اتوار, جون 14, 2026

واٹر کارپویشن ہائیڈرنٹ کے ٹھیکیدار پر سیاسی شخصیت کو دو نلکے دینے کیلئے دباؤ

کراچی : واٹر کارپویشن کے سرکاری ہائیڈرنٹس کی نیلانی کے اشتہارات نہیں دییئے جا سکے ، سرکاری ٹھیکیداروں کو میٹر کے بجائے ایوریج بلنگ کی جا رہی ہے ۔ بعض ہائیڈرنٹس پر ٹینڈر سے ہٹ کر اضافی نل بھی قائم کر دیئے گئے ہیں ، سیاسی شخصیت کو نوازنے کے لئے حاجی غلام نبی کے ہائیڈرنٹ پر دو نلکے دینے اور بلنگ اپنے نام کرانے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق واٹر کارپوریشن کے سرکاری ہائیڈرنٹس کے ٹھیکوں کو دورانیہ مکمل ہونے کے باوجود نئے اشتہارات جاری نہیں کیئے جا سکے ہیں ، جس میں ہائیڈرنٹ سیل کی مکمل نااہلی سامنے آ رہی ہے ۔ واٹر کارپویشن کی جانب سے 29 مئی 2025 کو ٹینڈر کی میعاد ختم ہو چکی ہے ۔ جس کے باوجود نئے ٹینڈر ایک سال کا دورانیہ گزر چکا ہے ۔

جب کہ این ایل سی ہائیڈرنٹ کا معاہدہ اور ہائیڈرنٹس سیل میں ضم کرنے کا معاملہ بھی سرد خانے کی نذر ہو چکا ہے ۔ دوسری جانب واٹر کارپوریشن نے 7 ٹھیکیداروں کے ساڑھے پانچ ارب روپے سے زائد کے واجبات دینے ہیں جو گزشتہ کئی برس سے واجب الادا ہیں ۔ جس کے پھنس جانے کے خوف سے ٹھیکیدار خاموش ہیں ۔

ہائیڈرنٹس کی پانچویں مرتبہ دو سال کے لیئے نیلام عام کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا ۔ تاہم ابھی ایک سال سے نیا ٹینڈر جاری نہیں ہوا ہے ۔ اب سخی حسن ہائیڈرنٹ ، کرپشن پلانٹ کے دو ہائیڈنٹس اور شیر پاؤ ہائیڈنٹس پر بڑی گاڑیاں پانی کی فلنگ کرتی ہیں ۔

واٹر کارپوریشن نے گزشتہ ٹینڈر کے برعکس تمام ہائیڈرنٹس پر دو دو نلکے اضافی لگانے کی منظوری دی جس کے تحت کرپشن پلانٹ کے دونوں ہائیڈرنٹس پر ، صفورا ہائیڈرنٹ اور اس کے علاوہ نیپا ہائیڈرنٹس نے اپنے دو اضافی نلکے این ای کے سعدی ٹاؤن پر لگائے ہوئے ہیں ۔ تاہم اب واٹر کارپوریشن کی جانب سے حاجی غلام نبی اور سرمد سے کہا جا رہا ہے کہ وہ دو نلکے اپنے ہائیڈرنٹ پر ایک سیاسی شخصیت علی حسن بروہی کے منظور نظر شخص علی مرتضی کو دیں اور ساتھ ہی اس کی بلنگ بھی اپنی کمپنی کے نام پر کریں تاکہ اس کو ٹیکس میں چھوٹ بھی دی جا سکے ۔جس پر ابھی معاملات حل نہیں ہو سکے ہیں ۔

جس کی وجہ سے واٹر کارپوریشن کے حکام نے نیپا ہائیڈرنٹ کے مالک حاجی غلام نبی اور صفورا ہائیڈرنٹ کے مالک سرمد پر دباؤ بڑھانے کے لئے این ای کے سعدی ٹاؤن ہائیڈرنٹ بند کر دیا ہے ۔ اب پیغام یہ دیا جا رہا ہے کہ اگر بات نہیں مانی تو اس صورت میں نیپا اور صفورا سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے ۔

دوسری جانب سرکاری ٹھیکیداروں سے ہی اضافی طور پر رقم لیکر واٹر بورڈ کے اندر ٹینکروں کے لئے آن لائن بنایا جانے والے سسٹم کے ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کی جاتی ہے جس کا کوئی آڈٹ نہیں ہوتا ہے ۔ اور سرکاری ادارے میں تنخواہیں کیش میں دی جاتی ہیں جو غیر قانونی ہے ۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://www.azmatnama.com/
عظمت خان ، کراچی بیسڈ صحافی ہیں ، 2 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔ وفاقی اردو یونیورسٹی سے صحافت میں گولڈ میڈلسٹ ہیں ، ترکی اور بنگلہ دیش سمیت دیگر بین الاقوامی سطح پر رپورٹنگ بھی کر چکے ہیں ۔ گزشتہ 12 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی رپورٹنگ فیلڈ میں تعلیم و صحت ، لیبر ، انسانی حقوق ، اسلامی جماعتوں سمیت RTI سے معلومات تک رسائی جیسی اہم ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ 10 برس تک روزنامہ امت میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اب ڈیجیٹیل سے جرنلزم کر رہے ہیں
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں