Home پہلا صفحہ ٹریڈ مارک رجسٹری: درخواست گزار کی شکایات، بے ضابطگیوں اور دھوکہ دہی...

ٹریڈ مارک رجسٹری: درخواست گزار کی شکایات، بے ضابطگیوں اور دھوکہ دہی کا الزام

کراچی : ٹریڈ مارک رجسٹری میں درخواست گزار کی شکایات سامنے آئیں ہیں جس میں اس نے بے ضابطگیوں اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ مقررہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق کارروائی سے گزریں درخواستوں کو غیر قانونی طور پر منجمد کیا گیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے سال 2020 میں دائر کردہ ٹریڈ مارک درخواستیں، جن کے نمبر 584501، 584502، 588482، 588484، 584494، 584498، اور 584499 ہیں، مقررہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق کارروائی سے گزریں اور تمام قانونی و ضابطہ جاتی تقاضے کامیابی سے مکمل کئے گئے ۔ ان درخواستوں میں کسی قسم کی قانونی یا تکنیکی خامی موجود نہ تھی اور یہ رجسٹریشن کے آخری مرحلے تک پہنچ چکی تھیں ۔

تاہم 17جنوری 2022 کو دائر کی گئی TM-11 درخواستوں کی کارروائی کے دوران سنگین بے ضابطگیاں اور مبینہ طور پر دھوکہ دہی پر مبنی اقدامات کیے گئے ۔ ان میں 17 جنوری 2022 کو رسید نمبر 195917 کا استعمال شامل تھا ، جو چیک نمبر 00000345، حبیب بینک لمیٹڈ، بذریعہ چاند اینڈ ایسوسی ایٹس سے متعلق تھی ۔ مذکورہ رسید پہلے ہی اپوزیشن نمبر 46/2018 (TM-06) کے سلسلے میں 1,500 روپے کی سرکاری فیس کے لیے استعمال کی جا چکی تھی ۔ اس کے باوجود، مبینہ طور پر اسی رسید کو مذکورہ سات (07) TM-11 درخواستوں کی کارروائی میں استعمال کیا گیا ۔

مزید برآں مذکورہ سات (07) TM-11 درخواستوں کو مبینہ طور پر مقررہ سرکاری فیس وصول کیے بغیر سرکاری نظام میں پراسیس کیا گیا ، جب کہ ہر TM-11 درخواست کے پچھلے صفحے پر 3,000 روپے فیس کی اندراج موجود ہے ۔ یہ کارروائیاں مبینہ طور پر عباس شریف اور نصیر احمد خان ، آئی پی اسسٹنٹ اور ایگزامینر آف ٹریڈ مارکس کے ذریعے انجام دی گئیں ، جو اس وقت یومیہ اجرت (Daily Wage) پر ملازم تھے ۔

بعد ازاں تجمل حیدر اور طارق محمود کی جانب سے ایک انکوائری کی گئی ، جس میں متعلقہ افراد کو مبینہ طور پر بدعنوانی اور بدانتظامی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ۔ تاہم، ان نتائج کے باوجود  انکوائری رپورٹ کو مبینہ طور پر دبا دیا گیا ۔ ذمہ دار قرار دیے گئے افراد کے خلاف کوئی محکمانہ یا قانونی کارروائی نہیں کی گئی ۔ درخواست گزار کی جائز ٹریڈ مارک فائلوں کو غیر قانونی طور پر منجمد (Freeze) کر دیا گیا، جو آج تک منجمد ہیں ۔

دریں اثنا مذکورہ انکوائری کی مکمل فائل سرکاری ریکارڈ سے غائب کر دی گئی ہے ۔ یہ فائل نہ تو جسمانی (Physical) ریکارڈ میں دستیاب ہے اور نہ ہی ای آفس (E-Office) نظام میں موجود ہے ، حالانکہ متعلقہ وقت میں ای آفس مکمل طور پر نافذ اور فعال تھا ۔ اس قدر اہم سرکاری ریکارڈ کا غائب ہونا ریکارڈ کی شفافیت اور سالمیت کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے ۔

انکوائری فائل کا اس طرح غیر واضح طور پر غائب ہونا اس معقول خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ ممکنہ طور پر شواہد کو جان بوجھ کر چھپایا، ہٹایا یا تلف کیا گیا تاکہ ذمہ دار افراد کو احتساب سے بچایا جا سکے ۔

معلوم رہے کہ عباس شریف اور نصیر احمد خان، جو اس وقت آئی پی اسسٹنٹ اور ایگزامینر آف ٹریڈ مارکس کے عہدوں پر تعینات ہیں، ماضی میں یومیہ اجرت پر ملازم تھے اور بعد ازاں انہیں اس عہدے پر تعینات (Adjust) کیا گیا ۔ان کی تقرری کی قانونی حیثیت اور طریقۂ کار کا جائزہ متعلقہ مجاز اتھارٹی سے کرایا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں ۔

مذکورہ افراد کے بعض قریبی ساتھیوں کو بھی اسی نوعیت کی سہولت فراہم کی گئی ، جس کے نتیجے میں ٹریڈ مارکس رجسٹری کے اندر ایک ایسا گروہ وجود میں آیا جو مبینہ طور پر غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتا ہے اور ہیڈکوارٹرز کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے رجسٹری کے غیر جانبدار، شفاف اور قانونی طریقۂ کار کو متاثر کر رہا ہے۔

لہذاہ مجاز اتھارٹی اس معاملے کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرے تاکہ گمشدہ انکوائری ریکارڈ کی بازیابی اور پیشی کو یقینی بنائے، سرکاری ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل، انکوائری رپورٹ کو دبانے اور دیگر بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کا تعین کرے، درخواست گزار کی ٹریڈ مارک درخواستوں پر عائد غیر قانونی پابندی ختم کرے، اور قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف مناسب محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائے ۔

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ رجسٹرار / اسسٹنٹ رجسٹرار کے دفتر کی جانب سے یا تو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ان غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ پیدا ہوتا ہے، یا پھر وہ سرکاری کوڈز تک رسائی فراہم کر کے یا واضح بے ضابطگیوں کو نظر انداز کرکے ان اقدامات کی دانستہ اجازت دے رہے ہیں ۔

یہ تمام سرگرمیاں ایسے ملازمین کے پروبیشن (Probation) کے دوران انجام دی جا رہی ہیں، جب قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی اور نظم و ضبط کی توقع کی جاتی ہے۔ دیگر ملازمین کو معمولی نوعیت کی غلطیوں پر سخت نگرانی، وارننگز اور محکمانہ کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے برعکس، ان سنگین بے ضابطگیوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کو تحفظ اور سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جو امتیازی سلوک، دوہرے معیار (Double Standards) اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔

اس قسم کا انتخابی احتساب (Selective Accountability) نہ صرف انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے بلکہ ان دیانتدار ملازمین کے لیے شدید حوصلہ شکنی کا باعث بھی بنتا ہے، جو اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے انجام دیتے ہیں اور وقت کی پابندی کے ساتھ اپنی حاضری یقینی بناتے ہیں ۔

درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ دبائی گئی انکوائری کو فوری طور پر اعلیٰ ترین سطح پر دوبارہ کھولا جائے۔ مبینہ بدعنوانی، سرکاری ریکارڈ کے غائب ہونے، اور انتظامی حکام کے ممکنہ کردار کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں ۔ انکوائری فائل کے غائب ہونے کے معاملے کی سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل (Record Tampering) یا ریکارڈ کو دانستہ تلف کرنے (Destruction of Official Record) کے ممکنہ جرم کے طور پر مکمل تحقیقات کی جائیں ۔ انتظامی افسران، رجسٹرار اور اسسٹنٹ رجسٹرار کی سطح پر موجود متعلقہ حکام کے کردار، ذمہ داری اور ممکنہ غفلت یا شمولیت کا مکمل اور شفاف جائزہ لیا جائے، تاکہ ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

متعلقہ انکوائری سابق رجسٹرار محمد رفیق کی سربراہی میں کی گئی تھی، جبکہ طارق محمود، تجمل حیدر، ایڈمنسٹریٹو آفیسر آفتاب عالم اور ڈپٹی ڈائریکٹر (آئی ٹی) رضوان خان بھی اس انکوائری کا حصہ تھے ۔ مذکورہ انکوائری کے دوران متعلقہ افراد سے شواہد اور ریکارڈ حاصل کیا گیا اور انکوائری مکمل کی گئی۔

تاہم، درخواست گزار کے مطابق، مذکورہ انکوائری رپورٹ کو منظرِ عام پر نہیں لایا گیا، نہ ہی اس کی سفارشات پر کوئی کارروائی کی گئی، بلکہ مبینہ طور پر اسے دبا دیا گیا اور بعد ازاں انکوائری کا اصل ریکارڈ بھی سرکاری ریکارڈ سے غائب ہو گیا۔ ان حالات میں یہ معاملہ مکمل، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا متقاضی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ انکوائری رپورٹ کو کس کے حکم یا اختیار کے تحت روکا گیا، اسے سرکاری ریکارڈ کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا، اور اس کے ریکارڈ کے غائب ہونے کے ذمہ دار افراد کون ہیں ۔

NO COMMENTS

Exit mobile version