Home پاکستان صحافی نادر خان کے مقدمہ میں ایف آئی اے اور این سی...

صحافی نادر خان کے مقدمہ میں ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے حکام کو سُبکی

نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشبن ایجنسی (این سی سی آئی اے ) کی جانب سے کراچی کے سینئر صحافی نادر خان پر 18 مارچ 2026 کو مقدمہ قائم کیا گیا تھا ، جس میں این سی سی آئی اے نے انتہائی پھُرتی دکھائی تھی اور اب افسران خود عدالت میں پیش ہوتے ہیں نہ ہی کیس کی پیروی میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔ 

نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشبن ایجنسی (این سی سی آئی اے ) نے یہ مقدمہ نمبر FIR No 25/2026 اس وقت قائم کیا تھا جب نادر خان نے 5 منٹ کر 27 منٹ پر شام کو خبر فائل کی اور 6 بجے مقدمہ درج کر لیا گیا تھا ۔ یعنی خبر شائع ہونے کے 33 منٹ بعد مقدمہ قائم ہو گیا تھا ۔

جس افسر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا وہ صدر میں واقع دفتر میں موجود تھا اور مقدمہ گلستان جوہر میں قائم این سی سی آئی اے کے دفتر میں قائم کیا گیا تھا ۔ دونوں دفاتر کا تیز ترین سفر بھی 30 منٹ سے زیادہ ہے ۔

جس کے بعد سینئر صحافی نادر خان نے ڈسٹرکٹ جج ساؤتھ کی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی تھی ۔ اب کیس جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ ون میں زیر سماعت ہے جہاں پر تفتیشی افسر ذیشان اعوان نے ابتدائی چالان جمع کرایا ۔ جس کے مطابق نادر خان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے خبر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور تجاویز کیا ۔

حیران کن طور پر اب تک عدالت میں 15 سے زائد عدالت میں پیشیاں ہو چکی ہیں جس کے باوجود بھی نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشبن ایجنسی (این سی سی آئی اے ) کے افسران حتمی چالان جمع کرایا ہے نہ ہی مدعی نے عدالت میں آ کر اپنے کیس کے حوالے سے کوئی بھی موقف پیش کیا ہے ۔ جس کی وجہ سے این این سی آئی اے کے افسران کو دوستی میں قائم کردہ مقدمہ میں سُبکی کا سامنا ہے ۔

جس افسر کی مدعیت مین مقدمہ درج کیا گیا تھا اس افسر کو ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے عثمان انور نے کراچی میں صرافہ بازار میں کارروائی کے دوران جیولر پر تشدد کے الزام میں پوری ٹیم کے ہمراہ ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ٹرانسفر کر دیا ہے ۔

NO COMMENTS

Exit mobile version