Home پاکستان پاکستانی سائنسدانوں کی ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد افراد پر کی...

پاکستانی سائنسدانوں کی ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد افراد پر کی گئی تاریخی جینیاتی تحقیق

کراچی: پاکستانی سائنسدانوں نے 23 شہروں کے 1 لاکھ 73 ہزار 303 افراد پر ایک تاریخی جینیاتی تحقیق کی ہے، جس میں 31 لاکھ سے زائد ایسے جینیاتی تغیرات (Genetic Variants) دریافت کیے ہیں جو اس سے پہلے دنیا میں ریکارڈ نہیں ہوئے تھے۔

یہ تحقیق "پاکستان جینوم ریسورس (PGR)” نامی بائیو بینک پر مبنی ہے، جس میں ملک کے 23 شہروں سے جمع کیے گئے افراد کے مکمل جینوم اور ایکسوم سیکوئنس محفوظ ہیں۔تحقیق کے دوران ایک لاکھ 66 ہزار 625 ایکسومز اور 6 ہزار 678 مکمل جینومز کا تجزیہ کیا گیا، جس سے 19 ہزار 21 جینز میں 66 لاکھ سے زائد جینیاتی تبدیلیاں سامنے آئیں۔

ان میں سے 31 لاکھ سے زیادہ تغیرات جنوبی ایشیا سے باہر پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے، جبکہ تقریباً 20 لاکھ تغیرات عالمی جینیاتی ڈیٹا بیسز کے مقابلے میں مکمل طور پر نئے ثابت ہوئے۔اس تحقیق نے دل کے امراض، ذیابیطس، موٹاپے، فیٹی لیور اور پارکنسنز سمیت کئی بیماریوں سے متعلق اہم جینیاتی معلومات فراہم کیں۔

ماہرین نے ایسے جینیاتی تغیرات بھی دریافت کیے جو نقصان دہ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز کی سطح کم رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جب کہ بعض قدرتی طور پر غیر فعال جینز فیٹی لیور سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، جو مستقبل میں نئی اور زیادہ محفوظ ادویات کی تیاری کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

تحقیق میں 6 ہزار 476 ایسے غیر فعال جینز کی بھی نشاندہی کی گئی جو انسانی جسم کے تقریباً ایک تہائی پروٹین بنانے والے جینز کے برابر ہیں۔ ان میں سے 2 ہزار 200 سے زائد جینز پہلی مرتبہ دنیا میں اس حالت میں دریافت ہوئے، جب کہ ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی میں کم از کم ایک غیر فعال جین موجود پایا گیا۔

تحقیق میں شامل 30.6 فیصد افراد نے بتایا کہ ان کے والدین پہلے درجے کے کزن تھے۔ ماہرین کے مطابق رشتہ داروں میں شادیوں کی زیادہ شرح پاکستانی آبادی کو بیماری پیدا کرنے والے جینز کی شناخت اور نئی ادویات کے ممکنہ اہداف تلاش کرنے کے لیے منفرد اہمیت دیتی ہے۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر شہزاد علی خان کے مطابق یہ تحقیق پاکستانیوں میں پائی جانے والی موروثی اور طرزِ زندگی سے وابستہ بیماریوں کی بہتر تشخیص، بروقت روک تھام اور ہر فرد کے جینیاتی ڈھانچے کے مطابق علاج یعنی “پریسیژن میڈیسن” کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔

تحقیق میں ڈاکٹر دانش صالحین، ڈاکٹر آصف رشید اور پروفیسر شہزاد علی خان کی معاونت سے کی گئی ہے۔ یہ تحقیق نیچر (Nature) جریدے میں شائع ہوئی ہے اور پوری دنیا میں سراہی جا رہی ہے ۔ اس تحقیق کے نتائج سے پاکستان میں موروثی بیماریوں کے بارے میں قبل از وقت معلوم کیا جا سکے گا اور نئی اور زیادہ محفوظ ادویات کی تیاری میں مدد ملے گی۔ پاکستان کا پہلا جامع جینیاتی نقشہ جنوبی ایشیا کی اب تک کی سب سے بڑی جینیاتی تحقیق ہے، جو مکمل طور پر پاکستانی سائنسدانوں نے پاکستانی ڈیٹا کی مدد سے مکمل کی ہے ۔

NO COMMENTS

Exit mobile version