تحرير : فارينہ حيدر
ٹیسوری کے جانے پر ایم کیو ایم پاکستان شدید مایوسی کا شکار ہوگئی ہے اسلیے وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونے کا ڈروا دے رہی ہیں ،لیکن کیا آپ جانتے ہیں کراچی صوبے کا دعویدار مہاجروں کا نجات دہندہ ، بھائی کی دو نمبر ڈپلیکیٹ کاپی ٹیسوری ان ہی کے لئیے ناسور تھا ۔
سب سے بڑا ناسور تو یہ کراچی یونیورسٹی کے لییے تھا اس کے آنے کے بعد جامعہ کراچی باقاعدہ کال گرلز کا اڈہ بن گئی ۔ رات گیارہ ںارہ بجے تک وہ کال گرلز جنھیں جامعہ کے باہر کھڑا ہونا تھا وہ سکون سے اندر اسٹوڈنٹ کے نام پر بیٹھی رہتی ہیں ۔اس نے وزیراعلی کے ساتھ مل کر prostitutes کو نہ صرف نوکریاں دی بلکہ انہیں گریڈ بیس اور اکیس تک صرف چار سال کے عرصے میں لے کر گیا ۔ خالد عراقی جیسا سرٹیفائیڈ ریپسٹ اور نجیب جیسا دلا آج بھی عہدوں پر براجمان ہے ۔
وائس چانسلر خالد عراقی ، مرحوم وائس چانسلر ظفر زيدی کے دور ميں ، جامعہ کراچی داخلے کے لئے آنے والی طالبہ کو انگريزی ڈپارٹمنٹ کے ايک ٹيچر کے ساتھ مل کر ، اسٹاف ٹاؤن کے ڈبل ڈی گھر ميں دھوکے سے لے گئے خالد عراقی کو لڑکی کے بھائی کی شکايت پر برہنہ حالت ميں فرار ہوتے ہوئے رينجرز نے پکڑا تھا، مگر پھر يونيورسٹی کے دلال ٹيچرز ، جن ميں پروفيسر سليم ميمن، مر حوم پروفيسر شکيل فاروقی،پروفيسر محمود برکاتی ، ڈاکٹر ابو زرواجدی، اور اسٹينٹ رجسٹرار خالد جامعی نے وائس چانسلر پر دباؤ ڈال کر خالد عراقی کو رينجرز سے رہا کروايا کہ ، خالد عراقی کی بطور ٹيچر گرفتاری سے جامعہ کراچی بد نام ہوگی، ان تمام دلال قسم کے ٹيچروں نے جو ايم کيو ايم سپورٹر تھے ، طے کروايا کہ عراقی اسٹاف ٹاؤن کا گھر خالی کردے گا،مگر وائس چانسلر زيدی کے انتقال کے باعث معاملہ دبا ديا گيا اور بعد ميں ، ظلم کی انتہا ديکھيئے ، ايک زانی اور شرابی کو جامعہ کراچی کا وائس چانسلر لگا ديا گيا،
ڈاکٹر قدير خان سے موسوم کبجی ميں وائس چانسلر کے عياشی اور مے نوشی کے اڈے سے جامعہ کراچی کے طلبہ اور اساتذہ سب واقف ہيں،
جامعہ کراچی کے ہر شعبے میں ایک ریٹائرڈ فوجی چپکے سے بیٹھایا جسے عمران خان کے وقت میں بھگانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کا کام جامعہ میں کام کرنے والی لڑکیوں کی رپورٹنگ اوپر تک کرنا تھا یعنی سادہ الفاظ میں کہے تو دلہ گیری کرتے تھے۔آفیشلی وہاں رینجرز موجود ہے اس لییے خفیہ طور پر کسی ریٹائرڈ بوڑھے کو یہاں بیٹھنے کا جواز نہیں بنتا تھا لیکن پھر بھی انہیں دس سال سے پکا بیٹھایا گیا ہے ۔
جامعہ کراچی کی ملازمت میں سالوں سے اپنے مسئلے کو حل کرنی کوشش کر رہی ہوں لیکن جب کام آگے بڑھاتی ہوں تو معلوم ہوتا کہ جی آپ کو آنے نہیں دے گے وجہ پوچھتی تو کہتے جان کا خطرہ ہے پھر میں نے کہا رینجرز بیٹھی ہے پھر کیا مسئلہ ہے تب معلوم ہوتا ریٹائرڈ فوجی، کمانڈر لیول تک کے بیٹھے ہیں وہ دوسری جگہ سے آئے ہیں وہ بھی کھاتے ہیں ان کو بھی لڑکیاں چاہیے ۔
اب ان سب کی بے غیرتی کا لیول چیک کریں پیسہ ، عورت زمین جامعہ کراچی سے چاہیے جب کہ صرف اپنی ملازمت پوری ہی نہیں کی اپنی عمریں بھی پوری کر چکے ہیں۔ ساٹھ سے اوپر کے بوڑھے ،ستر بہتر سال سے کسی طرح کم نہ ہوگے زمانے کے رولے پیٹے ان کی شکلیں دیکھوں تو خدا کی پھٹکار برس رہی ہے لیکن گورنر وزیر مشیر سب ساتھ ہے تو بس چکلا چلا رہے ہیں ۔بھئی تمھیں چکلا چلانا ہے تو ان لوگوں کی پارٹیاں جوائن کروں وہاں بیٹھوں اپنے جیسے لوگوں میں، پھر چلا کر دکھاوں یہاں شریف لوگوں میں بیٹھ کر کیا بدمعاشی دکھا رہے ہوں ۔
پچھلے دنوں میں نے جو جامعہ کراچی پر مضمون لکھے تو سندھ یونیورسٹی سے لیکر لسبیلہ یونیورسٹی تک وی سیز پر ایکشن ہوا جو ڈائرکٹ بھرتیاں ہوئی تھی وہ بھی رول بیک ہوگئی پر جس معاملے کو جوں کا توں رکھا ہوا ہے وہ میرا مسئلہ ہے یعنی جامعہ کراچی والا اس کو کوئی ٹچ نہیں کر رہا کیونکہ کراچی کی لڑکی کہہ رہی ہے کہ چکلا بند کرو ۔اگر کراچی کی لڑکی کے کہنے پر چکلہ بند کردیا اور اس کو جوائننگ دے دی تو ان سارے غلیظ بوڑھوں کو جامعہ کراچی ہمیشہ کے لئیے چھوڑنی پڑے گی پھر یہ لوگ یہاں نہیں بیٹھ سکتے جیسے مڈل ایسٹ سے ہمیشہ کے لئیے امریکی اڈے ختم ہورہے ہیں ایسے حالات ميں بھی یہ پاکستانی بڈھے پروفيسر جامعہ کراچی کا اڈہ چھوڑ کر بھاگنے کے لئے تيار نہيں ہيں۔
چند ہفتوں پہلے نیا کٹا کھلا کہ آپ جو کہتی ہے یہ لوگ جادو کرتے ہیں تو وہ صحیح کہتی ہے۔ وی سی سمیت اس کے سارے حمایتی الیموناٹی ہے یعنی ایپسٹین والے ۔ ان کا نیٹ ورک بھی ہے کراچی میں دو تین جگہ ان کا اڈہ بھی ہے ہر ہفتے وہاں اپنی عبادت کے لییے جاتے ہیں یہ جو بال کا مجسمہ کورنگی سے ملا ہے وہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔
جب میں اتنی ساری باتیں سنتی ہوں تو اس کا ایک ہی جواب میرے پاس ہوتا ہے کہ بھئی میں تو صرف اپنا معاملہ جانتی ہوں ۔مجھے یہ معلوم ہے میرا کام پھنسا ہوا ہے یہ لوگ جو بھی کچھ کر رہے ہیں ان کے خلاف کام کرنا متعلقہ اداروں کا کام ہے میرا نہیں ساری دنیا میری زمہ داری نہیں اللہ نے نظام چلانا ہے مجھے بھی اسی نظام میں جینا ہے ۔ دنیا میں، میں بھی اسلئیے آئی ہوں کہ باقی لوگوں کی طرح اپنا حصہ وصول کروں چاہے انکم کی شکل میں ہو لوگوں کے ساتھ تعلقات کی شکل میں یا ایک نارمل زندگی کی شکل میں، اب اس چکی میں کون کون پیستا ہے وہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ جس نے جو کیا ہے وہ اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ہم نہیں ہے ۔ ہم نے اچھے اعمال کیے ہیں اپنے آپ کو برائیوں سے گندگی سے بچایا ہے محنت کی ہے ہمارا reward تو بنتا ہے جس کی جو چوائس تھی اس نے کیا اب خود بھگتے ، عیش بھی تو تم نے ہی کیے ہم نے تو نہیں کیے ہماری تو ماں کے علاج تک کے پیسے نہیں چھوڑے ۔ اس لئیے آگے کسی کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں خاص کر مجھ پر تو کسی کو نظر رکھنے کی ضرورت نہیں ۔
لہٰذا ٹیسوری کے جانے پر مجھے تو کوئی افسوس نہیں کیونکہ اپنا حصہ تو وہ لے گیا آگے بھی پینشن کی شکل میں لیتا رہے گا لیکن میرا کام ہونا باقی ہے اور میرے دشمن بھی واضح ہے اس لییے ٹیسوری کے جانے کے بعد پہلا کام تو یہی ہونا چاہیے کہ اس گندی نسل کا جامعہ سے صفایا کریں تاکہ ہم اپنے کام پر واپس جائے۔ میری جوائننگ روک کر یہ بڈھے بیٹھے رہے گے عیاشی مارتے رہے گے چکلہ چلاتے رہے گے ۔
نوٹ : ادارے کا رائیٹر کی تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔ یہ رائیٹر کی ذاتی چوائس ہے ۔
