Home پاکستان مانسہرہ اسکول کے چوکیدار کی وزیرستان میں ٹرانسفر کر دی گئی 

مانسہرہ اسکول کے چوکیدار کی وزیرستان میں ٹرانسفر کر دی گئی 

ایبٹ آباد : ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبرپختونخوا نے چوکیدار نزاکت حسین کا تبادلہ وزیرستان میں کر دیا گیا ہے ۔ جس کو انتقامی کارروائی سے تعبیر کیا جا رہا ہے ۔

ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے آفس آرڈر نمبر A-20/Class-IV/Mansehra/Vol-I/2026/1 کیمطابق، GGHS اوگی مانسہرہ میں تعینات چوکیدار BPS-3 نزاکت حسین کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل ساؤتھ وزیرستان لوئر کے تصرف پر OSD تعینات کیا گیا ہے ۔

نذیر حسین اپنی ہی تنخواہ اور BPS-3 پر نئی تعیناتی پر کام کریں گے۔ متعلقہ افسران کو کمپلائنس رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کیمطابق اس تبادلے پر کوئی ٹریول الاؤنس یا ڈیلی الاؤنس نہیں دیا جائے گا۔

نزاکت حیسن گورنمنٹ گرلز ہائی سکینڈری اسکول اوگی میں 2022 میں چوکیدار بھرتی ہوا ۔ وہ اسکول کے قریب ہی رہائشی ہے۔ تاہم وہ اس کے باوجود بھی ڈیوٹی کرنے کے بجائے ضلع مانسہرہ کلاس فور ایسوسی ایشن کا نائب صدر ہونے کا رعب جھاڑتا تھا اور ڈیوٹی نہیں کرنا تھا ۔

نزاکت حسین اس سے قبل بھی ایک اور سرکاری محکمہ سے بھی نوکری سےفارغ کیا جا چکا ہے ۔ اسکول میں ڈیوٹی نہ کرنے کی وجہ سے اس کخلاف E&D رولز کے تحت انکوائری و کارروائی کی گئی ۔ اس کیخلاف ایک اور انکوائری 11 ستمبر 2025 کو بھی کی گئی ۔

نزاکت حسین کی تھانہ رپورٹ کے مطابق اس نے لوگوں کو نوکری اور دیگر جھانسے دیکر پیسے بھی لیئے ہیں جن کی شکایات تھانہ اوگی میں موجود ہیں ۔ جہاں اس پر مقدمات بھی ہوئے ہیں ۔ اسکول میں اس کی شکایات کی وجہ سے اس کو اسکول سے ریلیو کر کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس میں بھیج دیا گیا تھا ۔ ضلعی تعلیمی دفتر مانسہرہ کے افسران کے مطابق نزاکت حسین وہاں بھی تعینات ہونے کے باوجود ہفتہ میں ایک دن آفس میں آتا تھا ۔

ادھر محکمہ کی جانب سے جاری ہونے والی وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ نزاکت حسین کی ساؤتھ وزیرستان منتقلی کسی سیاسی دباؤ، سفارش یا مداخلت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے مسلسل غیر ذمہ دارانہ، غیر پیشہ ورانہ اور محکمانہ قواعد کے منافی طرزِ عمل کا منطقی اور قانونی انجام ہے ۔

موصوف نے طویل عرصہ تک سکول میں نظم و ضبط کو نقصان پہنچایا، پرنسپل کے جائز احکامات کی مسلسل نافرمانی کی، سرکاری ادارے کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھنے کی کوشش کی، اپنی فرائض منصبی سے غفلت برتی اور متعدد مواقع پر انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا کیں ۔

مزید برآں، خواتین اساتذہ کو ہراساں اور بلیک میل کرنے جیسے سنگین الزامات بھی سامنے آئے جنہوں نے ادارے کے تعلیمی ماحول کو بری طرح متاثر کیا ۔ پرنسپل نے انتہائی تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے اسے ڈی ای او آفس زنانہ مانسہرہ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی، تاہم وہاں بھی اس کے رویے میں کوئی مثبت تبدیلی نہ آئی۔

نتیجتاً مکمل محکمانہ کارروائی، انکوائری اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے اسے ساؤتھ وزیرستان منتقل کیا گیا ۔

NO COMMENTS

Exit mobile version