Home پاکستان جامعہ کراچی کی عارضی نرسریوں کی آڑ میں قیمتی اراضی من پسند...

جامعہ کراچی کی عارضی نرسریوں کی آڑ میں قیمتی اراضی من پسند افراد کو الاٹ کرنے کا انکشاف

کراچی :  جامعہ کراچی کی عارضی نرسریوں کی آڑ میں قیمتی اراضی من پسند افراد کو الاٹ کرنے کا انکشاف ہوا ہے ، اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے رشتہ داروں کو بھی زمینیں الاٹ کر دیں ۔ اسٹیٹ آفس اور ملازمین پھٹ پڑے ، گورنر اور وزیر اعلیٰ سے فوری نوٹس کا مطالبہ کر دیا ۔

جامعہ کراچی میں مبینہ بدانتظامی ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور یونیورسٹی روڈ پر واقع کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی کو سنڈیکیٹ کی منظوری کے بغیر من پسند افراد کو اونے پونے داموں الاٹ کرنے کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے ۔

اس غیر قانونی اقدام سے جامعہ کو ناقابلِ تلافی مالی اور انتظامی نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ، جس پر یونیورسٹی کے اسٹیٹ آفس اور شعبہ باغات کے دسیوں ملازمین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے ۔

دستاویزات کے مطابق، لینڈ اسکیپ اینڈ گارڈننگ کونسل (LSGC) کے سیکریٹری کی جانب سے یکم جنوری 2025 کو بیک وقت کئی الاٹمنٹ آرڈرز جاری کیے گئے، جن کے تحت یونیورسٹی روڈ، بالمقابل بوٹینیکل گارڈن اور ناصر ٹاورز کے اطراف کی قیمتی زمین عارضی نرسریوں کے نام پر من پسند افراد کو دی گئی ۔

حیرت انگیز طور پر ان الاٹمنٹس کی ماہانہ فیس محض 4,000 سے 7,000 روپے مقرر کی گئی ہے، جو کہ مارکیٹ ریٹ سے کئی ہزار گنا کم ہے اور یونیورسٹی کے خزانے پر ڈاکے کے مترادف ہے ۔

جامعہ کراچی کے اسٹیٹ آفیسر نے اس معاملے پر سخت ایکشن لیتے ہوئے رجسٹرار جامعہ کراچی کو لکھے گئے اپنے حالیہ مکتوب (نمبر E.O/2026/122) میں انکشاف کیا ہے کہ گارڈننگ کونسل ان نرسریوں، کرایہ داروں کے کوائف اور معاہدوں کا ریکارڈ جان بوجھ کر چھپا رہی ہے ۔ بارہا یاددہانیوں (Reminders) کے باوجود ریکارڈ فراہم نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ الاٹمنٹس قواعد و ضوابط کو ہوا میں اڑا کر کی گئیں ۔

ذرائع اور ملازمین کا الزام ہے کہ اس پورے معاملے میں شعبہ باغات کے موجودہ انچارج وقار احمد (انوائرمنٹل سائنس کا استاد ) سمیت ایک سابق ریٹائرٖڈ استاد دونوں ملے ہوئے ہیں ۔ ان کے ساتھ شعبہ ٹرانسپورٹ کے چند عناصر بھی شامل ہیں جنہوں نے ان جگہوں پر اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے یہ نرسریاں لی ہیں ۔ اس حوالے سے ملازمین کا کہنا ہے کہ سرکاری فیس سے ہٹ کر بھاری رقوم غیر قانونی طور پر وصول کی گئی ہیں، جس میں ایک مبینہ فرنٹ مین ‘صَفَر’ (اسسٹنٹ ہارٹیکلچرسٹ) مرکزی کردار ہے ۔

اس سلسلے میں شعبہ باغات کے دسیوں مالیوں اور ملازمین نے وائس چانسلر، رجسٹرار اور ڈائریکٹر فنانس کو ایک مشترکہ دستخط شدہ درخواست بھی جمع کروائی ہے، جس میں محمد صفار پر سرکاری گاڑیوں اور اراضی کو ذاتی کاروبار کے لیے استعمال کرنے، ملازمین سے بدتمیزی کرنے اور نرسریوں کے کام کو تباہ کرنے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

واضح رہے کہ جامعہ کراچی کی کوئی بھی زمین عارضی یا کرائے پر دینے کے لئے باقاعدہ سنڈیکیٹ کی منظوری ضروری ہے ۔ تاہم لینڈ اسکیپ اینڈ گارڈننگ کونسل (LSGC) کے سیکریٹری نے کامران خان ، حمزہ اڈمانی ، زاہد اقبال ، شہزاد شفیق ، گل محمد ، فہیم شاہ ، فواد محی الدین حیدر ، محمد شہباز شفیق سمیت دیگر کو ماہانہ کم ترین کرائے پر دے دی تھیں ۔

جن کی الاٹمنٹ فیس 1 لاکھ روپے ناقابل واپسی ، 100 اسکوائر یارڈ پر 12,000 روپے سالانہ یعنی 100 روپے فی اسکوائر یارڈ ماہانہ ، فیس قبضہ لینے کے تین ماہ بعد سے لاگو ہو گی ، الاٹی الاٹ شدہ زمین کو کسی کو سب لیٹ نہیں کر سکے گا ۔ الاٹی زمین کی سیکیورٹی اور دیکھ بھال کا خود ذمہ دار ہو گا ۔ نرسری کی جگہ پر پختہ کمرے یا رہائشی کوارٹر بنانا ممنوع ہے۔ الاٹی یا اس کا عملہ زمین پر رہائش نہیں رکھ سکے گا ۔ پانی، بجلی سمیت تمام یوٹیلیٹیز کے بل الاٹی ادا کرے گا ۔ لینڈ سکیپ گارڈننگ کونسل کا سیکرٹری یا اس کا نامزد عملہ نرسری کی نگرانی کرے گا۔ یونیورسٹی کو ضرورت پڑنے پر ایک ماہ کا نوٹس دے کر زمین خالی کرائی جا سکتی ہے ۔ کسی بھی خلاف ورزی پر نرسری بغیر نوٹس ضبط کر لی جائے گی ۔

NO COMMENTS

Exit mobile version