ہری پور : خیبر پختون خواہ کے ضلع ہری پور کی پولیس اب تک 10 کے لگ بھگ صحافیوں کے خلاف 2 درجن سے زائد مقدمات درج کر چکی ہے ، پولیس عوام کے خلاف جھوٹی ، سفارشی اور مبینہ طور پر رشوت وصولی کے بعد مقدمات درج کرتی ہے ، مقامی سطح پر جان پہچان کی وجہ سے صحافی جلدی خبر کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں اور اصل معاملات کو سامنے لے آتے ہیں جس کی وجہ سے پولیس کو عوامی اور اعلی حکام کی نظر میں جوابدہ ہونا پڑتا ہے اور خفت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔ جس کا غصہ وہ صحافیوں پر "ناجائز پولیسنگ” کی صورت میں نکالتے ہیں ۔
ہری پور پولیس کی جانب سے سرکاری سطح پر ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں ایک اور صحافی کو NCCIA کی کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے ۔ اس حالیہ واقعہ کو ہی دیکھ لیں تو پولیس کی صحافیوں کے خلاف پولیس گردی کا پول کھل جائے گا ۔
لڑکی اور لڑکے نے 25مارچ کو کورٹ میرج کی ،نکاح کے کاغذات تھانہ سٹی میں 25 مارچ کو دوپہر 12 سے سہہ پہر 3 بجے ہی دولہے کے بھائی نے ریسیو کرا دیئے تھے ، جس کے بعد 25 مارچ کو اسی تھانہ سٹی میں لڑکی کے والدین کی مدعیت میں لڑکے کیخلاف اغوا کا مقدمہ درج کر لیا گیا ۔ جس کے بعد منکوحہ جوڑے کی دوبارہ عدالت سے استدعا کے بعد اغواء کا مقدمہ ہی خارج کر دیا گیا ۔
بعد ازاں صحافیوں نے پولیس کو موصولہ درخواستوں کی ٹائمنگ ‛ FIR میں کی گئی غلطیوں اور DSP کی ملی بھگت کو تعلقات کو بے نقاب کیا تو پولیس کی جانب سے ایک سرکاری وضاحت دیتے ہوئے مذکورہ کیس کو نمایاں کرنے والے صحافی کو پیکا ایکٹ کے تحت NCCIA میں مقدمہ درج کرانے کی دھمکی بھی دے ڈالی ہے ۔
عمران خان کی پارٹی کی حکومت کے دوران ہری پور میں پولیس اب تک 10 کے لگ بھگ صحافیوں پر دو درجن کے قریب مقدمات درج کر چکی ہے ۔ جن میں کرائم بیٹ کے منجھے ہوئے صحافی حارث ایوب سواتی کیخلاف 14 سے زائد مقدمات درج ہیں جن سے 12 مقدمات جھوٹے ثابت ہونے پر حارث ایوب سواتی بری ہو چکے ہیں اور بقیہ دو کیسز میں ضمانت پر ہیں ۔
جن صحافیوں پر مقدمات ہوئے ان میں حارث ایوب سواتی (عکس آئینہ ، آج صبح پشاور) پر 12 سے 14 مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات درج کیئے جن میں 10 سے 12 مقدمات میں باعزت بری ہو چکے ہیں اور باقی دو ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہو چکی ہے اور اب حارث ایوب سواتی کے خلاف NCCIA میں مقدمے کی دھمکی دی گئی ہے ۔
اس کے علاوہ شاہد اختر اعوان (پی ٹی وی ، ہم گواہ اخبار ) پر پیکا ایکٹ کے تحت پولیس نے خود مقدمہ درج کیا ۔حافظ جاوید الحق (پائن نیوز ، ہزارہ ایکسپریس ) پر پیکا ایکٹ کے تحت NCCIA نے مقدمہ درج کیا ، ڈاکٹر آصف اقبال (بول نیوز )پر گندم اسکینڈل کیس کی خبریں شائع کرنے پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔ ذاکر تنولی ( کے ٹوٹی وی ) کیخلاف پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ حنیف اختر (آج اخبار) پر پولیس کی مدعیت میں 302 کا مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ وقار علی (آج نیوز) پر مقدمہ درج کیا گیا ۔ توقیر احمد (آج نیوز ) پر بھی پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا ۔ ناصر شاہ (ہزارہ ایکسپریس) چوری کی بجلی کی رپورٹنگ کے دوران ہی مقدمہ درج کیا اور دوسرا مقدمہ 302 کا بھی درج کیا گیا تھا ۔
ادھر صحافتی تنظیموں نے DIG ہزارہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں پر مقدمات درج کرنے کا مقصد انہیں ہراساں کرنا ہے ۔ جرنلسٹ پروٹیکشن ایکٹ کے مطابق کسی بھی صحافی پر براہ راست مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا مقصد آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 میں دی گئی لکھنے بولنے کی آزادی کو سلب کرنا ہے ۔ جس کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی ۔
