کراچی : کراچی پریس کلب میں سول سوسائٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ، جس میں وفاقی اردو یونیورسٹی کی رکنِ سینیٹ مہناز رحمان، ہیومن رائٹس کمیشن اف پاکستان سندھ کے وائس چیئرمین خضر حبیب، کراچی یونین اف جرنلسٹس کے طاہر حسن خان، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کہ جنرل سیکرٹری، ناصر منصور، ممتاز مائر تعلیم ڈاکٹر ریاض شیخ، عوامی حقوق فورم کے کنوینیر خالق زدران، نیشنل پارٹی سندھ کے صدر مجید ساجدی اور ریٹائرڈ اساتذہ کے کنوینیر ڈاکٹر توصیف احمد خان سمیت سماجی، تعلیمی، صحافتی اور مزدور تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
شرکاء نے وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کے خلاف حالیہ اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہوں، 27 ماہ کی ہاؤس سیلنگ، پنشن اور دیگر بنیادی حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود انجمن اساتذہ کے عہدیداران سمیت سات پروفیسرز کو گلشن کیمپس کے کیمپس آفیسر عدنان اختر پر مبینہ قاتلانہ حملے کے معاملے میں شاملِ تفتیش کیا جا رہا ہے۔
تھانہ عزیز بھٹی کی جانب سے موصول خط میں پروفیسر سعدیہ خلیق، ڈاکٹر افتخار طاہری، ڈاکٹر روشن سومرو، ڈاکٹر اصغر دشتی، ڈاکٹر اقبال نقوی، ڈاکٹر عرفان عزیز اور ڈاکٹر رانی ارم کے نام شامل ہیں۔
شرکاء نے خاص طور پر اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر رانی ارم، جو شعبۂ سیاسیات کی چیئرپرسن ہیں، وائس چانسلر کے خلاف وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی سے رجوع کر چکی ہیں، جبکہ صدر انجمن اساتذہ گلشن کیمپس پروفیسر سعدیہ خلیق کو بھی وائس چانسلر کی جانب سے پانچ کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس دیا جا چکا ہے۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کے خلاف کارروائیوں کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور کسی بھی استاد کو اپنے بنیادی حقوق، یونین سرگرمی یا پُرامن احتجاج کی پاداش میں ہراساں یا انتقامی کارروائی کا نشانہ نہ بنایا جائے۔
اجلاس میں سول سوسائٹی نے وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کی آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
