تفصیلات کے مطابق شہری نادر خان نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت پولیس سروسز گروپ اور پاکستان کسٹمز سروسز کے گریڈ 18 سے گریڈ 21 کے درمیان افسران کے اثاثوں کی تفصیلات مانگی تھیں ۔ اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے معلومات دینے سے انکار کرتے ہوئے تحریری جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان افسران کو استثنیٰ حاصل ہے۔
رواں برس وفاقی حکومت نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ دسمبر تک گریڈ 17 سے اوپر افسران کے اثاثوں کی تفصیلات عام کی جائیں ۔ تاہم وفاقی حکومت نے بعد ازاں پاکستان کسٹمز سروسز اور پولیس سروسز گروپ سے وابستہ افسران کے اثاثہ جات کی تفصیل عام کرنے سے بھی انکار کر دیا ۔
رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت شہری نے پولیس سروسز گروپ کے چار افسران اور کسٹمز سروسز گروپ کے تین افسران کے اثاثہ جات کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں مگر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ایک ہی جواب میں سب مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسران استثنیٰ یافتہ ہیں۔
اس حوالے سے تحقیقات ڈاٹ کام نے 24 نومبر 2025 کو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط تحریر کیا تھا ۔ جس میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 19A کے مطابق پاکستان کسٹمز سروسز سے منسلک ممبران جن میں ممبر کسٹم پیڈ کوارٹر (ساوتھ زون) یعقوب ماکو ، چیف کلکٹر کسٹمز ساؤتھ اپریزمنٹ واجد علی ، کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ ساؤتھ معین الدین وانی اور پولیس سروسز گروپ سے وابستہ افسران سابق ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی وقار الدین سید ، ڈی آئی جی عاصم قائم خانی ، ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں تعینات عبدالسلام شیخ کے علاوہ موجودہ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی کے علاوہ گیشن ایجنسی کراچی طارق نواز کے اثاثوں کی مکمل تفصیلات، سرکاری تعیناتی کے دوران جمع کرائے جانے والے گوشوارے اور ہر افسر کے مختلف عہدوں پر تقرری کے عرصے کی مکمل معلومات طلب کی گئی تھیں ۔

سوال یہ ہے کہ اگر این سی سی آئی اے میں ان کے ماتحت افسران پر کروڑوں روپے کے مبینہ الزامات ہیں تو سربراہ ان الزامات سے کیسے مبرا ہو سکتے ہیں؟ پاکستان کسٹمز سروسز کے افسران کے خلاف ایف آئی اے کراچی کے ایک اہم مقدمے میں کلکٹر سطح کے افسران ثاقف سعید اور عثمان باجوہ سمیت دیگر نامزد تھے اور ان کے اثاثوں کی چھان بین اینٹی منی لانڈرنگ سیل میں اب بھی سرد خانے کی نذر ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دور میں یعقوب ماکو چیف کلکٹر انفورسمنٹ کی حیثیت سے تعینات تھے اور آج ممبر کسٹم پیڈ کوارٹر ہونے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ اب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان کے اثاثوں کی تفصیلات دینے سے بھی انکار کر دیا ہے ۔ یعنی صورتحال وہی من پسند افسران کا الگ قانون، ناپسندیدہ کے لیے الگ ہے ۔
نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی میں حالیہ کارروائی کے بعد نئے تعینات افسران کے اثاثوں کی تفصیلات پہلے ہی منظر عام پر آ جانا چاہیے تھیں مگر گریڈ 18 میں تعینات ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کراچی طارق نواز کے اثاثوں کی تفصیلات کو چھپانا مزید شکوک پیدا کر رہا ہے۔یہی صورت حال کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ معین الدین وانی کی ہے، کیونکہ اس عہدے پر پہلے تعینات افسران ایف آئی اے کی تحقیقات میں شامل رہے اور اس حساس عہدے کے افسران کے اثاثے عوام کے سامنے آنے چاہیے تھے۔