Home تازہ ترین گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں

گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں

گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں اور انتظامی تضاد ؛ دوہرے قوانین کے نفاذ پر سینئر افسران کا وزیراعلیٰ سے مداخلت کا مطالبہ

ڈیرہ اسماعیل خان : گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں جاری حالیہ انتظامی بحران، پسند و ناپسند کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں اور ایک ہی ادارے میں دو متضاد قوانین کے نفاذ کے خلاف سینئر افسران نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے نام ایک کھلا خط جاری کر دیا ہے، جس میں یونیورسٹی انتظامیہ اور وائس چانسلر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مساوی انصاف کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ گومل یونیورسٹی میں اس وقت احتساب کے نام پر بدترین انتظامی تضاد رائج ہے۔ امتحانات، الحاق شدہ کالجز اور مالی معاملات کے نام پر بنائی گئی ایک "لوکل انکوائری کمیٹی” کی سفارشات کو جواز بنا کر یونیورسٹی کے دو سینئر ترین ایڈمن آفیسرز، ریاض احمد بیٹنی اور وسیم خان کو انکوائری کے خطوط جاری ہونے سے پہلے ہی معطل اور جبری رخصت پر بھیج دیا گیا، جبکہ یونیورسٹی قوانین کے تحت ایسی لوکل کمیٹی کی سفارشات پر سزا دینے کا کوئی قانونی جواز ہی موجود نہیں ہے۔

ملازمین کے مطابق ریاض احمد بیٹنی کے پاس پشاور ہائی کورٹ ڈی آئی خان بینچ کے واضح سٹے آرڈرز (No adverse action) بھی موجود ہیں، جن کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔ متاثرہ افسران کا کہنا ہے کہ ان کا نام جعلی ڈگری اسکینڈل میں بدنیتی کی بنیاد پر صرف کردار کشی کے لیے ڈالا گیا ہے، جبکہ وہ اپنی 24 سالہ سروس میں ایک دن بھی امتحانات (Exams) کے شعبے میں نہیں رہے اور نہ ہی انہیں آج تک کوئی چارج شیٹ یا اسٹیٹمنٹ آف ایلی گیشنز فراہم کی گئی ہے۔ لوکل انکوائری کی سفارشات اور سنڈیکیٹ کے منٹس کو بھی جان بوجھ کر خفیہ رکھا جا رہا ہے۔

کھلے خط میں یونیورسٹی انتظامیہ کے دہرے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک طرف لوکل کمیٹی کی غیر قانونی سفارشات پر سینئر افسران کو نشانہ بنایا گیا، تو دوسری طرف صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جاری اعلیٰ سطحی انکوائری میں نامزد مرکزی اور کلیدی ملزمان بشمول ایکٹنگ رجسٹرار ظاہر شاہ مروت اور نگران دور کے بھرتی ہونے والے ساجد معین بدستور اپنے اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔ ان کے خلاف نہ تو کوئی معطلی کی کارروائی کی گئی اور نہ ہی انہیں جبری رخصت پر بھیجا گیا، بلکہ وہ اپنی پوزیشنز کا فائدہ اٹھا کر اینٹی کرپشن کو اپنا ڈیٹا فراہم کر رہے ہیں۔

ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ تمام تماشا اور غیر قانونی معطلیاں صرف اس لیے کی جا رہی ہیں تاکہ سینئر افسران کو راستے سے ہٹا کر وائس چانسلر کے "من پسند اور بوگس لاڈلے” ظاہر شاہ مروت کا نام ریگولر رجسٹرار کی لسٹ میں ٹاپ پر لایا جا سکے، جو خود چار مختلف انکوائریوں کے باوجود ایکٹ کے سیکشن 13 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی سالوں سے سیٹ پر قابض ہیں۔

خط میں وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال کی غیر جانبداری پر شدید حملے کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے ایک متنازع سلیکشن بورڈ کے ذریعے تھوک کے حساب سے من پسند افراد کو گریڈ 18، 19، 20 اور 21 میں غیر قانونی ترقیاں دیں، اور انکوائری کمیٹی کے ممبران کو بھی اگلے گریڈز سے نوازا تاکہ وہ مرضی کی رپورٹ تیار کریں۔ اس میگا اسکینڈل کو چھپانے کے لیے یونیورسٹی کی ساکھ داؤ پر لگا کر "جعلی ڈگریوں کا مصنوعی اسکینڈل” گھڑا گیا تاکہ رائے عامہ کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے۔

مزید برآں، یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ جب ایک سینئر صحافی نے ظاہر شاہ مروت کے خلاف اینٹی کرپشن میں درخواست دی، تو گومل یونیورسٹی سے ملازمین کا ایک جتھہ اس صحافی کے دفتر پر حملہ آور ہونے پہنچا، جس کی درخواست سٹی تھانے میں جمع ہے لیکن وائس چانسلر نے اس غنڈہ گردی پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ خط میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ بینک اکاؤنٹس کے آپریشنز اور کالجوں کے الحاق (Affiliation) کے معاملات بالترتیب وائس چانسلر، ڈائریکٹر فنانس اور رجسٹرار کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، تو مالی و انتظامی بے ضابطگیوں پر ان سے کوئی جوابدہی کیوں نہیں کی جا رہی؟

یونیورسٹی کے ملازمین نے صوبائی وزیر مینا خان اور وزیراعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ گومل یونیورسٹی میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے فوری ایکشن لیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال اور ایکٹنگ رجسٹرار ظاہر شاہ مروت کو فوری معطل کر کے جبری رخصت پر بھیجا جائے، اور یونیورسٹی کے انتظامی امور کو چلانے کے لیے سیکریٹریٹ سے کسی قابل افسر کو ریگولر رجسٹرار تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ وائس چانسلر کا ایکٹنگ چارج کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان کے سپرد کیا جائے تاکہ ادارے کی ساکھ بچائی جا سکے۔

NO COMMENTS

Exit mobile version