تو سربراہ ان الزامات سے کیسے مبرا ہو سکتے ہیں؟ پاکستان کسٹمز سروسز کے افسران کے خلاف ایف آئی اے کراچی کے ایک اہم مقدمے میں کلکٹر سطح کے افسران ثاقف سعید اور عثمان باجوہ سمیت دیگر نامزد تھے اور ان کے اثاثوں کی چھان بین اینٹی منی لانڈرنگ سیل میں اب بھی سرد خانے کی نذر ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دور میں یعقوب ماکو چیف کلکٹر انفورسمنٹ کی حیثیت سے تعینات تھے اور آج ممبر کسٹم پیڈ کوارٹر ہونے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ اب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان کے اثاثوں کی تفصیلات دینے سے بھی انکار کر دیا ہے ۔ یعنی صورتحال وہی من پسند افسران کا الگ قانون، ناپسندیدہ کے لیے الگ ہے ۔

نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی میں حالیہ کارروائی کے بعد نئے تعینات افسران کے اثاثوں کی تفصیلات پہلے ہی منظر عام پر آ جانا چاہیے تھیں مگر گریڈ 18 میں تعینات ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کراچی طارق نواز کے اثاثوں کی تفصیلات کو چھپانا مزید شکوک پیدا کر رہا ہے۔یہی صورت حال کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ معین الدین وانی کی ہے، کیونکہ اس عہدے پر پہلے تعینات افسران ایف آئی اے کی تحقیقات میں شامل رہے اور اس حساس عہدے کے افسران کے اثاثے عوام کے سامنے آنے چاہیے تھے۔

Exit mobile version