جمعرات, اپریل 16, 2026

لاہور : ای او بی آئی افسر سرکاری گاڑی غیر قانونی استعمال کرنے لگا

لاہور : ای او بی آئی افسر ابوبکر سلیم غیر قانونی طور پر ادارہ کی سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے لگا، اعلیٰ افسران کی پشت پناہی حاصل ہے ۔

ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن میں لاقانونیت عروج پر پہنچ گئی ہے جہاں گزشتہ ڈیڑھ برس سے کوئی مستقل چیئرمین نہ ہونے کے باعث بعض بااثر افسران شتر بے مہار ہوگئے ہیں۔

بدعنوان افسران کے بروقت ڈیوٹی پر نہ آنے، من مانے طریقہ سے رخصت پر چلے جانے اور کنٹری بیوشن کی مد میں رجسٹرڈ آجران اور پنشنرز سے بھاری رشوت ستانی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔لیکن ان بدعنوان عناصر کو لگام ڈالنے والا کوئی نہیں ۔

ذرائع کے مطابق حال ہی میں ای او بی آئی نے بورڈ آف ٹرسٹیز کی منظوری سے ڈائریکٹر کی سطح کے اعلیٰ افسران کے لئے 32 کروڑ روپے مالیت کی برانڈ نیو سوزوکی گاڑیاں خریدی ہیں جبکہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق پرانی گاڑیوں کو ہیڈ آفس کے ٹرانسپورٹ پول میں حفاظت سے رکھنے اور ان کے فوری آکشن کے بجائے مختلف شہروں میں تعینات لاڈلے افسران ان سرکاری گاڑیوں کو غیر قانونی طور پر استعمال کرنے میں مصروف ہیں جبکہ ان گاڑیوں کی مرمت اور سینکڑوں لٹر پٹرول اور مینٹیننس کے بھاری اخراجات ای او بی آئی کو برداشت کرنے پڑ رہے ہیں ۔

ای او بی آئی میں جونیئر افسران کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کا بے دریغ استعمال حالیہ امریکا ایران کشیدگی کے دوران پٹرول کی بلند ترین قیمتوں اور وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی جانب سے سرکاری اداروں کو سادگی اختیار کرنے کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔

باخبر ذرائع کے مطابق لاہور کے بی اینڈ سی ڈپارٹمنٹ میں تعینات ایک لاڈلہ افسر ابوبکر سلیم ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس جو لاہور میں ای او بی آئی کے ایڈہاک چیئرمین ڈاکٹر جاوید احمد شیخ کا منظور نظر پروٹوکول افسر بھی ہے، ادارہ سے ماہانہ 300 لٹر پٹرول پر مشتمل ٹرانسپورٹیشن الاؤنس کی وصولی کے ساتھ ای او بی آئی کی متعدد سرکاری گاڑیوں سے بھی پوری طرح لطف اندوز ہو رہا ہے ۔

بتایا جاتا ہے کہ اس کے گھر میں گاڑی کی پارکنگ کی جگہ میسر نہیں جس کے باعث اس کے زیر استعمال سرکاری گاڑی نمبر LEJ-1182 پوری رات کینال روڈ پر لاوارث کھڑی رہتی ہے جس کے نتیجہ میں اب تک ابو بکر سلیم ڈپٹی ڈائریکٹر کے غیر قانونی طور پر زیر استعمال تین سرکاری گاڑیوں کی بیٹریاں چوری ہو چکی ہیں ۔

جبکہ ذرائع کے مطابق یہ سرکاری گاڑی ماضی میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی لاہور کے زیر استعمال رہی ہے جسے انہوں نے نئی گاڑی فراہم ہونے کے بعد ادارہ کو واپس کر دیا تھا ۔

بتایا جاتا ہے کہ محمد ابوبکر سلیم فنانس کیڈر کا افسر ہے اور اس کا اصل مقام تعیناتی فنانس ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کراچی کے لیکن اس نے ایک بھاری سفارش پر لاہور میں اپنی تعیناتی کرائی ہوئی ہے پچھلے دنوں شاہدرہ جعلی پنشن کیس میں ملوث ہونے پر اس کی سخت سرزنش ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود اس کی غیر قانونی سرگرمیوں میں کوئی فرق نہیں آیا ۔

واضح رہے کہ ای او بی آئی کی ایک سو سے زائد قیمتی سرکاری گاڑیوں کا انچارج محمد نعیم شوکت ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کراچی اور غلام اصغر شیخ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ ہیں جو اپنے ذاتی مفادات اور دوستیاں نبھانے کے لئے ملک کے مختلف شہروں میں تعینات ای او بی آئی کے بعض بااثر افسران کو ناصرف سرکاری گاڑیوں سینکڑوں لٹر پٹرول کی سہولت سے نوازتے رہے ہیں بلکہ ایک عرصہ سے لاہور میں ابوبکر سلیم ڈپٹی ڈائریکٹر کی جانب سے ای او بی آئی کی متعدد پرانی گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال، پٹرول کے بھاری اخراجات اور گاڑیوں سے قیمتی سامان کی چوری پر مکمل چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://www.azmatnama.com/
عظمت خان ، کراچی بیسڈ صحافی ہیں ، 2 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔ گزشتہ 12 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی رپورٹنگ فیلڈ میں تعلیم و صحت ، لیبر ، انسانی حقوق ، اسلامی جماعتوں سمیت RTI سے معلومات تک رسائی جیسی اہم ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ 10 برس تک روزنامہ امت میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اب ڈیجیٹیل سے جرنلزم کر رہے ہیں
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں