اسلام آباد : فیڈرل بورڈ آف ریونیو )ایف بی آر ) کے گوداموں سے 25 کروڑ روپے مالیت کے سگریٹ غائب، ایف آئی اے نے 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے ۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے ایف بی آر کے صوابی اور مردان گوداموں سے 2 ہزار 828 کارٹن سگریٹ غائب ہونے کے بڑے اسکینڈل کی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں قومی خزانے کو مبینہ طور پر 25 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔
ایف آئی آر (مقدمہ نمبر 49/2026) کے مطابق، اس اسکینڈل کا آغاز 14 فروری 2024 کو ہوا جب ایف بی آر کے انسپکٹر کامران نے ضلع صوابی کے علاقے چھوٹا لاہور میں چھ گاڑیوں سے کسان برانڈ سگریٹ کے 1,262 کارٹن قبضے میں لے کر شہباز گڑھی (مردان) کے گودام منتقل کیے۔
22 اپریل 2024 کو انسپکٹر کامران اور انسپکٹر نوید نے اس اسٹاک میں سے 1,202 کارٹن چار ہینو ٹرکوں کے ذریعے قاسم پلہ (صوابی) کے گودام منتقل کیے، تاہم وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ 908 کارٹن غائب ہیں۔ حیران کن طور پر اس سنگین کمی کو فوری طور پر پولیس کو رپورٹ نہیں کیا گیا۔
معاملے کی قلعی 7 مئی 2025 کو کھلی جب ایف بی آر کے انسپکٹر شادمان خان نے قاسم پلہ گودام کا معائنہ کیا اور انکشاف کیا کہ وہاں سے مجموعی طور پر 2,828 کارٹن سگریٹ غائب ہیں۔
ایف آئی اے کی جانب سے کی گئی انکوائری میں ایف بی آر کے گوداموں کے انتظام میں سنگین مجرمانہ غفلت اور بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ انکوائری کے مطابق، گوداموں میں کوئی آفیشل لاگ بک یا اسٹاک رجسٹر موجود نہیں تھا، سکیورٹی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں تھے، اور سامان کی منتقلی کے لیے کوئی تحریری احکامات یا باقاعدہ ایس او پیز موجود نہیں تھے۔
دورانِ تفتیش پیراماؤنٹ کمپنی کا کردار بھی مشکوک پایا گیا۔ کمپنی کے منیجر اویس قریشی نے انکشاف کیا کہ ایف بی آر حکام کی ایما پر پیراماؤنٹ کمپنی نے ضبط کیے گئے سگریٹ کو اون کرنے سے انکار (disown) کر دیا تھا، تاکہ کمپنی کی مشینری ضبط ہونے کے بڑے مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

ایف آئی اے نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور ملی بھگت کے الزام میں 5 ایف بی آر اہلکاروں اور 3 نجی افراد کو نامزد کیا ہے ۔
ایف بی آر اہلکاروں میں انسپکٹر کامران، انسپکٹر نوید، ڈرائیور آفتاب حسین، سکیورٹی گارڈ قاضی عماد، اور نائب قاصد سجاد علی اور پیراماؤنٹ کمپنی کے عہدیداروں میں ڈائریکٹر ثاقب علی خان، ڈائریکٹر فدا، اور منیجر اویس قریشی شامل ہیں ۔
مقدمہ پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات 409 اور 109 جبکہ انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2)47 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں اور اگر اس معاملے میں ڈپٹی کمشنرز یا دیگر ایف بی آر افسران کا کردار سامنے آیا تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
